ماسٹر پلان دنیا اور پاکستان کے لیے

ہم تو حیران ہیں کہ دیر کے ایک دور افتادہ علاقے میں اتنا بڑا ذہن کیسے پیدا ہو گیا ہے

barq@email.com

''ماسٹر پلان'' یہ ایک کتاب کا نام ہے جو چھ سو صفحات پر پھلی ہوئی ہے، عنوان کے نیچے دوسرا وضاحتی عنوان ہے ''نئی صدی اور نئے پاکستان کا ایجنڈا'' بڑی خوبصورت کتاب ہے یقیناً اتنا خرچہ تو آیا بھی ہو گا جس سے اگر ہمارے پاس اتنے پیسے ہوتے تو چار مجموعے اپنے کالموں کے چھپوا سکتے تھے لیکن پشتو کی ایک کہاوت ہے کہ جو ''مرد'' تھے ان کو ''بیویاں'' نہیں ملیں اور جو ''عورتیں'' تھیں ان کو شوہر نہیں ملے یا جس کے پاس چنے تھے ان کے دانت نہیں اور جن کے دانت تھے ان کے پاس چنے نہیں تھے۔

یہ تو خیر یوں سمجھ لیجیے کہ ماتمی خواتین کی کسی بھی ''میت'' پر اپنے مردوں کو رونا ہے۔ لیکن کتاب واقعی کمال کی ہے اور ہم حیران ہیں کہ کتاب کے مصنف جو ایک نوجوان وکیل ہیں اتنا زیادہ مطالعہ کیسے کر پائے۔ دیر کے رہنے والے اس وکیل سلیمان شاید کو جتنی داد دی جائے کم ہے کہ اس نے پہلے بھی ایک کتاب دو جلدوں میں لکھی ہے ''گمنام ریاست'' کے نام سے جس میں ریاست دیر کی تاریخ اور متعلقہ تمام معلومات جمع کی گئی ہیں۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ بندہ بڑا محنتی ہے۔ بلکہ محنتی کے ساتھ ساتھ درد دل بھی رکھتا ہے۔ اپنے معاشرے ملک اور ساری انسانیت کے لیے اور چاہتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ اور نظام تشکیل پائے جو

بہشت آں جا کہ آزارے نہ باشند
کسے را با کسے کارے نہ باشد

کی مثال ہو بلکہ آخری ہر لمحہ بھی ساتھ نہ ہو صرف بہشت ہی بہشت ہو۔ اس بہشت کو بنانے یا پانے کے لیے مصنف نے نہایت عرق ریزی سے ان چیزوں کی نشاندہی کی ہے جن سے ایک مثالی معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔

صرف پاکستانی نظام ہی نہیں بلکہ عالمی نظام کے لیے بھی اس نے بڑی خوبصورت بنیادیں فراہم کی ہیں۔ پاکستان کے لیے تو اس نے نئی صدی کا یہ ایجنڈا رکھا ہے کہ اندرون ملک ہجرت اور منتقلی پر عالمی معیار کا چیک رکھنا اور امیگریشن قوانین کو عالمی معیار پر بنانا، حساس مقامات، عمارتوں اور کاروباری مراکز کو خفیہ کیمروں سے لیس کرنا، صوبوں میں آپریشنز کی جائے، مذاکرات اور مفاہمت کی راہ اپنانا، ایک صوبے کے سنگین مقدمات دوسرے صوبوں میں نمٹانا تاکہ سیاسی دباؤ اور سفارش کا خاتمہ ہو۔ صوبے میں ایک عدالت' قتل مقاتلے اور تخریب کاری کے مقدمات کے لیے مختص کرنا۔

اور بھی بہت ساری اچھی اچھی باتیں ہیں لیکن بین الاقوامی نظام سے متعلق بھی ان کے مشورے بڑے اہم ہیں، مثلاً تمام ممالک میں امن منشور سے استفادہ کرنا ... ترقی یافتہ ممالک کے کیمرہ اور امیگریشن نظام سے سیکھنا، پڑوسی ممالک سے دفاعی اور امن معاہدے کرنا۔ مسئلہ افغانستان اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششیں کرنا۔ امریکا کا افغانستان سے انخلاء اور ہماری افغانستانی معاملات سے غیر جانبداری۔ پڑوسی یا غیر ملکی ایجنسیوں کی ثابت شدہ شر انگیزیوں پر عالمی فورم پر احتجاج کرنا۔ سرحدوں پر کشیدگی کا مستقل حل تلاش کرنا۔ یہ ایک اچھی خاصی لمبی فہرست ہے جو کتاب میں جگہ جگہ دی گئی ہے جن سے عالمی سیاست، معیشت، ادب اور صحافت کی ساری خرابیاں دور اور خوبیاں اجاگر کی جا سکتی ہیں۔

ہم تو حیران ہیں کہ دیر کے ایک دور افتادہ علاقے میں اتنا بڑا ذہن کیسے پیدا ہو گیا ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ عالمی سطح پر چھپنے والی مختلف موضوعات کی تصانیف پر اس کا مطالعہ بے پناہ ہے اور اس مطالعے کی روشنی میں اس نے باقاعدہ ایک چارٹر بنایا ہوا ہے کہ ملکی سطح پر کیا ہونا چاہیے اور کس کس کو کیا کیا کرنا چاہیے۔ اسی طر ح عالمی معاملات میں اس کی نظر بڑی وسیع ہے اور ان تمام خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کا پروگرام پیش کیا ہے جو اس وقت دنیا کو درپیش ہیں۔ اور اگر اس کی ہدایات کی روشنی میں عالمی لیڈروں نے اصلاح احوال کی کوشش کی تو ایک ایسا عالمی نظام وجود میں آ جائے گا جہاں امن ہی امن' انصاف ہی انصاف اور فراغت ہی فراغت ہو گی۔


اس کتاب سے ہمیں مرحوم شاعر امن جناب پیرگوہرکی وہ نظم یاد آئی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ دنیا محبت ہی محبت ہو جائے امریکا روس پر فدا ہو چین امریکا پر قربان ہو اور روس چین پر نثار ہو، دنیا میں ہر طرف چین ہی چین ہو جائے۔

میرے نغموں میں ان مستانہ آنکھوں کی کہانی ہے
محبت ہی محبت ہے جوانی ہی جوانی ہے

ماسٹر پلان کو بھی ہم نثر میں ایک ایسی طویل نظم کہہ سکتے ہیں جسے اگر اقوام متحدہ کا چارٹر یا اس کی شرح قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

دراصل شاعری کے لیے کوئی فارم یا اسکیل ضروری نہیں بلکہ آئیڈیا اور خیالات اہمیت رکھتے ہیں۔ شاعر بھی یہی کہتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ دنیا کیسی ہونی چاہیے۔

اور محترم سلیمان شاہد نے نثرمیں وہ تمام اقدامات تجویز کی ہیں جو ایک عالمی نظام اور معاشرے کے لیے بنیادیں ثابت ہو سکتے ہیں۔

ہم موصوف کو اس بات پر دل کھول کر داد دینا چاہتے ہیں کہ انھوں نے زندگی کا چھوٹا سا چھوٹا شعبہ بھی نظر انداز نہیں کیا۔ سیاست' ادب' مذہب' صحافت، نظام انصاف' تجارت' تعمیرات' مواصلات' معدنیات' تعلیم' صحت، انتظامیہ وغیرہ کوئی ایسا شعبہ نہیں چھوڑا ہے جس کے لیے ہدایات و تجاویز پیش نہیں کی ہوں۔

آخر میں نمونے کے طور پر عالمی ذرائع ابلاغ میں انقلابی اصلاحات کی ایک جھلک ملاحظہ فرمایئے۔ عالمی صحافت کے لیے عالمی تنظیم کی تشکیل نو۔ براعظمی پریس کلب کا قیام' ذرائع ابلاغ میں تعاون کے لیے تنظیم سازی کا آغاز' عالمی سطح پر بجٹ مختص کر کے کمزور اقوام میں ادب کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری کرنا۔ دنیا کے معروف چینلوں میں پسماندہ اقوام کے صحافیوں کو صلاحیتیں آزمانے کا موقع دینا۔ مطلب یہ کہ ہم تو اپنے قارئین اور ملکی و عالمی ذمے داروں کو مشورہ دیں گے کہ... پڑھنے کی ہے یہ چیز اسے بار بار پڑھ۔
Load Next Story