متاثرین لیاری ایکسپریس وے کیلیے 10کروڑ موصول ہوگئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کا ہائیکورٹ میں بیان
فاضل بینچ نے 50ہزار روپے اور 80گز کے پلاٹس نہ ملنے سے متعلق درخواست پروجیکٹ ڈائریکٹرکے بیان کے بعد نمٹادیں۔
فاضل بینچ نے 50ہزار روپے اور 80گز کے پلاٹس نہ ملنے سے متعلق درخواست پروجیکٹ ڈائریکٹرکے بیان کے بعد نمٹادیں۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کی متعدد درخواستوں کی سماعت کی۔
فاضل بینچ نے 50ہزار روپے اور 80گز کے پلاٹس نہ ملنے سے متعلق درخواست پروجیکٹ ڈائریکٹر لیاری ایکسپریس وے کے بیان کے بعد نمٹادیں جبکہ لیز جائیدادوںکو مارکیٹ ویلیو کے حساب سے معاوضہ ادانہ کرنے پر کمشنر کراچی، پروجیکٹ ڈائریکٹر لیاری ایکسپریس وے کو22فروری کیلیے توہین عدالت کانوٹس جاری کردیا۔
عدالت نے آبزرو کیا کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے،متعدد نوٹسز کے باوجود احکامات پر عمل درآمد نہیںہوا،عدالت نے کمشنر کراچی کوتوہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے قراردیا کہ تسلی بخش جواب نہ دینے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے، اخترجمال،حنیف اور محمدبلال سمیت 206درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے ایک درخواست پر 8 اگست 2012 کو مدعا علیہان کو حکم دیا تھا کہ لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو3ہفتوں میں معاوضہ ادا کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کیلیے وفاقی مالی بجٹ میں رقم مختص کردی گئی اور متاثرین کو ادائیگی کردی جائے گی مگر عدالتی حکم کے باوجود معاوضے کی ادائیگی نہیں کی گئی، مدعا علیہاںکیخلاف توہین عدالت کی کاررروائی کی جائے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار گلبرگ ٹائون اور گلشن اقبال کے علاقوں میں واقع سونگل نالا،قائداعظم کالونی،گلشن مصطفی اور بھنگوریہ گوٹھ کے رہائشی ہیں تاہم لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کیلئے ان کے گھروں کو مسمار کردیا گیا اور فی کس 50ہزارروپے معاوضہ اور متبادل پلاٹ دینے کی بھی یقین دہانی کرائی تھی مگر تاحال معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔
درخواست گزاروں کی اراضی لیزاور قانونی تھی ،عدالت نے ہدایت کی تھی درخواست گزاروں کو ان کی اراضی کی مالیت کے حساب سے معاوضہ ادا کیا جائے،دریں اثناء فاضل عدالت نے محمد عثمان سمیت 82درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست نمٹادی، پراجیکٹ ڈائریکٹر لیاری ایکسپریس وے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کیلیے 10کروڑروپے انھیں موصول ہوگئے ہیں جلد ہی متاثرین کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ادا کردیے جائیں گے۔
فاضل بینچ نے 50ہزار روپے اور 80گز کے پلاٹس نہ ملنے سے متعلق درخواست پروجیکٹ ڈائریکٹر لیاری ایکسپریس وے کے بیان کے بعد نمٹادیں جبکہ لیز جائیدادوںکو مارکیٹ ویلیو کے حساب سے معاوضہ ادانہ کرنے پر کمشنر کراچی، پروجیکٹ ڈائریکٹر لیاری ایکسپریس وے کو22فروری کیلیے توہین عدالت کانوٹس جاری کردیا۔
عدالت نے آبزرو کیا کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے،متعدد نوٹسز کے باوجود احکامات پر عمل درآمد نہیںہوا،عدالت نے کمشنر کراچی کوتوہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے قراردیا کہ تسلی بخش جواب نہ دینے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے، اخترجمال،حنیف اور محمدبلال سمیت 206درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے ایک درخواست پر 8 اگست 2012 کو مدعا علیہان کو حکم دیا تھا کہ لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو3ہفتوں میں معاوضہ ادا کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کیلیے وفاقی مالی بجٹ میں رقم مختص کردی گئی اور متاثرین کو ادائیگی کردی جائے گی مگر عدالتی حکم کے باوجود معاوضے کی ادائیگی نہیں کی گئی، مدعا علیہاںکیخلاف توہین عدالت کی کاررروائی کی جائے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار گلبرگ ٹائون اور گلشن اقبال کے علاقوں میں واقع سونگل نالا،قائداعظم کالونی،گلشن مصطفی اور بھنگوریہ گوٹھ کے رہائشی ہیں تاہم لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کیلئے ان کے گھروں کو مسمار کردیا گیا اور فی کس 50ہزارروپے معاوضہ اور متبادل پلاٹ دینے کی بھی یقین دہانی کرائی تھی مگر تاحال معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔
درخواست گزاروں کی اراضی لیزاور قانونی تھی ،عدالت نے ہدایت کی تھی درخواست گزاروں کو ان کی اراضی کی مالیت کے حساب سے معاوضہ ادا کیا جائے،دریں اثناء فاضل عدالت نے محمد عثمان سمیت 82درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست نمٹادی، پراجیکٹ ڈائریکٹر لیاری ایکسپریس وے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کیلیے 10کروڑروپے انھیں موصول ہوگئے ہیں جلد ہی متاثرین کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ادا کردیے جائیں گے۔