مشرق وسطیٰ کا بحرانپاکستان ثالثی کی کوشش کرے
سعودی عرب‘ ایران اور قطر کے تنازعات نے پاکستان کو دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے
سعودی عرب‘ ایران اور قطر کے تنازعات نے پاکستان کو دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے ۔ فوٹو: فائل
قومی اسمبلی نے سعودی عرب اور قطر سمیت خلیجی ممالک کے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے مطالبے کے ساتھ ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر دہشتگردوں کے حملے کے خلاف قراردادیں منظور کرلیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کے مطالبے پر وزیر قانون زاہد حامد اور آفتاب شیر پاؤ نے متفقہ قراردادیں پیش کیں جس میں ایران کی پارلیمنٹ اور عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا گیا، قرارداد میں سعودی عرب اور قطر میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے کہا گیا کہ دونوں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں، حکومت پاکستان مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی فضا یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ادھر قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم میاںمحمد نواز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے سعودی عرب' قطر اور ایران سب کے ساتھ تعلقات اہم ہیں' پاکستان خلیجی ملکوں کے تعلقات بہترکرنے میں ثالثی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم ممالک کے درمیان اتفاق و اتحاد پر یقین رکھتا ہے' اسے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ہے۔
مشرق وسطیٰ کے حالات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں' اس کا آغاز عراق کے کویت پر حملے سے تو ہو گیا تھا لیکن اس میں شدت سعودی عرب اور یمن کے درمیان ہونے والی جھڑپوں سے آئی۔ سعودی عرب اور ایران ریاستی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے' اس کے بعد سعودی عرب نے مختلف اسلامی ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے بعد سعودی عرب اور قطر کے درمیان تنازعات پہلی بار سامنے آئے ہیں یہاں تک کہ خلیجی ممالک نے اس کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا' اس صورت حال کے تناظر میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں صورت حال مزید پیچیدہ ہو گی جو خلیجی ممالک کے لیے مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ امیر کویت اور ترک صدر سعودی عرب اور قطر کے درمیان ثالثی کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک اس کے مثبت اثرات سامنے نہیں آئے اور صورت حال جوں کی توں کشیدہ چلی آ رہی ہے۔
سعودی عرب' ایران اور قطر کے تنازعات نے پاکستان کو دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے' اسلامی ممالک ہونے کے ناتے پاکستان کے سب کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے تو دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ ہمارے گہرے تعلقات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا' قطر کے ساتھ بھی پاکستان کے بہت سے تجارتی معاہدے موجود ہیں لہٰذا اس گمبھیر اور پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کے لیے کسی ایک ملک کا ساتھ دینے کا مطلب دوسرے سے تعلقات خراب کرنا ہے۔ ایران اور مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کے درمیان جنم لینے والے تنازعات کی نوعیت اور شدت کو کم کرنا اور انھیں ایک دوسرے کے قریب لانا ہی پاکستان اور پوری مسلم امہ کے مفاد میں ہے۔
پاکستان کو بھی اس صورت حال کا ادراک ہے لہٰذا اس کی یہ کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے' اسی جانب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر معاملات حل کرانے کی کوشش کرے گا۔ اگر ایران اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کسی بھی کشیدہ صورت حال کے باعث متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ لہٰذا پاکستان کی قومی اسمبلی نے سعودی عرب اور قطر میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے قرارداد پیش کرکے درست جانب قدم اٹھایا ہے۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے حوالے سے معاملات کو پارلیمنٹ میں زیربحث لائے اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ دوسری جانب ایران میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات بھی پاکستان اور خطے کے لیے اشارہ ہیں کہ اگر انھوں نے اس جانب توجہ نہ دی اور باہمی اختلافات میں الجھے رہے تو آنے والے وقت میں انھیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر مسلم ممالک نے آنے والے خطرات کا بروقت ادراک نہ کیا اور باہمی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی تو پھر ان کے پاس کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہ آئے گا۔
ادھر قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم میاںمحمد نواز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے سعودی عرب' قطر اور ایران سب کے ساتھ تعلقات اہم ہیں' پاکستان خلیجی ملکوں کے تعلقات بہترکرنے میں ثالثی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم ممالک کے درمیان اتفاق و اتحاد پر یقین رکھتا ہے' اسے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ہے۔
مشرق وسطیٰ کے حالات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں' اس کا آغاز عراق کے کویت پر حملے سے تو ہو گیا تھا لیکن اس میں شدت سعودی عرب اور یمن کے درمیان ہونے والی جھڑپوں سے آئی۔ سعودی عرب اور ایران ریاستی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے' اس کے بعد سعودی عرب نے مختلف اسلامی ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے بعد سعودی عرب اور قطر کے درمیان تنازعات پہلی بار سامنے آئے ہیں یہاں تک کہ خلیجی ممالک نے اس کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا' اس صورت حال کے تناظر میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں صورت حال مزید پیچیدہ ہو گی جو خلیجی ممالک کے لیے مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ امیر کویت اور ترک صدر سعودی عرب اور قطر کے درمیان ثالثی کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک اس کے مثبت اثرات سامنے نہیں آئے اور صورت حال جوں کی توں کشیدہ چلی آ رہی ہے۔
سعودی عرب' ایران اور قطر کے تنازعات نے پاکستان کو دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے' اسلامی ممالک ہونے کے ناتے پاکستان کے سب کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے تو دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ ہمارے گہرے تعلقات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا' قطر کے ساتھ بھی پاکستان کے بہت سے تجارتی معاہدے موجود ہیں لہٰذا اس گمبھیر اور پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کے لیے کسی ایک ملک کا ساتھ دینے کا مطلب دوسرے سے تعلقات خراب کرنا ہے۔ ایران اور مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کے درمیان جنم لینے والے تنازعات کی نوعیت اور شدت کو کم کرنا اور انھیں ایک دوسرے کے قریب لانا ہی پاکستان اور پوری مسلم امہ کے مفاد میں ہے۔
پاکستان کو بھی اس صورت حال کا ادراک ہے لہٰذا اس کی یہ کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے' اسی جانب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر معاملات حل کرانے کی کوشش کرے گا۔ اگر ایران اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کسی بھی کشیدہ صورت حال کے باعث متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ لہٰذا پاکستان کی قومی اسمبلی نے سعودی عرب اور قطر میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے قرارداد پیش کرکے درست جانب قدم اٹھایا ہے۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے حوالے سے معاملات کو پارلیمنٹ میں زیربحث لائے اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ دوسری جانب ایران میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات بھی پاکستان اور خطے کے لیے اشارہ ہیں کہ اگر انھوں نے اس جانب توجہ نہ دی اور باہمی اختلافات میں الجھے رہے تو آنے والے وقت میں انھیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر مسلم ممالک نے آنے والے خطرات کا بروقت ادراک نہ کیا اور باہمی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی تو پھر ان کے پاس کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہ آئے گا۔