سرکاری سطح پر پہلی قومی ٹیسٹنگ سروس آئندہ ماہ فعال ہوگی

انٹری ٹیسٹ پاس کرنیوالاطالبعلم جامعات کے بیچلر پروگرام میں میرٹ کے مرحلے تک پہنچ سکے گا

انٹر کا امتحان دینے والے شریک ہونگے، ابتدائی طور پر 5 کیٹگریز ہونگی، چیئرمین ایچ ای سی اور ایڈوائزر ہیومن ریسورس کی ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

سرکاری سطح پر پاکستان کی پہلی ٹیسٹنگ سروس آئندہ ماہ سے فعال ہو جائے گی اور سرکاری و نجی جامعات میں 4 سالہ ڈگری پروگرام میں داخلوں کے خواہشمند طلبا وطالبات کے لیے ایچ ای سی کے تحت قائم کی جانے والی ٹیسٹنگ سروس کے تحت بیک وقت پاکستان کے 22شہروں میں انٹری ٹیسٹ منعقد ہونگے جس میں ملک بھرسے انٹر کا امتحان دینے والے طلبا وطالبات شریک ہوسکیں گے۔

اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد اور ایڈوائزر ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ وسیم ہاشمی سید نے ''ایکسپریس''سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طورپراعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان نے پانچ کیٹگریز ''انجینئرنگ، میڈیکل، فائن آرٹس (ہیومینیٹیز)، کمپیوٹرسائنس اور مینجمنٹ سائنس'' کے شعبوں کے لیے انٹری ٹیسٹ لینے کافیصلہ کیاہے جو جولائی کے پہلے ہفتے میں ایک ساتھ پورے ملک میں لیاجائے گا۔

100نمبرکے ٹیسٹ پیپر میں مجوزہ طورپر70مارکس متعلقہ مضمون سے متعلق ہوگا جبکہ 20مارکس انگریزی اور10 مارکس معلومات عامہ (جنرل نالج) کے ہونگے ٹیسٹ کے لیے 50نمبرپاسنگ مارکس کے طورپرمقررکیے گئے ہیں ٹیسٹ پاس کرنے والا طالب علم ملک کے چاروں صوبوں کی سرکاری ونجی جامعات میں متعلقہ شعبوں میں ڈگری پروگرام میںمیرٹ کی تیاری کے مرحلے کے لیے اہل ہوجائیں گے تاہم اس سلسلے میں جن جامعات سے ایچ ای سی کی بات چیت چل رہی ہے اوران جامعات نے ایچ ای سی کی ٹیسٹنگ سروس کے تحت انٹری ٹیسٹ پاس کرنے والے طلبہ کوداخلے کے لیے اہل قراردینے کی رضامندی ظاہرکی ہے ان کی فہرست جاری کردی جائے گی۔


وسیم ہاشمی سید نے بتایاکہ اس سلسلے میں پاکستان کی 180نجی وسرکاری جامعات کوخطوط جاری کیے گئے ہیں اورمحض دوروز کے اندر11جامعات کی جانب سے ٹیسٹ کے نتائج تسلیم کرتے ہوئے طلبہ کومیرٹ کے مرحلے کے لیے قبول کرنے کے سلسلے میں جوابی خطوط موصول ہوچکے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹ کے نتائج دوسال تک قابل قبول ہونگے اورٹیسٹ پیپرکے ساتھ طالب علم کوکاربن کاپی بھی دی جائے گی اورطالب علم جوابی کاپی کا عکس اپنے ساتھ لے جاسکے گا، ٹیسٹ کے نتائج اسی روز ایچ ای سی کی ویب سائٹ پرجاری ہونگے اورطالب علم اپنی جوابی کاپی کے عکس سے اپنے نتائج کاموازنہ کرسکے گا تاہم اگرکوئی طالب علم ٹیسٹ میں فیل ہوجائے تواسے آئندہ کچھ روزمیں منعقدہ مزیدایک ٹیسٹ میں شرکت کی اجازت ہوگی ٹیسٹ کے لیے طالب علم کوآن لائن رجسٹریشن کرانی ہوگی جس کے بعد طالب علم کورول نمبراورٹیسٹ کے حوالے سے دیگرمتعلقہ تفصیلات جاری کردی جائیں گی ایک سوال پران کاکہناتھاکہ ٹیسٹ کی رجسٹریشن کی فیس ابتدائی طورپرصرف 200روپے مقررکی جارہی ہے۔

ٹیسٹ پیپرکے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ایڈوائزرہیومین ریسورس ڈیوولپمنٹ کا کہنا تھا کہ یہ ٹیسٹ پیپرانٹرکے نصاب کوسامنے رکھتے ہوئے ترتیب دیاجارہے ہے جس کے لیے بنیادی طورپرکالج اساتذہ کی خدمات لی جارہی ہیں کیونکہ کالجوں میں پڑھائے جانے والے نصاب سے کالج اساتذہ زیادہ واقف ہیں ٹیسٹ کے مراکزکے حوالے سے ان کاکہناتھاکہ یہ ٹیسٹ ملک بھرکی سرکاری جامعات میں لیے جائیں گے جبکہ جن شہروں یا علاقوں میں جامعات موجود نہیں ہیں وہاں یہ ٹیسٹ کالجوں میں ہونگے۔

واضح رہے کہ کراچی میں ٹیسٹ کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی اور جامعہ کراچی کا انتخاب کیا گیا ہے جبکہ آئی بی اے کراچی سے سٹی کیمپس میں ٹیسٹ کے انعقادکے بات چیت چل رہی ہے سندھ میں آئی بی اے سکھر، ٹنڈوجام یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی جامشوروکے لیے علاوہ دیگرمراکز پر ٹیسٹ لیے جائیں گے جبکہ لاہورمیں پنجاب یونیورسٹی کے علاوہ دیگرجامعات کاانتخاب کیا گیا ہے۔
Load Next Story