بجٹ میں میٹرک اور انٹر کی فیسوں کیلیے ایک ارب روپے مختص
3 ارب 94 کروڑ روپے نئے منصوبوں کیلیے جبکہ 17 ارب 19 کروڑ روپے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلیے مختص کیے گئے ہیں
ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 202.2 ارب روپے مقرر، اے ون گریڈ لینے والوں کو فی کس ایک لاکھ دینے کا فیصلہ۔ فوٹو: فائل
حکومت سندھ نے پہلی بار سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم میٹرک اورانٹرکے طلبا کی رجسٹریشن اورامتحانی فیسوں کابوجھ خود برداشت کرنے کے فیصلے کے ساتھ ایک ارب روپے کی رقم مختص کرتے ہوئے نئے مالی سال 2017/18کاتعلیم کابجٹ پیش کردیا تاہم اس ترقیاتی وغیرترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 202.2ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جس میں 21ارب 12کروڑ80لاکھ روپے کا مجموعی ترقیاتی بجٹ شامل ہے۔
گزشتہ برس کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ میں 24فیصد اضافہ کیاگیاہے گزشتہ سال کا مختص ترقیاتی بجٹ 17.2ارب روپے تھا،نئے مالی سال کے لیے مختص ترقیاتی بجٹ 3ارب 94کروڑروپے نئے منصوبوں کے لیے جبکہ 17 ارب 19کروڑروپے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلیے مختص کیے گئے ہیں تاہم ترقیاتی بجٹ میں شامل نئے منصوبوں میں کالج ایجوکیشن کاایک منصوبہ بھی شامل نہیں کیاگیا ہے۔
نئی ترقیاتی منصوبوں میں میٹرک اور انٹر کی سطح پرصوبے بھرمیں اے ون گریڈزحاصل کرنے والے طلبہ کو فی کس ایک لاکھ روپے دینے کافیصلہ کیا گیا ہے اور اس ضمن میں مجموعی طور پر 75 کروڑ (750 ملین) روپے مختص کیے گئے ہیں ، اسی طرح کالجوں اور جامعات کی سطح پر انڈومنٹ فنڈ قائم کیاگیاہے اس کیلیے آئندہ مالی سال کیلیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں حکومت سندھ کی جانب سے یونیورسٹیزاینڈ بورڈز کے لیے 3 ارب 60کروڑروپے،ایس ٹیوٹااوراس کے تحت چلنے والے منصوبوں کیلیے ایک ارب 60 کروڑ، کالج ایجوکیشن کیلیے 5ارب روپے،اسکول ایجوکیشن کیلیے 11ارب روپے 25 کروڑ روپے اور خصوصی تعلیم کیلیے 21 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ آئندہ مالی سال 2017/18 کے تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں مجموعی طور پر 461 منصوبوں کیلیے رقم مختص کی گئی ہے جس میں سے 132 نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں، یہ منصوبے ایلیمنٹری، سیکنڈری، ٹیچرز ایجوکیشن کے علاوہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ایس ٹیوٹا اور یونیورسٹیز اینڈ بورڈزکودیے گئے ہیں تاہم کالج ایجوکیشن کی ترقی کے لیے کسی نئے منصوبے کا آغاز نہیں کیا گیا ہے۔
کراچی کے ایک سرکاری ایلیمنٹری اسکول سمیت سندھ بھر کے 25 ایلیمنٹری اسکولوں کو سولرسسٹم سے بجلی کی فراہمی کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں جنھیں ''سولرائزیشن'' کا نام دیاگیاہے، علاوہ ازیں نئے بجٹ میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کمپلیکس کی تعمیرکے لیے 145ملین رقم مختص کی گئی ہے یہ کمپلیکس شارع فیصل پرقائم ایک سرکاری اسکول کے احاطے میں تعمیرکیاجائے گا۔
مزیدبراں فاؤنڈیشن کے تحت دونئے منصوبے ''تعلیم بالغان اورزیادہ عمرکے افراد'' جبکہ ''تعلیم تبدیلی کے لیے ''کے نام سے پروجیکٹ شروع کیے جارہے ہیں حکومت سندھ کی جانب سے فاؤنڈیشن کو تقریباً 9 ارب روپے دیے جائیں گے۔
گزشتہ برس کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ میں 24فیصد اضافہ کیاگیاہے گزشتہ سال کا مختص ترقیاتی بجٹ 17.2ارب روپے تھا،نئے مالی سال کے لیے مختص ترقیاتی بجٹ 3ارب 94کروڑروپے نئے منصوبوں کے لیے جبکہ 17 ارب 19کروڑروپے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلیے مختص کیے گئے ہیں تاہم ترقیاتی بجٹ میں شامل نئے منصوبوں میں کالج ایجوکیشن کاایک منصوبہ بھی شامل نہیں کیاگیا ہے۔
نئی ترقیاتی منصوبوں میں میٹرک اور انٹر کی سطح پرصوبے بھرمیں اے ون گریڈزحاصل کرنے والے طلبہ کو فی کس ایک لاکھ روپے دینے کافیصلہ کیا گیا ہے اور اس ضمن میں مجموعی طور پر 75 کروڑ (750 ملین) روپے مختص کیے گئے ہیں ، اسی طرح کالجوں اور جامعات کی سطح پر انڈومنٹ فنڈ قائم کیاگیاہے اس کیلیے آئندہ مالی سال کیلیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں حکومت سندھ کی جانب سے یونیورسٹیزاینڈ بورڈز کے لیے 3 ارب 60کروڑروپے،ایس ٹیوٹااوراس کے تحت چلنے والے منصوبوں کیلیے ایک ارب 60 کروڑ، کالج ایجوکیشن کیلیے 5ارب روپے،اسکول ایجوکیشن کیلیے 11ارب روپے 25 کروڑ روپے اور خصوصی تعلیم کیلیے 21 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ آئندہ مالی سال 2017/18 کے تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں مجموعی طور پر 461 منصوبوں کیلیے رقم مختص کی گئی ہے جس میں سے 132 نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں، یہ منصوبے ایلیمنٹری، سیکنڈری، ٹیچرز ایجوکیشن کے علاوہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ایس ٹیوٹا اور یونیورسٹیز اینڈ بورڈزکودیے گئے ہیں تاہم کالج ایجوکیشن کی ترقی کے لیے کسی نئے منصوبے کا آغاز نہیں کیا گیا ہے۔
کراچی کے ایک سرکاری ایلیمنٹری اسکول سمیت سندھ بھر کے 25 ایلیمنٹری اسکولوں کو سولرسسٹم سے بجلی کی فراہمی کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں جنھیں ''سولرائزیشن'' کا نام دیاگیاہے، علاوہ ازیں نئے بجٹ میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کمپلیکس کی تعمیرکے لیے 145ملین رقم مختص کی گئی ہے یہ کمپلیکس شارع فیصل پرقائم ایک سرکاری اسکول کے احاطے میں تعمیرکیاجائے گا۔
مزیدبراں فاؤنڈیشن کے تحت دونئے منصوبے ''تعلیم بالغان اورزیادہ عمرکے افراد'' جبکہ ''تعلیم تبدیلی کے لیے ''کے نام سے پروجیکٹ شروع کیے جارہے ہیں حکومت سندھ کی جانب سے فاؤنڈیشن کو تقریباً 9 ارب روپے دیے جائیں گے۔