خیبر پختونخوا کا متوازن بجٹ
خیبرپختونخوا کی حکومت نے6کھرب تین ارب روپے کا پانچواں اور آئینی طور پر اپنا آخری بجٹ پیش کردیا ہے
جٹ کو تین حصوں فلاحی، انتظامی اور ترقیاتی میں تقسیم کیا گیا۔جس کی بنا پر اسے متوازن بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔
خیبرپختونخوا کی حکومت نے6کھرب تین ارب روپے کا پانچواں اور آئینی طور پر اپنا آخری بجٹ پیش کردیا ہے' بجٹ کو تین حصوں فلاحی، انتظامی اور ترقیاتی میں تقسیم کیا گیا۔جس کی بنا پر اسے متوازن بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔
غیر ترقیاتی و جاریہ اخراجات کے لیے 388 ارب روپے اور دو کھرب 8 ارب روپے پر مشتمل ترقیاتی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں دس فیصد اضافہ کے علاوہ ملازمین پر ماہانہ ٹیکس لگا دیا' تاہم گریڈ چار تک کے ملازمین اس سے مستثنیٰ ہوں گے' جب کہ 2010ء کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس کو بنیادی تنخواہوں میں ضم کیا جائے گا، سرکاری ملازمین کو ہاؤس بلڈنگ اور موٹر سائیکل ایڈوانسز کے لیے 7 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ 1233 میگاواٹ بجلی کے منصوبے، 20 نئے ڈیموں، 410 نئے پرائمری اسکولوںکی تعمیر، سرکاری اسکولوں اور بنیادی مراکز صحت اور ٹیوب ویلوںکی شمسی توانائی پر منتقلی، چشمہ رائٹ بینک کنال لفٹ گریویٹی پر کام شروع کیا جائے گا، خیبرپختونخوا کو مرکزکی جانب سے قابل تقسیم پول سے 326 اب روپے، براہ راست منتقلیوں سے 24 ارب روپے وصول ہونگے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 39 ارب17، بجلی کا سالانہ خالص منافع 20 ارب 78 کروڑ، بقایاجات کی مد میں 15 ارب، غیر ملکی وسائل سے 82 ارب روپے تیل اور گیس کی رائلٹی کی مد میں 24 ارب68کروڑ روپے ملیں گے صوبائی حکومت کی اپنے طور پر 45 ارب21 کروڑکی آمدنی ٹیکسوں اور دیگر مدات سے ہوگی۔
آیندہ بجٹ میں تعلیم کے لیے 127 ارب روپے، صحت کے لیے 49 ارب27 کروڑ، سماجی بہبود و ترقی نسواں کے لیے ایک ارب85 کروڑ، پولیس کے لیے 39 ارب73 کروڑ، آبپاشی کے لیے 3 ارب 76کروڑ، فنی تعلیم اور افرادی تربیت کے لیے 2 ارب 25 کروڑ، کھیل و ثقافت و سیاحت کے لیے 72کروڑ، زراعت 4 ارب 35 کروڑ، ماحولیات و جنگلات کے لیے 2ارب37کروڑ، سڑکوں اور شاہراہوں و پلوں کی مرمت کے لیے 6 ارب61کروڑ، پنشن کے لیے 53ارب جب کہ قرضوں پر مارک اپ کی ادائیگی کے لیے 8 ارب روپے مختص جیسے اقدامات اگلے بجٹ کے اہم نکات ہیں، ٹیکسوں کی مختلف شرحوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دس ہزار سے زائد آمدنی والوں، حکماء' ہومیو ڈاکٹرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا' اگلے مالی سال کے دوران ضلعی حکومتوں کو ترقیاتی کاموں کی مد میں 28 ارب روپے دیے جائیں گے' ساڑھے 26 ہزار نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی' تحصیل و ٹاؤن کی سطح پر ماڈل پولیس اسٹیشن قائم ہوں گے' غریب عوام کے لیے سستے گھر بنانے کا اعلان بھی بجٹ کا حصہ ہے' ایک ہزار اضافہ کے ساتھ کم از کم اجرت 15 ہزار مقرر کی گئی' ذاتی رہائش گاہوں میں نہ رہنے والوں کے گھروں کا پراپرٹی ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے' شادی ہالوں' کیٹرنگ' ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں اور اسپیشلسٹ ڈاکٹروں پر ماہانہ ٹیکس کا نفاذ اور نجی تعلیمی اداروں پر مختلف شرحوں سے ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اگر بجٹ دستاویزات کو دیکھا جائے تو آیندہ مالی سال کے بجٹ میں صوبہ کو 10 ارب کے خسارے کا سامنا ہے لیکن خسارہ کو پوشیدہ رکھنے کے لیے اندرونی قرض لے کر اسے متوازن بنانے کی کوشش کی گئی ۔اس کے بر عکس اگلے بجٹ میں ضلعی حکومتوں کے ترقیاتی حصہ30 فیصد سے کم کر کے 22 فیصد ہو گا 126 ارب کے صوبائی پروگرام میںاضلاع کو37 ارب سے زائد ملنے چاہیں تھے تاہم انھیں28 ارب ارب ملیں گے، عوام کو آیندہ مالی سال کے دوران سبسڈائزڈ نرخوں پر گندم اور آٹے کی فراہمی کے لیے 2 ارب90 کروڑ روپے سبسڈی دی جائے گی۔ آیندہ مالی سال ہنگو میں ٹاؤن شپ، چارسدہ میں سرکاری ہاؤسنگ اسکیم، سوات میں ابوہا ہاؤسنگ اسکیم، پشاور میں اپارٹمنٹس اور شاپنگ مال، نشتر آباد پشاور میں فلیٹس کی تعمیر کے علاوہ ماڈل ٹاؤن پشاور اور موٹروے سٹی نوشہرہ جیسے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
مجموعی طور پر26598 نئی بھرتیوں سے صوبہ کے ملازمین کی مجموعی تعداد بڑھ کر494625 ہو جائے گی، جاری مالی سال 2016-17ء میں صوبہ کے سرکاری ملازمین کی کل تعداد468027 ہے تاہم آیندہ سال کی نئی بھرتیوں سے یہ تعداد بڑھ کر پانچ لاکھ کے قریب چلی جائے گی۔آیندہ مالی سال تنخواہوں کی مد میں صوبائی حکومت کو 29 ارب جب کہ پنشن پر 13 ارب کے اضافہ اخراجات کرنے پڑیں گے، دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت جو پنجاب کے مختلف شہروں میں میٹرو سروس کو ہدف تنقید بناتی رہی اب ایشیائی ترقیاتی بینک سے 45 ارب سے زائد قرضہ لے کر اپنے زیر اقتدار صوبہ کے دارالحکومت پشاور میں ریپڈبس سروس کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل ہے، جس سے بہر حال شہریوںکو ایک باوقار انداز میں سفری سہولیات مہیا ہوں گی ۔
غیر ترقیاتی و جاریہ اخراجات کے لیے 388 ارب روپے اور دو کھرب 8 ارب روپے پر مشتمل ترقیاتی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں دس فیصد اضافہ کے علاوہ ملازمین پر ماہانہ ٹیکس لگا دیا' تاہم گریڈ چار تک کے ملازمین اس سے مستثنیٰ ہوں گے' جب کہ 2010ء کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس کو بنیادی تنخواہوں میں ضم کیا جائے گا، سرکاری ملازمین کو ہاؤس بلڈنگ اور موٹر سائیکل ایڈوانسز کے لیے 7 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ 1233 میگاواٹ بجلی کے منصوبے، 20 نئے ڈیموں، 410 نئے پرائمری اسکولوںکی تعمیر، سرکاری اسکولوں اور بنیادی مراکز صحت اور ٹیوب ویلوںکی شمسی توانائی پر منتقلی، چشمہ رائٹ بینک کنال لفٹ گریویٹی پر کام شروع کیا جائے گا، خیبرپختونخوا کو مرکزکی جانب سے قابل تقسیم پول سے 326 اب روپے، براہ راست منتقلیوں سے 24 ارب روپے وصول ہونگے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 39 ارب17، بجلی کا سالانہ خالص منافع 20 ارب 78 کروڑ، بقایاجات کی مد میں 15 ارب، غیر ملکی وسائل سے 82 ارب روپے تیل اور گیس کی رائلٹی کی مد میں 24 ارب68کروڑ روپے ملیں گے صوبائی حکومت کی اپنے طور پر 45 ارب21 کروڑکی آمدنی ٹیکسوں اور دیگر مدات سے ہوگی۔
آیندہ بجٹ میں تعلیم کے لیے 127 ارب روپے، صحت کے لیے 49 ارب27 کروڑ، سماجی بہبود و ترقی نسواں کے لیے ایک ارب85 کروڑ، پولیس کے لیے 39 ارب73 کروڑ، آبپاشی کے لیے 3 ارب 76کروڑ، فنی تعلیم اور افرادی تربیت کے لیے 2 ارب 25 کروڑ، کھیل و ثقافت و سیاحت کے لیے 72کروڑ، زراعت 4 ارب 35 کروڑ، ماحولیات و جنگلات کے لیے 2ارب37کروڑ، سڑکوں اور شاہراہوں و پلوں کی مرمت کے لیے 6 ارب61کروڑ، پنشن کے لیے 53ارب جب کہ قرضوں پر مارک اپ کی ادائیگی کے لیے 8 ارب روپے مختص جیسے اقدامات اگلے بجٹ کے اہم نکات ہیں، ٹیکسوں کی مختلف شرحوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دس ہزار سے زائد آمدنی والوں، حکماء' ہومیو ڈاکٹرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا' اگلے مالی سال کے دوران ضلعی حکومتوں کو ترقیاتی کاموں کی مد میں 28 ارب روپے دیے جائیں گے' ساڑھے 26 ہزار نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی' تحصیل و ٹاؤن کی سطح پر ماڈل پولیس اسٹیشن قائم ہوں گے' غریب عوام کے لیے سستے گھر بنانے کا اعلان بھی بجٹ کا حصہ ہے' ایک ہزار اضافہ کے ساتھ کم از کم اجرت 15 ہزار مقرر کی گئی' ذاتی رہائش گاہوں میں نہ رہنے والوں کے گھروں کا پراپرٹی ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے' شادی ہالوں' کیٹرنگ' ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں اور اسپیشلسٹ ڈاکٹروں پر ماہانہ ٹیکس کا نفاذ اور نجی تعلیمی اداروں پر مختلف شرحوں سے ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اگر بجٹ دستاویزات کو دیکھا جائے تو آیندہ مالی سال کے بجٹ میں صوبہ کو 10 ارب کے خسارے کا سامنا ہے لیکن خسارہ کو پوشیدہ رکھنے کے لیے اندرونی قرض لے کر اسے متوازن بنانے کی کوشش کی گئی ۔اس کے بر عکس اگلے بجٹ میں ضلعی حکومتوں کے ترقیاتی حصہ30 فیصد سے کم کر کے 22 فیصد ہو گا 126 ارب کے صوبائی پروگرام میںاضلاع کو37 ارب سے زائد ملنے چاہیں تھے تاہم انھیں28 ارب ارب ملیں گے، عوام کو آیندہ مالی سال کے دوران سبسڈائزڈ نرخوں پر گندم اور آٹے کی فراہمی کے لیے 2 ارب90 کروڑ روپے سبسڈی دی جائے گی۔ آیندہ مالی سال ہنگو میں ٹاؤن شپ، چارسدہ میں سرکاری ہاؤسنگ اسکیم، سوات میں ابوہا ہاؤسنگ اسکیم، پشاور میں اپارٹمنٹس اور شاپنگ مال، نشتر آباد پشاور میں فلیٹس کی تعمیر کے علاوہ ماڈل ٹاؤن پشاور اور موٹروے سٹی نوشہرہ جیسے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
مجموعی طور پر26598 نئی بھرتیوں سے صوبہ کے ملازمین کی مجموعی تعداد بڑھ کر494625 ہو جائے گی، جاری مالی سال 2016-17ء میں صوبہ کے سرکاری ملازمین کی کل تعداد468027 ہے تاہم آیندہ سال کی نئی بھرتیوں سے یہ تعداد بڑھ کر پانچ لاکھ کے قریب چلی جائے گی۔آیندہ مالی سال تنخواہوں کی مد میں صوبائی حکومت کو 29 ارب جب کہ پنشن پر 13 ارب کے اضافہ اخراجات کرنے پڑیں گے، دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت جو پنجاب کے مختلف شہروں میں میٹرو سروس کو ہدف تنقید بناتی رہی اب ایشیائی ترقیاتی بینک سے 45 ارب سے زائد قرضہ لے کر اپنے زیر اقتدار صوبہ کے دارالحکومت پشاور میں ریپڈبس سروس کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل ہے، جس سے بہر حال شہریوںکو ایک باوقار انداز میں سفری سہولیات مہیا ہوں گی ۔