سماج کی ’نو‘ گرہیں

جب یوسفؑ سا حسین پیغمبر مصر کے بازار میں بکتے دیکھا تو یقین ہوگیا کہ اِس دنیا میں کچھ بھی خریدا یا بیچا جاسکتا ہے۔

سر جب آپ، میں اور یہ سماج سچ کہہ نہیں سکتے، سچ سننا نہیں چاہتے اور سچ برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تو ہم اِس قدر کڑوی کسیلی چیز کو سچ کا نام کیوں دے رہے ہیں؟


جنت اور بے روزگار


اُس نے رات کے اندھیرے میں مجھ پر آواز کستے ہوئے کہا صاحب کب تک جلتے الاؤ کو یونہی پھونکوں سے بجھاتے رہوگے؟

آؤ تم کو دِکھلاؤں کے کچھ جنتیں زمین پر بھی ہیں۔ جہاں جانا صرف کسی کسی کا مقدر ہوتا ہے۔ میں اِس کی باتوں نظر انداز کرتا اپنے راستے پر گامزن رہا، لیکن اسے کیا خبر کہ جسے وہ میری شرافت سمجھ کر خود کو کوستی رہی ہوگی۔

اُس جنت کی انٹری تو درکنار اِس بے روزگار کے پاس گھر جانے کے لئے رکشہ کا کرایہ تک نہیں تھا۔


وعدہ اور بدچلنی


عروسی جوڑے میں ملبوس بیٹھی اپنی دلہن کے ساتھ جب عہد و پیماں اور کچھ نہ چھپانے کی قسمیں جاری تھیں تو اِس دوران اُس نے بتایا کہ یونیورسٹی میں میرا ایک افیئر مشہور ہوا تھا مگر وہ حقیقت پر مبنی نہیں تھا، میں دم بخود ہوگیا اور سوچنے لگا کہ کس قدر بدچلن عورت ہے۔ جبکہ دوسری طرف میرا تین لڑکیوں سے اُن کی شادی کے بعد بھی گہرا تعلق رہا۔ کسی نے اپنے خاوند سے اِس کا ذکر تک نہ کیا اور یہ عورت جو اپنا ایک افیئر مجھ سے نہ چُھپا سکی۔


ادھوری محبت اور افسانہ


میں نے اُس کی بے بسی سے بھرپور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اُسے بے رُخی سے جواب 'ناں' میں دیا۔

میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا، تمہیں بے وفا ہونا ہوگا، میرے افسانے میں محبوبہ بے وفا ہے، میں تمہاری وفا کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔

میں ادھوری محبت کرسکتا ہوں، مگر اپنا افسانہ ادھورا نہیں رہنے دے سکتا۔


بازار اورقیمت


تم مجھے نہیں خرید سکتی کسی بھی صورت، کچھ چیزیں نہیں بِک سکتیں۔

اُس نے میری طرف دیکھا اور اطمینان سے جواب دیا۔

میں بھی اِسی بات پر یقین رکھتی تھی مگر جب میں نے یوسفؑ سا حسین پیغمبر مصر کے بازار میں بکتے دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ اِس دنیا میں کچھ بھی خریدا یا بیچا جاسکتا ہے۔ بس یا تو عزیزِ مصر جتنی دولت ہو یا برادرانِ یوسف سا آہنی کلیجہ۔


ضرب اورتفریق


اپنے ہدف پر پہنچ کر اُس نے بارود سے بھری جیکٹ اتارنی چاہی مگر ناکام رہا، اور بے بسی کی تصویر بنے سوچتا رہا کہ میرے مسلک کے مُلا اور معاشرے کے استادوں نے مجھے تفریق اور تقسیم کا قاعدہ ہی کیوں پڑھایا۔

وہ مجھے محبتوں کو جمع اور ضرب کرنے کا فن بھی سکھا سکتے تھے، نقصان مذہب کا ہوا، میرا یا معاشرے کا؟


چھوٹے شہر یا سوچ



تم چھوٹے شہر کے لوگ بہت تنگ نظر اور تنگ دل ہو۔

تمہارا اور میرا یہ جوڑ، ہمارا ساتھ بہت مشکل ہے۔ یہ کہتے ہوئے اُس نے تین سال پرانے تعلق کو ختم کردیا۔

لیکن جب میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو آسمان کی وسعتوں کو اپنے سامنے پایا اور نظر جُھکا کر دل کو دیکھا تو کائنات کی وسعتوں میں نہ سماسکنے والے اپنے خدا کو موجود پایا۔

میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ شہر بڑے یا چھوٹے نہیں، لوگوں کی سوچ بڑی یا چھوٹی ہوتی ہے۔


سچ اور جھوٹ


کلاس کو پڑھاتے ہوئے جب میں سچ کی اہمیت پر زور دے رہا تھا تو ایک نوجوان طالبعلم کھڑا ہوا، اور مجھ سے سوال کرنے لگا۔

سر جب آپ، میں اور یہ سماج سچ کہہ نہیں سکتے، سچ سننا نہیں چاہتے اور سچ برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تو ہم اِس قدر کڑوی کسیلی چیز کو سچ کا نام کیوں دے رہے ہیں؟

کیوں نہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کوسچ مان کر اپنی زندگی کو رنگین اورخوشنما بنادیں اور لفظوں کی عزت بھی برقرار رہ جائے۔


انکل اور تحفہ


بیٹی باہر آؤ دیکھو کون آیا ہے؟

تمہارے پسندیدہ انکل جن کے ساتھ تم گھنٹوں کھیلتی تھیں۔ اماں نے خوشی سے چہچہاتے ہوئے مجھے بلایا۔

اِس بار انکل میرے لئے سوٹ کا تحفہ لائے تھے۔

جو بچپن میں مجھے تنہا کمرے میں چاکلیٹ کے تحفے دیا کرتے تھے۔

شاید اتنے سال بعد میں بھی بڑی ہوچکی تھی، انکل کے تحفے اور اُن کی ضروریات بھی۔


رمضان اور روزے


مسلسل رمضان میں ایک ہی ہوٹل پر سحری اور افطاری کے بعد آج خان بابا نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنے پاس بیٹھے دوستوں کو بتانے لگے۔

یہ نوجوان پہلی رمضان سے اب تک تمام روزے رکھ رہا ہے۔ ورنہ آج کے دور کے نوجوانوں میں اتنی مستقل مزاجی کہاں ہے؟ اور میں دل میں سوچنے لگا کیا بتاؤں کہ میں ہوسٹل میں رہتا ہوں نہ بھی چاہوں تو دن بھر بھوکا اور پیاسا ہی رہنا پڑتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی۔
Load Next Story