لینڈ مافیا کا قبضہ برقرار منیبہ گورنمنٹ اسکول کے طلبا11روز سے تعلیم سے محروم

لینڈمافیا کے بعداب گلبرگ پولیس بھی طلبا کے تعلیمی سلسلے کے آڑے آگئی،صوبائی وزارت تعلیم سنگین معاملے پر خاموش تماشائی.

عائشہ منزل کے قریب منیبہ سیکنڈری اسکول کی عمارت کا بیرونی منظر(فوٹو ایکسپریس)

SHEIKHUPURA:
صوبائی حکومت کے تحت چلنے والے منیبہ گورنمنٹ سیکنڈری اسکول میں تدریسی سلسلہ معطل ہوئے 11روز گزرگئے۔

فیڈرل بی ایریا میں قائم سرکاری اسکول کے طلبہ گذشتہ 11روز سے لازمی تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں تاہم عالمی بینک اور یورپی یونین سے تعلیم اورسرکاری اسکول میں زیرتعلیم غریب طلبہ کے نام پراربوں روپے لینے والاصوبائی محکمہ تعلیم تعلیمی سلسلے کوبحال کرانے میں ناکام ہے۔

صوبائی وزارت تعلیم اس معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اورسندھ میں طلبہ کی تعلیم کے ذمے دار وزارت تعلیم نے منیبہ گورنمنٹ اسکول کے طلبہ کی تعلیم کی بحالی اور اسکول میں لینڈمافیا یا پولیس کے قبضہ ختم کروانے کے لیے کوئی کردارادا ہی نہیں کیا جبکہ 11روز قبل منیبہ اسکول سے لینڈمافیا کا قبضہ ختم کرانے والے صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو بھی اب اس معاملے میں بے بس ہوگئے ہیں۔




لینڈمافیا کے بعداب گلبرگ پولیس بھی غریب طلبہ کے تعلیمی سلسلے کے آڑے آگئی ہے تاہم پولیس کا اسکول سے قبضہ ختم کرانے کے لیے کوئی قوت موجود نہیں ہے ، واضح رہے کہ منیبہ گورنمنٹ اسکول کے بچوںکو تعلیم سے محروم کرنے کے لیے لینڈ مافیا اور بعد ازاں پولیس کا قبضہ ایک ایسے وقت میں کیاگیا ہے۔

جب صدرمملکت پاکستان میں لازمی اورمفت تعلیم کے بل پردستخط کرچکے ہیں اورصوبائی حکومت اس بل پرقانون سازی کیلیے اسے اسمبلی سے منظورکرانے کی تیاری کررہی ہے،دوسری جانب 21 ویں صدی میں ذرائع ابلاغ کے اس تیز ترین دورمیں منیبہ گورنمنٹ اسکول کے بچے تقریباًروز ہی اسکول کے باہرجمع ہوکراپنی تعلیم کی بحالیکے لیے احتجاج کرتے ہیں تاہم سوائے سیکریٹری تعلیم کے کوئی سیاسی جماعت یا حکومت حلقے اس معاملے میں ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

جبکہ اب صوبائی سیکریٹری تعلیم بھی اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہونے کے سبب بظاہرہمت ہارگئے ہیں، منیبہ گورنمنٹ اسکول سے لینڈمافیاکاقبضہ ختم کروانے والی گلبرگ پولیس اب خود اس اسکول کی کروڑوں روپے کی اراضی پرقابض ہے پولیس کی جانب سے اسکول کی عمارت محکمہ تعلیم کے حوالے کی جارہی ہے اورنہ ہی طلبہ اوراساتذہ کوتدریسی سلسلے کے لیے اسکول میں داخل ہونے کی اجازت ہے ،واضح رہے کہ سندھ میں سالانہ امتحانات کاسلسلہ ایک ماہ بعد شروع ہونا ہے جبکہ نویں اوردسویں کے امتحانات میں بھی دوماہ باقی ہیں تاہم امتحانات سے چند ہفتے قبل غریب طلبہ کوان کی تعلیم سے محروم کردیاگیاہے۔
Load Next Story