پارلیمانی کمیشن کی سفارشات مسترد ن لیگ کا3نئے صوبوں کیلئے ترامیم لانے کا اعلان

جنوبی پنجاب،بہاولپور اورہزارہ صوبہ بنوائیں گے، نفرتوں اور لسانی بنیاد پر کھیل قبول نہیں، نواز شریف

صوبہ بہاولپور جنوبی پنجاب الیکشن ملتوی کرانے کا شوشہ اور آدھا تیتر آدھا بٹیر ہوگا، حکومتی بل آیا توآئینی ترامیم پیش کریں گے، شہبازشریف کی بریفنگ فوٹو : اے پی پی

مسلم لیگ (ن) نے نئے صوبوں کے متعلق پارلیمانی کمیشن کی سفارشات مسترد کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے صوبہ بہاولپور جنوبی پنجاب بنانے کا بل پارلیمنٹ میں لانے کی صورت میں صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام، صوبہ بہاولپور کی بحالی کے ساتھ صوبہ ہزارہ صوبہ بنانے کیلیے بھی آئینی ترامیم لانے کا اعلان کیا ہے۔

نوازشریف کی زیر صدارت ماڈل ٹائون میں (ن) لیگ کے نئے صوبوں کے حوالے سے مشاورتی اجلاس میں لسانی بنیادوں پر پنجاب کی تقسیم کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنوبی پنجاب میں پارٹی سرگرمیاں تیزکرنے کیلیے حکمت عملی بھی ترتیب دی گئی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنوبی پنجاب میں بھرپور رابطہ عوام مہم چلائی جائے گی اور کسی بھی صورت میں نفرتوں کی بنیاد پر پنجاب کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ نفرتوں اور لسانی بنیاد پر نئے صوبوں کا کھیل کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائیگا۔

صوبے لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں۔ پنجاب اسمبلی نے نئے صوبوں کے حوالے سے جو قرارداد منظورکی ہے اسی کے مطابق نئے صوبوں کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ پیپلزپارٹی اپنی پانچ سالہ بری ترین کارکردگی پر پردہ ڈالنے کیلیے نت نئے کارڈ استعمال کر رہی ہے لیکن عوام اب اس کے کسی جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ آن لائن کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ بہاولپور صوبہ عوام کی آواز ہے۔ جہاں جہاں ضرورت ہے وہاں صوبے بنانے چاہئیں۔ حکومت نفرتیں پھیلا رہی ہے۔ نئے صوبے بنانے کیلئے اتفاق رائے ضروری ہے۔




نئے صوبے بنانے کی باتیں صرف سیاسی مفادات کیلئے کی جا رہی ہیں، عوام ان لوگوں کے ارادوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا کہ صوبہ بہاولپور جنوبی پنجاب کا شوشہ صرف الیکشن ملتوی کرانے اور نئے صوبوں کاکام کھٹائی میں ڈالنے کیلیے چھوڑا گیا۔ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو آپس میں ملا کر صوبہ بنانے کی کوشش کرنا آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مترادف ہے۔ مسلم لیگ بہاولپور صوبہ بحال کریگی جس کا دارالحکومت ملتان یا کوئی اور شہر نہیں بہاولپور شہر ہوگا۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کا علیٰحدہ صوبہ بھی بنائیں گے ۔

صوبہ بہاولپور کے گورنر اور کابینہ کے ارکان بہاولپور میں بیٹھیں گے اور جنوبی پنجاب کے گورنر اور وزرأ ملتان میں بیٹھیں گے۔ اگر قومی اسمبلی میں بہاولپور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے بل آیا تو (ن)لیگ بھی پنجاب اسمبلی کی متفقہ قرارداد کی روشنی میں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کریگی۔ مسٹر زرداری اور ان کا ٹولہ عام انتخابات التوأ میں ڈالنے کی سازش کررہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بہاولپور جنوبی پنجاب کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے سب سے پہلے صوبہ بہاولپورکی بحالی کی آواز اٹھائی اور ہم اپنا یہ وعدہ پورا کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پنجاب اسمبلی کی متفقہ قرارداد کی روشنی میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی بحالی کے حوالے سے تمام معاملات طے کرنے کیلیے قومی کمیشن بنایا جاتا جوصوبوں کے مابین پانی، وسائل ، صحت و تعلیم کی سہولیات ، تعلیمی اداروں، انفرااسٹرکچر اور دیگر معاملات کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرتا لیکن پیپلزپارٹی کی طرف سے بنائے گئے کمیشن میں پنجاب کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ یہ صرف ان کا انتخابی نعرہ ہے۔ بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے علیٰحدہ صوبے ہم بنائیں گے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار نے کہا کہ زرداری کے اسٹاف آفیسر پر مشتمل نام نہاد قومی کمیشن میں صرف حکومت کی اتحادی جماعتوںکے نمائندے شامل ہیں۔ پنجاب کی مرضی کے بغیر وفاق کو اس کی جغرافیائی سرحدیں تبدیل کرنیکا کوئی اختیار نہیں ہے۔

صوبائی اسمبلی کی دوتہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر وفاق صوبے کی سرحدوں میں ردوبدل نہیں کرسکتا۔ قومی اسمبلی میں حکومت دوتہائی اکثریت کے قریب بھی نہیں لیکن اس نے صرف تماشہ رچا رکھا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے بارے میں ہم آئینی ترمیمی بل لائیں گے اور اس کے ساتھ ہزارہ کو بھی علیٰحدہ صوبہ بنانے کیلئے بل پیش کریں گے۔ ہم نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبے بنانے کیلیے متفقہ قرارداد پیش کی لیکن وفاق نے اسے متنازع بنادیا۔ حکمراں حواس باختہ ہوچکے ہیں، اسی لیے وہ میانوالی اور بھکر کو بھی بہاولپور جنوبی پنجاب صوبہ میں شامل کرنے کی غیر آئینی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نئے صوبے بنانا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story