عدالت عالیہ کا عدم تعاون پر آئی جی جیل خانہ جات کو نوٹس
ضلع قمبر کا ملزم حیدرآباد جیل منتقل،جیل حکام سماعت پر پیش کرنے میں ناکام.
عدالت نے آئی جی جیل خانہ جات سے آئندہ سماعت پر وضاحت طلب کرلی فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم پر مشتمل سنگل بینچ نے عدالت کی معاونت نہ کرنے پر آئی جی جیل خانہ جات سندھ کواظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا ہے۔
فاضل بینچ نے اظہار وجوہ کا نوٹس نصیر آباد پولیس اسٹیشن میں دہرے قتل کے مقدمے میں ملوث ملزمان بہادر اور وزیر کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا،درخواست گزاروں کے مطابق 2011 میں ان سمیت 3 ملزمان کو نصیرآباد پولیس اسٹیشن ضلع قمبر میں درج قتل کے مقدمے میں گرفتارکیاگیا۔
تاہم کچھ ہی عرصہ بعد ان کے تیسرے ساتھی قمرالدین کو قمبر جیل کے بجائے حیدرآباد جیل منتقل کردیاگیا، درخواست گزاروں کے مطابق شریک ملزم کے دوسرے ضلع میں منتقل کیے جانے کے بعد ان کے خلاف مقدمے کی سماعت التوا کاشکار ہے کیونکہ جیل حکام حیدرآباد جیل میں قید ان کے ساتھی کو سماعت کے موقع پر پیش نہیں کرتے ،فاضل بینچ نے اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسارکیاتھاکہ قیدی کیوں عدالت میں پیش نہیںکیاجارہا اور کس بنیاد پر اسے دوسری جیل منتقل کیاگیاہے۔
اس ضمن میں پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے آئی جی جیل خانہ جات سے صورتحال کی وضاحت طلب کی تھی لیکن آئی جی جیل خانہ جات نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی ماتحت عدالت میں سماعت کے موقع پر قیدی کو پیش کیا،اس صورتحال پر فاضل بینچ نے آئی جی جیل خانہ جات سندھ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وضاحت طلب کی ہے کہ کیوںنہ آپ کے خلاف عدالت سے تعاون نہ کرنے کے الزام میں کارروائی کی جائے۔
فاضل بینچ نے اظہار وجوہ کا نوٹس نصیر آباد پولیس اسٹیشن میں دہرے قتل کے مقدمے میں ملوث ملزمان بہادر اور وزیر کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا،درخواست گزاروں کے مطابق 2011 میں ان سمیت 3 ملزمان کو نصیرآباد پولیس اسٹیشن ضلع قمبر میں درج قتل کے مقدمے میں گرفتارکیاگیا۔
تاہم کچھ ہی عرصہ بعد ان کے تیسرے ساتھی قمرالدین کو قمبر جیل کے بجائے حیدرآباد جیل منتقل کردیاگیا، درخواست گزاروں کے مطابق شریک ملزم کے دوسرے ضلع میں منتقل کیے جانے کے بعد ان کے خلاف مقدمے کی سماعت التوا کاشکار ہے کیونکہ جیل حکام حیدرآباد جیل میں قید ان کے ساتھی کو سماعت کے موقع پر پیش نہیں کرتے ،فاضل بینچ نے اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسارکیاتھاکہ قیدی کیوں عدالت میں پیش نہیںکیاجارہا اور کس بنیاد پر اسے دوسری جیل منتقل کیاگیاہے۔
اس ضمن میں پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے آئی جی جیل خانہ جات سے صورتحال کی وضاحت طلب کی تھی لیکن آئی جی جیل خانہ جات نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی ماتحت عدالت میں سماعت کے موقع پر قیدی کو پیش کیا،اس صورتحال پر فاضل بینچ نے آئی جی جیل خانہ جات سندھ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وضاحت طلب کی ہے کہ کیوںنہ آپ کے خلاف عدالت سے تعاون نہ کرنے کے الزام میں کارروائی کی جائے۔