تصدیقی عمل میں فوج کی عدم شمولیت کیخلاف تیسرے روزبھی دھرنا
چیف الیکشن کمشنرکی یقین دہانی پرآج عمل نہ ہواتوتحریک چلائینگے،حافظ حسین ودیگر رہنما.
صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر پر جاری اپوزیشن پارٹیوں کے دھرنے کے شرکا سے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو : آن لائن
سیاسی ،مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کوکسی بھی صورت ایک سیاسی جماعت کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیاجائے گا۔
کراچی میں جاری قتل وغارت گری کی وجہ غیرشفاف انتخابات ہیں، شفاف انتخابی فہرستوں کی تیاری تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی،چیف الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ منگل سے تصدیق کے عمل میں فوج شامل ہوگی'اگر الیکشن کمیشن کی اس یقین دہانی پر عملدرآمد نہ ہوا تو پھرتحریک چلے گی اوردھرنے دیے جائیں گے، جمعرات کواسلام آباد میں ہونے والے دھرنے میں بھرپور شرکت کی جائے گی، ان خیالات کا اظہار مختلف رہنمائوں نے صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنے کے تیسرے روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
دھرنے سے حافظ حسین ،محمد حسین محنتی،نسیم صدیقی،سلیم ضیا،جام مدد علی، شاہ اویس نورانی، حفیظ الدین، مطلوب اعوان اوردیگر نے خطاب کیا، قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور فخر الدین جی ابراہیم نے انھیں یقین دلایا کہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں فوج بھی شامل ہورہی ہے جس پر اپوزیشن رہنمائوں نے اطمینان کا اظہار کیا اورمتنبہ کیا کہ اگریقین دہانی کے مطابق عملدرآمد نہیں ہوا توایک بار پھر بڑے پیمانے پراحتجاج کیاجائے گا۔
اس سلسلے میںنسیم صدیقی نے ایک قرارداد بھی پیش کی جسے شرکا نے منظورکیا، حافظ حسین احمد نے کہاکہ فخر الدین جی ابراہیم عدالت کے فیصلے پر عمل نہ کرکے توہین عدالت کے بجائے تدفین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔محمد حسین محنتی نے کہاکہ کراچی میں ٹھپہ مافیا کے ذریعے خود کو منتخب کرایا گیا۔ انھوںنے مطالبہ کیا کہ پولنگ بوتھ کے اندر فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں ، سلیم ضیا نے کہاکہ فخر الدین جی ابراہیم صرف طفل تسلیاں دے رہے ہیں، جام مدد علی نے کہاکہ فوج کی شمولیت کے بغیرشفاف فہرستوں کی تیاری ممکن نہیں،شاہ اویس نورانی نے کہاکہ فوج کو پریزائیڈنگ افسر کے ساتھ بیٹھنا ہوگااگر ایسا نہیں ہوا توانتخابی نتائج تسلیم نہیں کرینگے۔
کراچی میں جاری قتل وغارت گری کی وجہ غیرشفاف انتخابات ہیں، شفاف انتخابی فہرستوں کی تیاری تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی،چیف الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ منگل سے تصدیق کے عمل میں فوج شامل ہوگی'اگر الیکشن کمیشن کی اس یقین دہانی پر عملدرآمد نہ ہوا تو پھرتحریک چلے گی اوردھرنے دیے جائیں گے، جمعرات کواسلام آباد میں ہونے والے دھرنے میں بھرپور شرکت کی جائے گی، ان خیالات کا اظہار مختلف رہنمائوں نے صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنے کے تیسرے روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
دھرنے سے حافظ حسین ،محمد حسین محنتی،نسیم صدیقی،سلیم ضیا،جام مدد علی، شاہ اویس نورانی، حفیظ الدین، مطلوب اعوان اوردیگر نے خطاب کیا، قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور فخر الدین جی ابراہیم نے انھیں یقین دلایا کہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں فوج بھی شامل ہورہی ہے جس پر اپوزیشن رہنمائوں نے اطمینان کا اظہار کیا اورمتنبہ کیا کہ اگریقین دہانی کے مطابق عملدرآمد نہیں ہوا توایک بار پھر بڑے پیمانے پراحتجاج کیاجائے گا۔
اس سلسلے میںنسیم صدیقی نے ایک قرارداد بھی پیش کی جسے شرکا نے منظورکیا، حافظ حسین احمد نے کہاکہ فخر الدین جی ابراہیم عدالت کے فیصلے پر عمل نہ کرکے توہین عدالت کے بجائے تدفین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔محمد حسین محنتی نے کہاکہ کراچی میں ٹھپہ مافیا کے ذریعے خود کو منتخب کرایا گیا۔ انھوںنے مطالبہ کیا کہ پولنگ بوتھ کے اندر فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں ، سلیم ضیا نے کہاکہ فخر الدین جی ابراہیم صرف طفل تسلیاں دے رہے ہیں، جام مدد علی نے کہاکہ فوج کی شمولیت کے بغیرشفاف فہرستوں کی تیاری ممکن نہیں،شاہ اویس نورانی نے کہاکہ فوج کو پریزائیڈنگ افسر کے ساتھ بیٹھنا ہوگااگر ایسا نہیں ہوا توانتخابی نتائج تسلیم نہیں کرینگے۔