کاروباری برادری نے11 مطالبات پیش کر دیے بجٹ میں شامل نہ کرنے پر سخت فیصلے کا انتباہ

بجلی وگیس نرخ حریف ممالک کے مساوی، ٹرن اوورٹیکس میں مجوزہ اضافہ واپس،2 فیصد ایڈوانس اورسپرٹیکس ختم کیاجائے، زبیرطفیل

کمرشل امپوٹر کا آڈٹ نہیں ہونا چاہیے، بلڈرز وڈیولپرز پر فکسڈ ٹیکس برقرار،ایف بی آر بغیراطلاع چھاپے نہ مارے،ایس ایم منیرودیگرکے ساتھ پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیرطفیل نے پارلیمنٹ سے وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل وزیراعظم میاں نوازشریف اور وزیر خزانہ اسحق ڈار کو فنانس بل میں موجود خامیوں کودور کرنے کے لیے بزنس کمیونٹی کی مشاورت سے 11نکات بھیج دیے اور کہا ہے کہ ان نکات کومنظور کیا جائے۔

گزشتہ روز فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زبیرطفیل نے نائب صدور اورسابق صدر ایس ایم منیر کے ہمراہ فیڈریشن ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت سیلزٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈ ادا کرے، بجلی اور گیس کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے برابر کیے جائیں، ٹرن اوور ٹیکس 1 فیصد سے 1.25 فیصد کیے جانے کی تجویز کسی صورت منظور نہیں، ٹرن اوورٹیکس 1 فیصد پر برقرار رکھا جائے۔

پریس کانفرنس میں ثاقب فیاض مگوں، حنیف گوہر، عبدالسمیع خان، نقی باڑی، شکیل ڈھینگڑا، نسیم الرحمن اور دیگر بھی موجودتھے۔ زبیرطفیل نے بتایا کہ گزشتہ روز فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کا فنانس بل پر اجلاس ہوا جس میںکراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ممبران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور تمام تاجر نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی بجٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری سے قبل فیڈریشن کی جانب سے پیش کردہ 11نکات کو منظور کیا جائے، 5 سال پہلے لگایاگیا2 فیصد ایڈوانس ٹیکس بھی واپس لیا جائے، کمرشل امپوٹر کا آڈٹ نہیں ہونا چاہیے، بلڈرز اور ڈیولپرز پر گزشتہ سال فکسڈ ٹیکس لگایا گیا تھااسے برقرار رکھا جائے جبکہ صنعتی بجلی کے نرخ 25 فیصد کم کیے جائیں۔


دوسری جانب زبیرطفیل نے کہا کہ چھاپے مار کربزنس کمیونٹی کوہراساں کیا جارہاہے، ایف بی آر کے افسران کو کسی فیکٹری یا دکان پر چھاپے مارنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، ایف بی آر چھاپے مارنے سے پہلے نوٹس دے اور جہاں اسے چھاپہ مارنا ہو وہاں ایف پی سی سی آئی کے ایک نمائندے اور متعلقہ ایسوسی ایشنز کے نمائندے کے ساتھ کارروائی کرے، اس کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا میں ایف بی آر کی جانب سے لگایا گیا سرکلر نمبر 14واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مسلسل تیسرے سال سپر ٹیکس لگا رہی ہے جبکہ سپرٹیکس صرف ایک سال کیلیے لگایا گیا تھا، ہم سپر ٹیکس آئندہ سال کیلیے نامنظور کرتے ہیں۔

زبیرطفیل نے کہا کہ ایف بی آر نے ایکسپورٹرز کے سیلزٹیکس،انکم ٹیکس اور ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں اربوں روپے کے ریفنڈز روک رکھے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ جن کیسز کے آر پی اوز جاری ہوچکے ہیں اور جو ریفنڈز کیسز حتمی مراحل میں ہیں انہیں ماہ اگست میں ادائیگیاں کی جائیں جبکہ ایف بی آر نے بہت سے آر پی اوز دبا رکھے ہیں وہ بھی 14اگست سے پہلے ادا کیے جائیں ۔

ادھر ایس ایم منیر نے اس موقع پر کہا کہ اگر حکومت نے 11 نکات منظور نہ کیے تو سخت سے سخت فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے، ہم ہڑتال پر یقین نہیں رکھتے لیکن اگر ضرورت پڑی تواس اقدام سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف نے برآمدی صنعتوں کے لیے 180 ارب کا پیکیج دیا تھااس میں سے صرف 1ارب روپے ملے اور 4ارب روپے کا ذکر بجٹ میں کیا گیاہے، وزیر اعظم پیکیج کا باقی 176ارب روپے کہاں گیا، اس بارے میں ہمیں نہیں معلوم، ہم نے گیند حکومت کی کورٹ میں پھینک دی ہے اور اگر ہماری بات نہ سنی گئی تو پھربزنس کمیونٹی کی مشاورت سے سخت ترین لائحہ عمل اپنائیں گے۔
Load Next Story