میانوالی کی نئے صوبے میں شمولیت قبول نہیں حمیرروکھڑی

ٹی وی پر اصل نمائندے نہیں آتے، معظم جتوئی،کمیشن کی تجویز حتمی نہیں، آصف حسنین۔

نئے صوبے کے نام پر بہت بڑا مذاق کیا جارہا ہے، انعام اللہ نیازی’’کل تک ‘‘میں گفتگو. فوٹو: فائل

مسلم لیگ ن کے رہنما حمیر حیات خان روکھڑی نے کہا ہے کہ انتظامی امور کے اعتبار سے میانوالی کی نئے صوبے میں شمولیت ہمیں کسی صورت بھی قبول نہیں ہے۔

ہم کبھی بھی تاریخی ،انتظامی،سیاسی لحاظ سے جنوبی پنجاب سے وابستہ نہیں رہے، ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''کل تک'' میں اینکر پرسن جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوںنے کہاکہ میانوالی کی پوری سول سوسائٹی اب سراپا احتجاج ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما معظم علی جتوئی نے کہا کہ کسی بھی معاملے میں سوفی صد اتفاق رائے نہیں ہوتا۔ نئے صوبے کے خلاف جو احتجاج ہورہے ہیں وہ سب مصنوعی ہیں اگرکوئی لاہور یا اسلام آباد میں احتجاج کرانا چاہے تو وہ بھی ہوسکتا ہے۔ بہاولپور کے حوالے سے جو لوگ ٹی وی پر آکر باتیںکرتے ہیں وہ وہاں کے لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔




ایم کیو ایم کے رہنما آصف حسنین نے کہا کہ صوبوں کے بارے کمشن کی تجویز حتمی نہیں، جتنی بھی بحث ہورہی ہے وہ سب مفروضوں پر مبنی ہے حتمی رائے پارلیمنٹ میں بحث کے بعد طے کی جائے گی۔کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ آئینی طریقہ چھوڑ کر فیصلے سڑکوں پر کیے جائیں،کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی ڈیمانڈ ہی نہیں ہے تو صوبہ کس طرح بنے گا ۔تحریک انصاف کے رہنما انعام اللہ خان نیازی نے کہا کہ یہ بات تو سب بھول جائیں کہ میانوالی کو نئے صوبے میں شامل کیاجاسکے گا ۔ نئے صوبے کے نام پر بہت بڑا مذاق کیا جارہا ہے ۔
Load Next Story