صدر وزیراعظم گورنر انتخابی مہم نہیں چلاسکیں گے الیکشن کمیشن
وال چاکنگ،سرکاری فنڈزسے اشتہارات اوراسلحہ نمائش پرپابندی،میڈیاپردباؤنہیں ڈالاجائیگا
خواتین کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائیگا،عدلیہ،مسلح افواج کا تمسخراڑانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلیے46نکات پرمشتمل حتمی ضابطہ اخلاق جاری کردیاجس کے تحت صدر،وزیر اعظم اورصوبوں کے گورنرزانتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
نگراں سیٹ اپ کا کوئی رکن بھی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکے گا،ترقیاتی اسکیموں ،وال چاکنگ پر پابندی اور سرکاری فنڈز اشتہارات پراستعمال نہیں کیے جاسکیں گے،خواتین کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا اور اسلحے کی نمائش پرپابندی ہو گی،پولنگ اسٹیشن کے 100گزکے اندرکسی سیاسی جماعت یاامیدوارکے بینرزلگانے پرپابندی ہوگی،امیدواروں کو عدلیہ اورمسلح افواج کی کسی قسم کی توہین یا تمسخر اڑانے کی اجازت نہیں ہوگی،میڈیاپردباؤنہیں ڈالاجائے گا۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے امیدوارکونااہل قرار دیا کیا جاسکتاہے۔منگل کوالیکشن کی کمیشن کی جانب سے جاری کیاگیاضابطہ اخلاق تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے تیارکیاگیا۔نئے ضابطہ اخلاق کے تحت سیاسی جماعتیں اورامیدوار کسی ایسے نظریے کا پرچار نہیں کریں گے جو نظریہ پاکستان ،پاکستان کی خودمختاری،یکجہتی اور اسکی سلامتی کے خلاف ہو، ،سیاسی جماعتیں اورامیدوار آئین کے مطابق لوگوں کے حقوق اور آزادی کے تحفظ کے پابندہوںگے۔
انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کوضابطہ اخلاق کے منافی سرگرمیوں سے روک دیا گیاہے جن میں ووٹروں کورشوت دینا،ووٹروں کو ہراساں کرنا،پولنگ اسٹیشن کی400گز کی حدود میں ووٹ مانگنے اور پولنگ سے اڑتالیس گھنٹے قبل جلسے کرنا شامل ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور حامیوں کو جلسوں اور جلوسوں کے دوران اور پولنگ کے اوقات کے دوران پرتشدد کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
الیکشن کمیشن نے امیدواروں اورسیاسی جماعتوں کی جانب سے میڈیاپردباؤ ڈالنے پربھی پابندی عائد کی ہے،انتخابات کے دوران ڈسڑکٹ ریٹرننگ افسران کوالیکشن شیڈول سے لے کر نتائج مکمل ہونے تک درجہ اول مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوںگے۔جلسہ گاہ اورپولنگ ڈے پراسلحہ کی نمائش پرمکمل پابندی ہوگی ،امیداوارانتخابی اخراجات صرف مخصوص اکاؤنٹ سے ہی کرسکے گا الیکشن کانتیجہ آنے کے ایک روزبعد بھی فائرنگ پر پابندی ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلیے46نکات پرمشتمل حتمی ضابطہ اخلاق جاری کردیاجس کے تحت صدر،وزیر اعظم اورصوبوں کے گورنرزانتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
نگراں سیٹ اپ کا کوئی رکن بھی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکے گا،ترقیاتی اسکیموں ،وال چاکنگ پر پابندی اور سرکاری فنڈز اشتہارات پراستعمال نہیں کیے جاسکیں گے،خواتین کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا اور اسلحے کی نمائش پرپابندی ہو گی،پولنگ اسٹیشن کے 100گزکے اندرکسی سیاسی جماعت یاامیدوارکے بینرزلگانے پرپابندی ہوگی،امیدواروں کو عدلیہ اورمسلح افواج کی کسی قسم کی توہین یا تمسخر اڑانے کی اجازت نہیں ہوگی،میڈیاپردباؤنہیں ڈالاجائے گا۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے امیدوارکونااہل قرار دیا کیا جاسکتاہے۔منگل کوالیکشن کی کمیشن کی جانب سے جاری کیاگیاضابطہ اخلاق تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے تیارکیاگیا۔نئے ضابطہ اخلاق کے تحت سیاسی جماعتیں اورامیدوار کسی ایسے نظریے کا پرچار نہیں کریں گے جو نظریہ پاکستان ،پاکستان کی خودمختاری،یکجہتی اور اسکی سلامتی کے خلاف ہو، ،سیاسی جماعتیں اورامیدوار آئین کے مطابق لوگوں کے حقوق اور آزادی کے تحفظ کے پابندہوںگے۔
انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کوضابطہ اخلاق کے منافی سرگرمیوں سے روک دیا گیاہے جن میں ووٹروں کورشوت دینا،ووٹروں کو ہراساں کرنا،پولنگ اسٹیشن کی400گز کی حدود میں ووٹ مانگنے اور پولنگ سے اڑتالیس گھنٹے قبل جلسے کرنا شامل ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور حامیوں کو جلسوں اور جلوسوں کے دوران اور پولنگ کے اوقات کے دوران پرتشدد کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
الیکشن کمیشن نے امیدواروں اورسیاسی جماعتوں کی جانب سے میڈیاپردباؤ ڈالنے پربھی پابندی عائد کی ہے،انتخابات کے دوران ڈسڑکٹ ریٹرننگ افسران کوالیکشن شیڈول سے لے کر نتائج مکمل ہونے تک درجہ اول مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوںگے۔جلسہ گاہ اورپولنگ ڈے پراسلحہ کی نمائش پرمکمل پابندی ہوگی ،امیداوارانتخابی اخراجات صرف مخصوص اکاؤنٹ سے ہی کرسکے گا الیکشن کانتیجہ آنے کے ایک روزبعد بھی فائرنگ پر پابندی ہوگی۔