الیکشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کیاجائے
انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی زرضمانت میں کئی سوگنا اضافہ حیران کن ہے
چیف الیکشن کمشنر کے حالیہ بیانات انتہائی تشویشناک ہیں، سینیٹرخالد محمود سومرو. فوٹو : فائل
جمعیت علمائے اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل سابق سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے کہا ہے کہ الیکشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کیا جائے،چیف الیکشن کمشنر کے حالیہ بیانات انتہائی تشویشناک ہیں، فخر الدین جی ابراہیم سابق جج اور منجھے ہوئے وکیل ہیں۔
اُن کا سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل درآمد سے معذوری ظاہر کرنا سیاسی کارکنوں کی سمجھ سے بالاتر ہے،وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے بجائے اس سے جان چھڑانے کی باتیں کر رہے ہیں ،سندھ کی تمام اپوزیشن جماعتیں صوبائی الیکشن کمشنر سندھ کے دروازے پر دھرنا دیکر احتجاج کررہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر کی طرف سے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے مسودے میںانتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کی زر ضمانت میں کئی سو گنا اضافہ حیران کن ہے ایک طرف تو یہ کہا جا رہا ہے کہ چند خاندان مختلف سیاسی پارٹیوں کا سہارا لیکر اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں ۔
جس سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے ایسی اصلاحات کی جائیں کہ عام آدمی آئندہ حق حکمرانی میں اپنا جائز حق محسوس کرے لیکن کیا ایک غریب سیاسی کارکن اتنی بڑی رقم زرضمانت کے طور پر جمع کراسکے گا،کیا یہ غریب اور متوسط سیاسی کارکنوں کا راستہ روکنے کی ایک سازش نہیں ہے الیکشن کمیشن بتائے کہ یہ کیسی اصلاحات ہو رہی ہیں جس سے اشرافیہ کی حکومت کا راستہ کھولا جا رہا ہے ۔جاگیردار، سرمایہ دار ہی اسمبلیوں میں پہنچ پائے گا اور ایک غریب سیاسی کارکن کیلیے انتخابات میں حصّہ لینا ایک خواب بن جائیگا۔
اُن کا سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل درآمد سے معذوری ظاہر کرنا سیاسی کارکنوں کی سمجھ سے بالاتر ہے،وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے بجائے اس سے جان چھڑانے کی باتیں کر رہے ہیں ،سندھ کی تمام اپوزیشن جماعتیں صوبائی الیکشن کمشنر سندھ کے دروازے پر دھرنا دیکر احتجاج کررہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر کی طرف سے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے مسودے میںانتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کی زر ضمانت میں کئی سو گنا اضافہ حیران کن ہے ایک طرف تو یہ کہا جا رہا ہے کہ چند خاندان مختلف سیاسی پارٹیوں کا سہارا لیکر اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں ۔
جس سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے ایسی اصلاحات کی جائیں کہ عام آدمی آئندہ حق حکمرانی میں اپنا جائز حق محسوس کرے لیکن کیا ایک غریب سیاسی کارکن اتنی بڑی رقم زرضمانت کے طور پر جمع کراسکے گا،کیا یہ غریب اور متوسط سیاسی کارکنوں کا راستہ روکنے کی ایک سازش نہیں ہے الیکشن کمیشن بتائے کہ یہ کیسی اصلاحات ہو رہی ہیں جس سے اشرافیہ کی حکومت کا راستہ کھولا جا رہا ہے ۔جاگیردار، سرمایہ دار ہی اسمبلیوں میں پہنچ پائے گا اور ایک غریب سیاسی کارکن کیلیے انتخابات میں حصّہ لینا ایک خواب بن جائیگا۔