کامران فیصل کیس تحقیقاتی کمیشن اور نیب کے عدالتی بینچ پر تحفظات

عدم اعتماد کی وجہ معقول ہوئی تو اصرار نہیں کیا جائیگا، جسٹس خلجی عارف

کے کے آغا نے تحریری تحفظات پیش کرنے کیلیے وقت مانگ لیا،کمیشن کا نوٹیفکیشن بھی طلب، اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ کا خط پیش کیا فوٹو: فائل

سپریم کورٹ میں رینٹل پاور کیس میں نیب کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی پر اسرار ہلاکت کیس کی سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار اورانورکمال کوعدالتی معاون مقرر کرنے پر اعتراض کردیا۔

عدالت نے تحفظات تحریری طور پرطلب کرلیے۔جسٹس خلجی عارف نے کہا ہے کہ معقول وجہ ہوئی تو وہ اصرار نہیں کریں گے، پیرکو جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے2 رکنی بینچ نے کامران فیصل ہلاکت کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرچیئرمین نیب فصیح بخاری بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے، سماعت کے دوران پراسیکیوٹرجنرل نیب کے کے آغا نے کہا کہ انھیں سپریم کورٹ کی بینچ پر اعتماد نہیں ہے۔




جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ تحفظات تحریری طورپر پیش کیے جائیں ۔جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ عدم اعتماد کی وجہ معقول ہوئی تو اصرار نہیں کیا جائے گا،کے کے آغا نے تحریری طور پر تحفظات پیش کرنے کیلیے وقت مانگ لیا،سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جسٹس (ر)جاوید اقبال کمیشن کا نوٹیفکیشن بھی طلب کیا۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے عدالت میں پیش ہونے کیے کہا ہے،کمیشن قائم کیا جا چکا ہے، اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ کا خط عدالت میں پیش کیا، سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ خط میں بہت چیزیں وضاحت طلب ہیں، عدالت نے کیس کی سماعت یکم فروری تک ملتوی کردی۔

Recommended Stories

Load Next Story