حصص مارکیٹ میں بدترین مندی ریکارڈ1811 پوائنٹس کمی 326ارب کا نقصان

غیرملکیوں سمیت بیشترسرمایہ کاروں نے سرمایہ نکال لیا۔

انڈیکس کئی حدیں گنواکر48481 پرآگیا،394 میں سے352کمپنیوں کی قیمتوں میں کمی۔ فوٹو : فائل

وفاقی بجٹ میں ڈیویڈنڈ پر ٹیکس کی شرح2.5 فیصداضافے سے 12.5 سے 15فیصد کرنے کے باعث حصص کی فروخت میں شدت بڑھتی جارہی ہے، غیرملکیوں سمیت دیگر شعبوں کی جانب سے بعدازبجٹ تسلسل کے ساتھ سرمائے کا انخلا برقرار رہنے سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کوبھی معمولی اتارچڑھاؤ کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بارریکارڈ نوعیت کی مندی رونما ہوئی۔

رواں ہفتے کے ابتدائی 3 سیشنز پیر منگل اوربدھ کومجموعی طور 3.5 فیصد کی مندی رونما ہوئی جبکہ جمعرات کو صرف 1دن میں4.4 فیصد کی بڑی نوعیت کی مندی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے انڈیکس کی50000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد کے علاوہ 49000 پوائنٹس کی حد بھی گرگئی، مندی کے سبب89.34 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کی ملکی تاریخ میں پہلی بار 1روزہ کاروبار میں3 کھرب26 ارب 24 کروڑ58 لاکھ61 ہزار36 روپے ڈوب گئے۔


کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر 49.82 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی50641 پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی تھی لیکن اس دوران غیرملکیوں سمیت سرمایہ کاری کے بیشترشعبوں کی جانب سے اندھادھند حصص کی فروخت نے کیپٹل مارکیٹ کوبحران سے دوچار کردیااور بڑی نوعیت کی مندی رونما ہوئی۔ جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1810.76 پوائنٹس کی کمی سے 48480.81 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 1081.59 پوائنٹس کی کمی سے25607.37 ، کے ایم آئی 30 انڈیکس 3434.58 پوائنٹس کی 84012.95 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 802.67 پوائنٹس کی کمی سے23957.98 ہوگیا۔

دوسری جانب کاروباری حجم بدھ کی نسبت 1.67 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر40 کروڑ39 لاکھ35 ہزار270 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 394 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 35 کے بھاؤ میں اضافہ، 352 کے داموں میں کمی اور7 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں شیزان انٹرنیشنل کے بھاؤ 9.96 روپے بڑھ کر 440.06 روپے اور واہ نوبل کے بھاؤ8.55 روپے بڑھ کر 306.20 روپے ہوگئے جبکہ رفحان میظ کے بھاؤ 108.33 روپے کم ہوکر 7191.67 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھاؤ 95.07 روپے کم ہوکر2213.77 روپے ہوگئے۔
Load Next Story