100 دولتمندوں کے 7 ارب یرغمالی

پچھلے برسوں میں یہ بے چینی نیویارک کے وال اسٹریٹ سے شروع ہوئی تھی جو بڑھتے بڑھتے 82 ملکوں اور 800 شہروں تک جاپہنچی

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

آج ساری دنیا میں جو بے چینی اور اضطراب نظر آتا ہے اگر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس کا بڑا سبب معاشی ناانصافی ہی نظر آتی ہے۔ یہ معاشی ناانصافی انفرادی سطح سے شروع ہوکر اجتماعی، صوبائی، قومی، علاقائی سطح سے عالمی سطح تک جاپہنچتی ہے۔ اس معاشی ناانصافی کو ختم کرنے کے لیے اگرچہ ہر دور میں آواز اٹھتی رہی، کوششیں ہوتی رہیں لیکن یہ آواز منظم طریقے سے ایک منصفانہ نظام کی شکل میں 1917 میں ظہور پذیر ہوئی، اگرچہ یہ اپنی مختصر تاریخ میں بڑی کامیاب بھی رہی اور دنیا کے 1/3 حصے تک رسائی بھی حاصل کرلی لیکن بوجوہ جس کا ذکر یہاں غیر ضروری ہے ناکام ہوگئی۔

دنیا کی تاریخ بدتر سے بہتر کی تلاش کی تاریخ ہے۔ دنیا پتھر کے دور سے گزرتی ہوئی آج تہذیب و تمدن کے جس مقام پر کھڑی ہے یہ بدتر سے بہتر کی طرف سفر کا ایک سلسلہ ہے اور یہ سفر یہیں نہیں رکے گا آگے بڑھتا رہے گا، لیکن یہ سفر کسی ایک مقام پر رک جاتا ہے تو پھر دنیا کا قانون حرکت اور بدتر سے بہتر کی طرف سفر کا منطقی فلسفہ ٹھیک ہوجائے گا جو انسان کی اضطرابی فطرت کے بھی خلاف ہوگا۔ 1917 سے جس معاشی انصاف کا سفر شروع ہوا تھا اس کا منطقی تقاضا تو یہ تھا کہ یہ سفر جاری رہتا لیکن معاشی ناانصافی کے نظام کے رکھوالوں نے ساری دنیا کو یہ باور کرایا کہ تبدیلی کا یہ سفر ختم ہوگیا اور المیہ یہ ہے کہ 1917 کے سفر کے مسافروں نے بھی اس منطق کو تسلیم کرلیا کہ یہ سفر ختم ہوگیا۔ یہی نہیں کہ اس منطق کو تسلیم کرلیا گیا بلکہ اس معاشی ناانصافی اور استحصال کے نظام کی طرف واپسی بھی شروع کردی گئی جسے مسترد کرکے 1917 کا سفر شروع کیا گیا تھا۔ یہ مراجعت غیر تاریخی بھی تھی اور غیرمنطقی بھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ 1917 میں متعارف کرائے گئے نظام کی خرابیاں تلاش کی جاتیں اور انھیں دور کرکے اس سفر کو آگے بڑھایا جاتا لیکن ایسا نہ ہوا۔

1917 کا سفر 1990 کے لگ بھگ اگرچہ اپنے بیس کیمپ پر آتو گیا ہے لیکن معاشی ناانصافیوں نے اربوں انسانوں کو دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس طرح بے چین اور مضطرب کردیا ہے کہ اب اس بیس کیمپ پر زیادہ دیر تک یہ قافلہ نہیں رک سکتا۔ معاشی ناانصافی کے متاثرین میں ہندو ہیں نہ مسلمان، نہ سکھ نہ عیسائی، نہ پارسی نہ بدھ، بلکہ ساری دنیا اور دنیا کے لگ بھگ 7 ارب انسان اس کے متاثرین میں شامل ہیں۔یہ اضطراب اور بے چینی بڑھ رہی ہے، یہ اضطراب اور بے چینی نہ کسی ملک تک محدود ہے نہ قوم تک بلکہ یہ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مختلف شکلوں میں پھیلی ہوئی ہے۔

پچھلے برسوں میں یہ بے چینی نیویارک کے وال اسٹریٹ سے شروع ہوئی تھی جو بڑھتے بڑھتے 82 ملکوں اور 800 شہروں تک جاپہنچی، اگرچہ یہ بے چینی دھیمی پڑگئی ہے لیکن کئی دوسری شکلوں میں اس لیے باہر آرہی ہے کہ معاشی ناانصافی برقرار ہے۔ مشرق وسطیٰ کی عرب بہار ہو یا بھارت کی انا ہزارے مہم، پاکستان کا لانگ مارچ ہو یا آئی ایم ایف کے خلاف ساری دنیا میں بڑھتی ہوئی نفرت، 17 جنوری 2013 کو کینیڈا میں غربت کے خلاف ہونے والا مارچ ہو یا پسماندہ ملکوں کے حکومتوں کے خلاف ہونے والے مظاہرے، یہ سب اسی بے چینی اور اضطراب کی علامتیں ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم جبرو استحصال نے دنیا بھر کے عوام میں پیدا کیا ہے۔


برطانیہ کے ایک ادارے اکسفیم نے انسانی برادری پر ہونے والے معاشی مظالم کو روکنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دنیا کے 100 امیر ترین افراد نے اتنی دولت پر قبضہ کرلیا ہے کہ اس دولت سے دنیا کے غریب عوام کی غربت کو چار بار مکمل طور پر ختم کیا جاسکتا ہے اکسفیمکا کہنا ہے کہ دولت کا یہ ارتکاز معاشی طور پر غیرفعال سیاسی طور پر رکھا جانے والا سماجی طور پر انسانوں کو طبقات میں تقسیم کرنے والا ایسا ظلم ہے جس کے خلاف عوام کو متحرک ہونا چاہیے۔ اس کا کہنا ہے کہ 20 سال کے دوران دنیا کی آبادی کے صرف ایک فیصد حصے نے 240 ارب روپے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔

دنیا میں غربت کی دوسری بڑی وجہ ہتھیاروں اور فوجوں کی بھرمار ہے جس پر کھربوں ڈالر ضایع کیے جارہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر دنیا سے ہتھیاروں اور فوجوں کا خاتمہ کردیا جائے تو دنیا سے غربت و افلاس کا نام و نشان مٹ سکتا ہے۔ اگر اقتصادی ماہرین کا کہنا درست ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کی دنیا ہی نہیں بلکہ پوری انسانی تاریخ جن دو عذابوں سے بھری نظر آتی ہے اور آج کی ترقی یافتہ دنیا میں بھی ان دو عذابوں کو ناگزیر سمجھا جاتا ہے، اس سے چھٹکارا کیونکر ممکن ہے؟ فوجوں اور ہتھیاروں کی ضرورت ماضی میں بھی ملکی دفاع کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی تھی آج بھی ناگزیر ہی سمجھی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دو عناصر ملک کے لیے کیوں ناگزیر بن گئے ہیں؟ یہ ناگزیر اس لیے بن گئے ہیں کہ انسانوں نے انسانوں کو قوموں میں بانٹ رکھا ہے اور انسانوں کی قوموں میں تقسیم کی وجہ سے جغرافیائی لکیریں کھینچنے کی ضرورت پیش آئی، یوں قومی مفادات اور جغرافیائی لکیروں کے تحفظ کا فلسفہ وجود میں آیا اور اس فلسفے نے ہتھیاروں اور فوجوں کو ناگزیر بنادیا۔

اس حوالے سے فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس تقسیم کو خوف، شکوک و شبہات، عدم اعتمادی سے نکالنے کا کوئی امکان ہے؟ کسی ملک کو ہتھیاروں اور فوجوں کی ضرورت ہی نہ رہے؟ یہ مشکل ہے ناممکن نہیں، اس بڑے اور ناممکن دکھائی دینے والی ضرورت سے چھٹکارا پانا ہے تو صرف دو اقدام کرنے ہوں گے، ایک علاقائی تنازعات سمیت ہر تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا، ایک فورم اور اس فورم یا ادارہ کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا۔ اگر موجودہ اقوام متحدہ کے ادارے کو مکمل طور پر غیر جانبدار بناکر اس میں ہر ملک کو مساوی نمایندگی دی جائے تو ایسا بااختیار ادارہ وجود میں آسکتا ہے جو دنیا کو فوجوں اور ہتھیاروں سے نجات دلادے، اگر دنیا ان دو بلاؤں سے نجات حاصل کرلے تو پھر جنگوں خونریزیوں کا امکان ہی نہیں رہتا، یہ ایک خواب ہے لیکن ہر تبدیلی خواب ہی سے شروع ہوتی ہے۔

اب آئیے عالمی غربی کے پہلے عنصر معاشی ناانصافی کی طرف، 1917 میں اس ناانصافی کے خلاف جو انقلاب آیا تھا وہ بدتر سے بہتر کی طرف سفر کا آغاز تھا جو 1990 کے لگ بھگ رک گیا بلکہ پھر اس بیس کی طرف لوٹ گیا جہاں سے اس نے سفر کا آغاز کیا تھا۔ کیا دنیا ایسے مفکروں ایسے فلسفیوں ایسے معاشی ماہرین سے بالکل خالی ہوگئی ہے جو اس رکے ہوئے سفر کو ایک بار پھر بدتر سے بہتر کی طرف لے جائیں؟ اس کا جواب یقیناً نفی ہی میں ہوگا کیونکہ دنیا کبھی مفکروں فلسفیوں اقتصادی ماہرین سے خالی نہیں ہوسکتی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے لوگ گوشہ گمنامی سے باہر آئیں دنیا کے مضطرب اور بے چین لوگ انھیں ڈھونڈیں اور انھیں کونوں کھدروں سے باہر لائیں اور احساس دلائیں کہ ان کی خاموشی ان کی گمنامی ایک مفکرانہ دانشورانہ جرم ہے۔ دنیا کے 7 ارب انسان ان کی طرف دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اب بھی خاموش رہے، اب بھی گوشہ گمنامی میں پڑے رہے اور رنگ نسل مذہب و ملت میں تقسیم رہے تو آنے والی نسلیں انھیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
Load Next Story