انسانی حقوق اور ریاستی مشینری

سرمایہ دارانہ نظام میں انسانی حقوق کے احترام کا جو فراڈ کھڑا کیا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

QUETTA:
ظلم کا نام جب ذہن میں آتا ہے تو فطری طور پر مزاحمت اور بغاوت کا تصور بھی ذہن میں آتا ہے، ظلم اور مزاحمت عمل اور ردعمل کا ایک فطری سلسلہ ہے۔ دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ظالم اور مظلوم یہ دوکردار تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں تاریخ کا حصہ نظر آتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام کی آمد کے بعد دنیا کے سرمایہ پرستوں نے اپنے نظام کی حفاظت کے لیے ریاستی مشینری قانون اور انصاف کے ایسے ادارے قائم کیے، جنھیں مہذب معاشروں کی ضرورت تو قرار دیا گیا لیکن عملاً یہ سارے ادارے سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کے لیے کام کرتے رہے۔

مثلاً طبقاتی ظلم و استحصال کی سب سے بڑی وجہ نجی ملکیت کی لامحدود آزادی ہے اس آزادی کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کی 80 فیصد دولت گنتی کے چند خاندانوں کے ہاتھوں میں آ گئی جس کا لازمی نتیجہ 80 فیصد سے زیادہ عوام کی غربت کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ چند خاندانوں کے ہاتھوں میں جو 80 فیصد سرمایہ جمع ہو جاتا ہے وہ جائز طریقے سے جمع کیا ہوا سرمایہ نہیں ہوتا بلکہ مکمل طور پر ناجائز طریقے سے جمع کیا ہوا سرمایہ ہوتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے بڑی چالاکی سے نجی ملکیت کو قانونی اور آئینی تحفظ فراہم کر کے لامحدود حق ملکیت کو اس طرح محفوظ اور قانونی بنا دیا کہ اس حوالے سے کی جانے والی قانون شکنی تصور سے بھی پرے ہو گئی۔ لامحدود حق ملکیت کو بلا تخصیص قرار دے کر فراڈ کا ایک ایسا راستہ نکالا گیا کہ دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ عوام اس کھلے فراڈ کی ضد میں آ گئے کیونکہ 80 فیصد آبادی کو نجی حق ملکیت تو دے دیا گیا لیکن عملاً اس آبادی کی نجی ملکیت اس کے دو ہاتھ ہی رہے جو سرمائے کی تخلیق تو کرتے رہے لیکن خود ہمیشہ بھوک پیاس بیروزگاری کا شکار رہے۔ آج جب میڈیا میں دنیا کے دولت مند ترین افراد کے نام اور ان کے سرمائے کے اعداد و شمار آتے ہیں تو نجی ملکیت کی وحشت ناک تصویر سامنے آ جاتی ہے۔

وہ سفاکانہ طبقاتی مظالم ہیں جو صدیوں سے جاری ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی دانشور کوئی مفکر کوئی فلسفی کوئی سیاستدان منظم طریقے سے آواز اٹھاتا نظر نہیں آتا۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کے خالق بڑے فخر سے لیکن چالاکی سے عوام کو قوت کا سرچشمہ تو قرار دیتے ہیں لیکن قوت کے اس سرچشمے کو دولت کی تخلیق پر تو لگا دیا گیا لیکن جہل اور لاعلمی کی زنجیروں سے انھیں اس طرح باندھ دیا گیا کہ نہ وہ ارتکاز زر کے میکنزم کو سمجھنے کے قابل رہے نہ ارتکاز زر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی ناانصافی کو وہ سمجھ سکتے ہیں نہ اس کے خلاف شعوری مزاحمت کی طرف آتے ہیں۔


دنیا کی انقلابی تاریخ میں مڈل کلاس کو اس لیے اہمیت حاصل رہی کہ باشعور مڈل کلاس طبقاتی مظالم کے خلاف عوام میں طبقاتی شعور پیدا کر کے انھیں طبقاتی نظام کے خلاف متحرک کرنے کا فریضہ ادا کرتی تھی لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ مڈل کلاس امرا کی سب سے بڑی محافظ بن گئی ہے۔ اس کلاس کی لوٹ مارکی سب سے بڑی وکیل مڈل کلاس بن گئی ہے۔ آج ساری دنیا میں اربوں کھربوں کے جو اسکینڈل سامنے آ رہے ہیں، اس کی مجرم تو اشرافیہ ہے لیکن اس کا دفاع کرنے والوں پر اگر آپ نظر ڈالیں تو آپ کے سامنے مڈل کلاس ہی آتی ہے جو اپنی زندگی کو پرتعیش بنانے کے لیے اپنے روایتی کردار سے غداری کر کے اسمبلیوں کے اندر اسمبلیوں کے باہر پرنٹ میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر انتہائی بے شرمی سے اشرافیہ کا دفاع کرتی نظر آتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مڈل کلاس اپنے روایتی کردار سے کیوں غداری کر رہی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام نے حصول دولت کی جو اندھی دوڑ لگا دی ہے مڈل کلاس بھی اس میں شامل ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں انسانی حقوق کے احترام کا جو فراڈ کھڑا کیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو حشرات الارض کی طرح پھیلا کر یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی منظم اور منصوبہ بند کوشش کی ہے اس کا واحد مقصد عوام ہیں یہ غلط فہمی پیدا کرنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں انسانی حقوق کا کس قدر احترام کیا جاتا ہے۔ اگر اس نظام زر میں انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے توکیا تین وقت کی روٹی انسانی حقوق میں شامل نہیں؟ کیا تن بھرکپڑا انسانی حقوق میں شامل نہیں؟ کیا مریض کے لیے بلا امتیاز علاج کی سہولت انسانی حقوق میں شامل نہیں؟ کیا معمولی روزگار انسانی حقوق میں شامل نہیں؟ کیا ایک معقول رہائش انسانی حقوق کا حصہ نہیں؟ کیا ایک آسودہ زندگی انسانی حقوق کی تعریف میں نہیں آتی؟

اقوام متحدہ انسانی حقوق کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ اگر زندہ رہنے کا حق انسانی حقوق میں شامل ہے تو پھر آج فلسطین اور کشمیر میں انسانی جانوں کا زیاں کیوں ہو رہا ہے؟ آج ساری دنیا میں پانامہ کیس کا غلغلہ کیوں مچا ہوا ہے؟ حکمران طبقات پر اربوں ڈالرکی لوٹ مار کے الزامات لگ رہے ہیں کیا یہ لوٹ مار اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ہے؟ اگر نہیں ہے اور اس لوٹ مار کے نتیجے میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور بھوک سے تنگ آئے ہوئے عوام انفرادی اور اجتماعی خودکشیاں کر رہے ہیں تو ان مظالم کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کیا کر رہی ہے؟ طبقاتی نظام انسانیت کی تذلیل ہے اور اس نظام کو ختم کرنا انسانوں کی بنیادی ذمے داری ہے سرمایہ دارانہ جمہوریت میں عوام کو طاقت کا سرچشمہ کہا جاتا ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام جب معاشی استحصال کے خلاف سڑکوں پر آتے ہیں۔ ظلم اور ظلم کے نظام کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ان کے خلاف لاٹھی گولی اورآنسوگیس کے گولے کیوں استعمال ہوتے ہیں؟
Load Next Story