برطانوی انتخابات تھریسا مے کو درپیش چیلنجز اعصاب شکن

ان نتخابات میں دوسرا بڑا دھچکا اسکاٹ لینڈ کی حکمران جماعت اسکاٹش نیشنل پارٹی کو لگا ہے

ان نتخابات میں دوسرا بڑا دھچکا اسکاٹ لینڈ کی حکمران جماعت اسکاٹش نیشنل پارٹی کو لگا ہے۔ فوٹو : فائل

بالآخر برطانوی پارلیمنٹ کے انتخابات کے نتائج بھی سامنے آگئے اور کوئی بھی پارٹی 326 کی سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی ۔ یوں برطانوی انتخابات کے نتائج کے مطابق ایک معلق پارلیمنٹ سامنے ہے۔ برطانوی انتخابات میں کئی اپ سیٹ سامنے آئے، گزشتہ انتخابات میں جیتنے والی کئی پارٹیاں اپنی سیٹیں کھو بیٹھی ہیں، بلاشبہ مذکورہ انتخابات کے نتیجے میں ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی ہے لیکن برطانوی انتخابات حقیقی جمہوریت کا استعارہ اور عوامی طاقت کا اظہار ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے معاملے پر برطانوی وزیراعظم نے قبل از وقت انتخابات کا جو، جوا کھیلا تھا وہ ان کے گلے پڑ گیا۔ بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد تھریسا مے نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان یہ کہہ کر کیا تھا کہ انھیں برطانیہ کے انخلا کے لیے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے لیے نیا اور مضبوط مینڈیٹ درکار ہے ۔ تاہم کنزرویٹو پارٹی اپنی 330 نشستوں میں سے 318 سیٹیں ہی دوبارہ جیت سکی اور 12 سیٹیں کھو دیں۔

ان نتخابات میں دوسرا بڑا دھچکا اسکاٹ لینڈ کی حکمران جماعت اسکاٹش نیشنل پارٹی کو لگا ہے، جو اپنی 21نشستیں ہار گئی ہے، اسے اب صرف 35نشستیں ملی ہیں۔ لیبر پارٹی 261 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن گئی۔ معلق پارلیمان کی صورت میں بطور موجودہ وزیراعظم تھریسا مے کو پہلے حکومت بنانے کا اختیار حاصل ہے، وہ مخلوط یا اقلیتی حکومت بنانے کی مجاز ہیں، اگر تھریسا مے حکومت بنانے یا اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہیں تو انھیں ملکہ برطانیہ کو اپنا استعفیٰ پیش کرنا ہوگا۔


یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ معلق پارلیمنٹ سے برطانیہ کے بریگزٹ کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نتائج کو حیران کن قرار دیا ہے۔ جرمنی کی وائس چانسلر اینجلا مرکل نے میکسیکو سے تھریسا مے کو پیغام میں کہا ہے کہ جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ بریگزٹ فیصلے کے تناظر میں ہیں، جس پر انھیں انخلا کے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

ڈیلی میل کے خصوصی نمائندے پیٹر او بورن نے اپنی خصوصی رپورٹ میں کہا ہے کہ تھریسا مے نے انتخابات میں بڑے زخم کھائے ہیں لیکن وہ ایک ''گریٹ سروائیور'' ہیں، ان کی سیاسی اتھارٹی کم ہوچکی ہے۔ برطانوی انتخابات عوامی ردعمل کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ جس وقت وزیراعظم نے عام انتخابات کا اعلان کیا تھا اس وقت ان کی جماعت مقبولیت میں حزب مخالف کی لیبر پارٹی سے 20 فیصد آگے تھی، تاہم جیسے جیسے انتخابات قریب آتے گئے کنزرویٹوز کی مقبولیت میں کمی اور لیبر کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا۔

حکام کے مطابق انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح لگ بھگ 70 فیصد رہی۔ برطانوی انتخابات کی خاص بات یہ بھی ہے کہ برطانیہ کے ایوانوں میں پاکستانی و بھارتی نژاد سیاستدانوں کا کردار بڑھنے لگا ہے۔ برطانیہ میں 2017 کے عام انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی پارلیمنٹ کے منتخب اراکین میں 12 پاکستانی اور 12 بھارتی نژاد سیاست دان بھی شامل ہیں۔

اس بار عام انتخابات میں مجموعی طور 56 بھارتی نژاد امیدوار جب کہ 30 پاکستانی نژاد امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ جمہوریت کی حقیقی عکاس ہے جہاں دیگر کمیونیٹیز کو بھی یکساں مواقع حاصل ہیں۔ بلاشبہ انتخابات کے نتائج حیران کن ہیں لیکن پوری دنیا منتظر ہے کہ برطانیہ کی معلق پارلیمنٹ کا نتیجہ کیا برآمد ہوگا؟
Load Next Story