عدالت خاموش نہیں بیٹھے گی شاہ رخ کو نابالغ قرار دے کر بچایا جارہا ہے چیف جسٹس
تعلیمی اسناد دیکھے بغیرکیسے نابالغ قرار دیا؟ افتخار چوہدری، شاہ رخ کی سفری دستاویزات طلب
پولیس کے سوا ہرکوئی جانتا ہے کہ قاتل کون ہیں،جسٹس گلزار، سماعت 4فروری تک ملتوی۔ فوٹو: آن لائن/ فائل
ISLAMABAD:
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے شاہ زیب قتل کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ سزائے موت سے بچانے کیلیے ملزمان کو نابالغ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اگرکوئی بڑا چاہتا کہ اسے چھوٹ مل جائے گی توایسا ممکن نہیں،یہ تاثر دور ہونا چاہیے کہ بااثر ملزمان کو سزا نہیں ملتی، اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں قانون اور ادارے موجود ہیں، تعلیمی اسناددیکھے بغیرشاہ رخ کیسے نابالغ قرارپایا؟۔کیس کسی انسپکٹر پر نہ چھوڑا جائے، پولیس کو یہ بھی پتہ نہیں ملزم ملک سے کیسے فرار ہو گیا، ہمارے نرم لہجے کا غلط مطلب نہ لیں، پولیس کیخلاف حکم بھی جاری کرسکتے ہیں، یہ پولیس کیلیے ٹیسٹ کیس ہے۔ دوسری جانب جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پولیس سب سے غافل ادارہ ہے، پولیس کے سوا ہر کوئی جانتا ہے کہ شاہ زیب کے قاتل کون ہیں۔
سپریم کورٹ نے منگل کی سماعت میں تفتیشی ٹیم کے علاوہ تمام پولیس حکام کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دیدیا اور شاہ رخ جتوئی کی سفری دستاویزات طلب کرتے ہوئے سماعت4 فروری تک ملتوی کردی۔آئی جی فیاض لٖغاری بھی موجود تھے۔ منگل کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میںسپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس کی سماعت کی۔ ڈی آئی جی شاہد حیات نے عدالت میں پیش رفت رپورٹ دی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شاہ زیب کی بہن کوچھیڑا گیا، الٹا اسی کوقتل کردیا گیا۔ شاہ رخ کے والد سکندرجتوئی نے ٹی وی پروگرام کے ذریعے پولیس کو گمراہ کیا، چیف جسٹس نے پوچھا کہ شاہ رخ کیسے باہرگیا؟ کس نے بھجوایا؟ اور ملزمان کیخلاف کیا کارروائی ہوئی؟۔ ڈی آئی جی شاہد حیات نے بتایا کہ سفری دستاویزات ایف آئی اے کے پاس ہیں، پولیس کے پاس نہیں۔ ملزم شاہ رخ جتوئی گذشتہ سال 27 دسمبر کو بیرون ملک گیا اور وہ زخمی نہیں ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق شاہ رخ نے شاہ زیب کو قتل کیا، شاہ رخ سے سفری دستاویزات نہیں ملیں، اس نے ایمرجنسی پاسپورٹ پر سفر کیا۔ ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے اعظم خان نے کہا کہ ہمیں پاسپورٹ پولیس سے ہی ملے۔
چیف جسٹس نے ڈی آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پورا کیس دیکھے بغیر ہی عدالت آگئے، ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق شاہ رخ کے پاس2 پاسپورٹ ہیں جو پولیس کے پاس ہیںاور شاہ رخ نے کسی دوسرے کے بوڈرنگ کارڈ پر سفر کیا۔ آپ نے تو شاہ رخ کو نابالغ قراردلوالیا ہے۔ کیا تعلیمی دستاویزات کا جائزہ لیے بغیر عمرکا تعین کرلیا گیا؟ ۔سزائے موت سے بچانے کیلیے ملزمان کو نابالغ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ڈی آئی جی شاہد حیات نے کہا کہ تفتیش کی جارہی ہے کہ اگرشاہ رخ جتوئی18 سال سے کم عمرہے تو اسے شناختی کارڈ کیسے جاری کیا گیا۔ شاہ رخ جتوئی کے پاسپورٹ پر تاریخ پیدائش22 نومبر 1995 درج ہے۔
چیف جسٹس نے تفتیشی افسرسے پوچھا کہ کیا وہ اس کیس کوایک عام کیس کی طرح لے رہے ہیں؟۔ تفتیشی افسرانسپکٹرمبین کا کہنا تھاکہ ایف آئی اے سے پوچھا جائے کہ ایئرپورٹ کے وہ گیٹ بندکیوں نہیں کیے جاتے جس سے ملزمان بغیرچیکنگ کے نکل جاتے ہیں ،گیٹ کی نگرانی پر مامور ایف آئی اے اہلکار میرے حوالے کر دیں تو سب سامنے آجائے گا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا شاہد حیات صاحب سنیں! آپ کا انسپکٹرکیاکہہ رہا ہے؟۔ انسپکٹر مبین نے بتایا کہ شاہ رخ جتوئی کوپستول سلمان جتوئی نے دیاتھا، اسے اعانت جرم میں شامل مقدمہ کرلیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شاہ رخ جتوئی کو بیرون ملک فرار کرانے والوں کو گرفتار کرانا چاہیے تھا، ابھی تک نشاندہی نہیں ہوئی کہ شاہ رخ کو فرار میں مدد کس نے دی، اْن لوگوں کو کیوں نہیں پکڑتے؟۔ عدالت آنکھیں بند نہیں کریگی، پورٹرکو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اصل مددگار کوئی اور ہے، کیا یہ کھوج لگانا ممکن نہیں کہ شاہ رخ کس کے بورڈنگ کارڈ پر گیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جانیں جائیں اور عدالت خاموش بیٹھی رہے ،یہ تماشہ نہیں چلے گا۔
ڈی آئی جی نے تفتیش سب انسپکٹر پر چھوڑ دی ہے کوئی غلطی ہوئی تو وہ ذمے دار ہونگے۔انسپکٹر مبین نے کہا کہ پورٹر شاہ رخ کو قطار سے آگے لے گیا، وہاں اس کی تصویر بھی بنی، وقت دیں نتائج فراہم کرونگا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تفتیش اور مقدمے پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتے صرف تفتیش کا رخ درست رکھنا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے شاہ زیب قتل کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ سزائے موت سے بچانے کیلیے ملزمان کو نابالغ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اگرکوئی بڑا چاہتا کہ اسے چھوٹ مل جائے گی توایسا ممکن نہیں،یہ تاثر دور ہونا چاہیے کہ بااثر ملزمان کو سزا نہیں ملتی، اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں قانون اور ادارے موجود ہیں، تعلیمی اسناددیکھے بغیرشاہ رخ کیسے نابالغ قرارپایا؟۔کیس کسی انسپکٹر پر نہ چھوڑا جائے، پولیس کو یہ بھی پتہ نہیں ملزم ملک سے کیسے فرار ہو گیا، ہمارے نرم لہجے کا غلط مطلب نہ لیں، پولیس کیخلاف حکم بھی جاری کرسکتے ہیں، یہ پولیس کیلیے ٹیسٹ کیس ہے۔ دوسری جانب جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پولیس سب سے غافل ادارہ ہے، پولیس کے سوا ہر کوئی جانتا ہے کہ شاہ زیب کے قاتل کون ہیں۔
سپریم کورٹ نے منگل کی سماعت میں تفتیشی ٹیم کے علاوہ تمام پولیس حکام کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دیدیا اور شاہ رخ جتوئی کی سفری دستاویزات طلب کرتے ہوئے سماعت4 فروری تک ملتوی کردی۔آئی جی فیاض لٖغاری بھی موجود تھے۔ منگل کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میںسپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس کی سماعت کی۔ ڈی آئی جی شاہد حیات نے عدالت میں پیش رفت رپورٹ دی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شاہ زیب کی بہن کوچھیڑا گیا، الٹا اسی کوقتل کردیا گیا۔ شاہ رخ کے والد سکندرجتوئی نے ٹی وی پروگرام کے ذریعے پولیس کو گمراہ کیا، چیف جسٹس نے پوچھا کہ شاہ رخ کیسے باہرگیا؟ کس نے بھجوایا؟ اور ملزمان کیخلاف کیا کارروائی ہوئی؟۔ ڈی آئی جی شاہد حیات نے بتایا کہ سفری دستاویزات ایف آئی اے کے پاس ہیں، پولیس کے پاس نہیں۔ ملزم شاہ رخ جتوئی گذشتہ سال 27 دسمبر کو بیرون ملک گیا اور وہ زخمی نہیں ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق شاہ رخ نے شاہ زیب کو قتل کیا، شاہ رخ سے سفری دستاویزات نہیں ملیں، اس نے ایمرجنسی پاسپورٹ پر سفر کیا۔ ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے اعظم خان نے کہا کہ ہمیں پاسپورٹ پولیس سے ہی ملے۔
چیف جسٹس نے ڈی آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پورا کیس دیکھے بغیر ہی عدالت آگئے، ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق شاہ رخ کے پاس2 پاسپورٹ ہیں جو پولیس کے پاس ہیںاور شاہ رخ نے کسی دوسرے کے بوڈرنگ کارڈ پر سفر کیا۔ آپ نے تو شاہ رخ کو نابالغ قراردلوالیا ہے۔ کیا تعلیمی دستاویزات کا جائزہ لیے بغیر عمرکا تعین کرلیا گیا؟ ۔سزائے موت سے بچانے کیلیے ملزمان کو نابالغ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ڈی آئی جی شاہد حیات نے کہا کہ تفتیش کی جارہی ہے کہ اگرشاہ رخ جتوئی18 سال سے کم عمرہے تو اسے شناختی کارڈ کیسے جاری کیا گیا۔ شاہ رخ جتوئی کے پاسپورٹ پر تاریخ پیدائش22 نومبر 1995 درج ہے۔
چیف جسٹس نے تفتیشی افسرسے پوچھا کہ کیا وہ اس کیس کوایک عام کیس کی طرح لے رہے ہیں؟۔ تفتیشی افسرانسپکٹرمبین کا کہنا تھاکہ ایف آئی اے سے پوچھا جائے کہ ایئرپورٹ کے وہ گیٹ بندکیوں نہیں کیے جاتے جس سے ملزمان بغیرچیکنگ کے نکل جاتے ہیں ،گیٹ کی نگرانی پر مامور ایف آئی اے اہلکار میرے حوالے کر دیں تو سب سامنے آجائے گا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا شاہد حیات صاحب سنیں! آپ کا انسپکٹرکیاکہہ رہا ہے؟۔ انسپکٹر مبین نے بتایا کہ شاہ رخ جتوئی کوپستول سلمان جتوئی نے دیاتھا، اسے اعانت جرم میں شامل مقدمہ کرلیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شاہ رخ جتوئی کو بیرون ملک فرار کرانے والوں کو گرفتار کرانا چاہیے تھا، ابھی تک نشاندہی نہیں ہوئی کہ شاہ رخ کو فرار میں مدد کس نے دی، اْن لوگوں کو کیوں نہیں پکڑتے؟۔ عدالت آنکھیں بند نہیں کریگی، پورٹرکو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اصل مددگار کوئی اور ہے، کیا یہ کھوج لگانا ممکن نہیں کہ شاہ رخ کس کے بورڈنگ کارڈ پر گیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جانیں جائیں اور عدالت خاموش بیٹھی رہے ،یہ تماشہ نہیں چلے گا۔
ڈی آئی جی نے تفتیش سب انسپکٹر پر چھوڑ دی ہے کوئی غلطی ہوئی تو وہ ذمے دار ہونگے۔انسپکٹر مبین نے کہا کہ پورٹر شاہ رخ کو قطار سے آگے لے گیا، وہاں اس کی تصویر بھی بنی، وقت دیں نتائج فراہم کرونگا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تفتیش اور مقدمے پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتے صرف تفتیش کا رخ درست رکھنا چاہتے ہیں۔