حکومت طاہر القادری سے معاہدے کو قانونی شکل دینے پر آمادہ اعلان 10دن میں ہوگا

آئین سے باہر نہیں جائیںگے،کائرہ، کسی بھی معاملے پر عدالت جانے کا حق ہے ، طاہرالقادری

لاہور: طاہر القادری مذاکرات کے بعد قمر زمان کائرہ ، ڈاکٹر فاروق ستار، امین فہیم اور چوہدری شجاعت کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی

وفاقی حکومت کی ٹیم اور تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان مذاکرات میں آئندہ7 سے10 روز میں اسمبلیاں تحلیل کرنے اور عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کے اعلان پر اتفاق ہو گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ انتخابات90 روز کے اندر کرائے جائیںگے، امیدواروں کیا سکروٹنی کیلیے لازماً 30 روز دیے جائیںگے۔

وفاقی حکومت نگراں وزیر اعظم اور نگراں وزرائے اعلیٰ کے ناموں پر پاکستان عوامی تحریک سے مشاورت کریگی۔ مذاکرات میں الیکشن کمیشن کی تحلیل اور وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ کے صوابدید ی اور ترقیاتی فنڈز منجمد کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ طاہر القادری نے کہاکہ فنڈز کا اجرا رکنے اور الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ممبرز کی تعیناتی کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے سمیت کوئی بھی ایکشن لینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ حکومت اورڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کا اعلان 31جنوری کو کیا جائیگا۔ اتوار کو تحریک منہاج القرآن کے لاہور میں مرکزی سیکریٹریٹ میں5 گھنٹے مذاکرات ہوئے۔

حکومتی ٹیم میں چوہدری شجاعت، امین فہیم، قمر زمان کائرہ، خورشید شاہ، فاروق ستار، بابر غوری، افراسیاب خٹک اور دیگر شامل تھے۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو مشترکہ بریفنگ دیتے ہوئے طاہر القادری نے کہا کہ یہ اسلام آباد ڈیکلریشن کے فالواپ کا پہلا اجلاس تھا۔ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ انتخابات 90روز میں کرانے کیلیے اسمبلیاں16مارچ سے قبل ہر صورت تحلیل کر دی جائینگی، 30روز امیدواروں کی اہلیت جانچنے اوراسکروٹنی کیلیے دیے جائینگے، اسمبلیوں کی تحلیل اور انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان آئندہ7 سے 10 روز میں کر دیا جائے گا۔

امیدوار کلیئرنس ملنے کے بعد انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے، نگراں سیٹ اپ کے آنے سے قبل اس اعلامیے کو قانونی حیثیت دیدی جائیگی تاکہ اس اعلامیے کے حوالے سے تمام شکوک وشبہات کا سدباب ہو۔ طاہر القادری نے کہا کہ نگران وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کا انتخاب حکومت اور اسکے اتحادیوں اور پاکستان عوامی تحریک کے اتفاق رائے سے ہو گا، مذاکرات میں3 نکات پر مکمل اتفاق رائے ہوا تاہم الیکشن کمیشن کی تحلیل پر ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ہمیں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی غیر جانبداری پر کوئی شک اور اختلاف نہیں لیکن جہاں تک کمیشن کے چاروں صوبائی ارکان کا تعلق ہے تو اس میں آئین کے آرٹیکل213کا پاس نہیں رکھا گیا۔




ان ارکان کی تقرری کیلیے پارلیمانی کمیٹی نے سماعت ہی نہیں کی جس کی بناء پر الیکشن کمیشن خلاف آئین ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک اور حکومتی ٹیم کے درمیان عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق77سے82 تک مکمل اتفاق رائے ہے لیکن 218(3) میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل میں تمام امیدواروںکو برابر کا میدان دینے کیلیے فنڈز کا اجرا روکا جائے۔ وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز اور تمام ترقیاتی اسکیموں کیلیے فنڈز کو آج ہی منجمد کیا جائے۔

صرف بلوچستان میں ارکان اسمبلی کو30، 30 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے، کوئی عام آدمی کیسے انتخابات میں ان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے حساب کے مطابق اراکین کو 15 سے 25ہزار ارب روپے کے فنڈز ملنے ہیں، یہ فنڈز بجلی اور گیس کے بحران ختم کرنے کیلیے مختص کیے جائیں۔ ان فنڈز کو بجلی، گیس، دال، گھی، چاول، آٹے اور چائے کی قیمتوںمیں50 فیصد کمی کیلیے سبسڈی کی مد میں خرچ کیا جائے۔ اسلام آباد ڈیکلریشن پر دستخطوں کے بعد اب عدلیہ یا فوج کی گارنٹی کی ضرورت نہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ وکلاکی کمیٹی نے اپنی تحریری سفارشات وزیر قانون کو بھجوا دی تھیں جس پر کوئی اختلافی نوٹ نہیں۔

ہم آئینی طور پر الیکشن کمیشن کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کو منسوخ نہیں کر سکتے۔ حکومت آئین کی پابند ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ اس حوالے سے پاکستان عوامی تحریک اپنے نقطہ نظر کو ہر پلیٹ فارم پر لائے گی لیکن وہ فورم دھرنے والا نہیں ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل62 63, کا نفاذ الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔ نگران حکومت کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن عملی طور پر متحرک ہو جائیگا اور آئین کی تمام شقوں پر خود غور کریگا اور ایکشن لے گا۔ پارلیمنٹ اور حکومت کو کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اس وقت کئی ترقیاتی اسکیمیں جاری ہیں اور کئی اسکیموں پر70 سے 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

جب انتخابات کا اعلان ہو جائیگا تو ہم بھی پاکستان عوامی تحریک کیساتھ ملکر ان نکات پر عملدرآمد کرانے کی کوشش کرینگے اور اگر الیکشن رکوانے کی کوشش ہوئی تو ایسی قوت کا ہم سب ملکر مقابلہ کرینگے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے کوئی ڈیڈلاک نہیں۔ اسمبلیوں کو ایک ہی دن تحلیل کرنے پر اتفاق ہے، اپوزیشن کو بھی اس پر متفق کرنیکی کوشش کریں گے۔ جہاں تک پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا سوال ہے تو پہلے بھی کہہ چکے ہیں چوہدری نثارکا بہت سے مواقع پر موقف پارٹی موقف نہیں ہوتا بلکہ انکی ذاتی رائے ہوتی ہے۔ ہم اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف سے بات کریں گے اور اتفاق رائے کی کوشش کرینگے۔

دریں اثنا مذاکرات سے قبل طاہر القادری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وزیر قانون فاروق نائیک کے نہ آنے پر مذاکرات میں احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ طاہر القادری نے فاروق نائیک کے مذاکرات میںشریک نہ ہونے پر چوہدری شجاعت سے بھی احتجاج کیا۔ مذاکرات سے قبل چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین نے ماڈل ٹائون میں طاہر القادری سے غیر رسمی ملاقات کر کے مشاورت کی جبکہ حکومتی رہنمائوں کے درمیان گورنر ہائوس میں مشاورت ہوئی۔

دریں اثناء گورنر پنجاب سے وفاقی وزراء مخدوم امین فہیم، قمر زمان کائرہ، خورشید شاہ اور بابر غوری نے گورنر ہائوس میں ملاقات کی اور ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات سے قبل تفصیلی مشاورت کی۔ ادھر سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی صاحبزادہ عثمان عباسی نے بھی گورنر سے ملاقات کی اور جنوبی پنجاب صوبہ کے معاملے پر مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہائی کروائی، گورنر پنجاب نے ان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔

Recommended Stories

Load Next Story