دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

اس وقت عالمی امن کے لیے داعش جیسی تنظیم ایک شدید خطرہ ہے

اس وقت عالمی امن کے لیے داعش جیسی تنظیم ایک شدید خطرہ ہے . فوٹو : فائل

پاکستانی فوج ایک طویل عرصے سے دہشتگردوں کے خلاف 'حالت جنگ' میں ہے، اور اب دہشتگردوں کے قدم اکھڑنا شروع ہو گئے ہیں، وہ راہ فرار اختیارکر رہے ہیں، لیکن پاک فوج ان کے تعاقب میں ہے، اور انھیں خفیہ ٹھکانوں سے نکال کر قانون کی گرفت میں لایا جا رہا ہے۔اسی حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ مستونگ میں کامیاب آپریشن سے داعش کا انفراا سٹرکچر قائم ہونے سے پہلے تباہ کر دیا گیا ہے اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری پر حملے میں ملوث دہشتگرد بھی آپریشن میں مارے گئے، مزید تفصیلات کے مطابق دہشتگردوں کے قبضے سے بارودی سرنگیں، بڑی تعداد میں بارودی مواد، تین خودکش جیکٹس، اٹھارہ گرینیڈ، چھ راکٹ لانچر،چارلائٹ مشین گنز، اٹھارہ چھوٹی مشین گنیں، چار اسنائپر رائفلز، 38 مواصلاتی سیٹس سمیت دیگر اشیاء برآمد کی گئیں کالعدم تنظیم داعش سے رابطوں کی کوشش کر رہی تھی اور بلوچستان میں اس کے ٹھکانوں کے لیے سہولت فراہم کرنا چاہتی تھی۔


اس وقت عالمی امن کے لیے داعش جیسی تنظیم ایک شدید خطرہ ہے، داعش نے مقامی کالعدم دہشتگردوں تنظیموں کے ساتھ روابط میں خاصی تیزی دکھائی ہے، لیکن اس طرح زائد تیز اور مستعد ہماری پاک فوج ثابت ہوئی ہے جس نے سرعت سے کارروائی کرتے ہوئے داعش کے کو پاکستان میں قدم جمانے سے روک دیا ہے، اسے بلاشبہ ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی ایک لعنت ہے جس کے خاتمے کے لیے مشترکہ جواب دینے کی ضرورت ہے۔

دوست ممالک کی انسداد دہشتگردی صلاحیت میں اضافے میں کردار پر خوشی ہے۔ یہ بات انھوں نے تربیلا میں ایس ایس جی کے تربیتی علاقے کے دورے اور نائیجرین فوجی دستے کی تربیت مکمل ہونے کی تقریب میں شرکت کے موقعے پر کی۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، اس کے خاتمے کے لیے پاکستان کے دوست ممالک نے بھی ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پاک فوج ایک پروفیشنل فوج ہے جس کی صلاحیتوں کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جا چکا ہے۔ ہزاروں فوجی جوانوں نے اپنی جانیں ارض وطن پر قربان کر کے ہمارے آج اور آنے والے کل کو محفوظ بنایا ہے۔ پاک فوج دہشتگردوں کے خاتمے کا وسیع تجربہ بھی رکھتی ہے، اس لیے نائیجرین فوجی دستے نے پاکستانی فوج سے تربیت لی۔ دہشتگردی ایک ناسورہے اور اس کے خاتمے کے لیے پاکستان سمیت دوست ممالک کو ایسی مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے جسے اس لعنت کا مکمل خاتمہ ہو سکے اور خطے کے عوام امن و سکون کی زندگی گزار سکیں۔
Load Next Story