911 کیس سی آئی اے کی اذیت گاہوں کا ذکر سماعت سے حذف
دوران سماعت سی آئی اے کے خفیہ عقوبت خانوں کا ذکر آتے ہی آڈیوسسٹم بندہوگیا
دوران سماعت سی آئی اے کے خفیہ عقوبت خانوں کا ذکر آتے ہی آڈیوسسٹم بندہوگیا فوٹو: وکی پیڈیا
امریکی حکام نے گوانتاناموبے ملٹری ٹربیونل کی ابتدائی سماعت کا اہم حصہ سینسر کردیا۔
مذکورہ حصہ سی آئی اے کے خفیہ قید خانوں کیمتعلق تھا جہاں نائن الیون کے مبینہ منصوبہ سازوں سے تفتیش کے دوران ان پر اذیت ناک تشدد کیا جاتا، اسکے بعد انھیں گوانتانامو منتقل کیا جاتا تھا۔ اس سماعت کا احوال رپورٹرز شیشے کی ایک موٹی، ساؤنڈ پروف دیوار کے پار سے ایک آڈیو سسٹم کے ذریعے سنتے ہیں۔ گوانتاناموبے کا یو ایس نیول بیس جہاں یہ کورٹ واقع ہے، بالکل سامنے ہونے کے باوجود اس آڈیو سسٹم سے سماعت کی روداد صحافیوں تک40 سیکنڈ کے وقفے سے پہنچتی ہے۔
حالیہ کارروائی کے دوران جب دفاع کے ایک وکیل نے سی آئی اے کے خفیہ مقامات کا ذکر کیا تو ایک سرخ لائٹ جل اٹھی اور کورٹ سے آنے والی آوازیں موقوف ہو گئیں۔ پھر جب تک کورٹ میں سی آئی اے کی ان خفیہ اذیت گاہوںکا تذکرہ رہا، رپورٹرز سماعت کا احوال نہ سن سکے اور خفیہ ایجنسی کے تاریک عقوبت خانوں کے ثبوت اندھیرے میں ہی رہ گئے۔
دفاع کا کہنا تھا کہ انکے موکلان کو بے شمار مرتبہ پانی میں غوطے دیے گئے، اس تعداد کو درجنوں میں تو خود سی آئی اے نے تسلیم کیا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ملزم علی عبدالعزیزعلی کے وکیل کا کہنا تھا کہ پہلے تو ان عمارات کا پتا معلوم ہونا چاہیے پھر یہ جاننا ہوگا کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔
مذکورہ حصہ سی آئی اے کے خفیہ قید خانوں کیمتعلق تھا جہاں نائن الیون کے مبینہ منصوبہ سازوں سے تفتیش کے دوران ان پر اذیت ناک تشدد کیا جاتا، اسکے بعد انھیں گوانتانامو منتقل کیا جاتا تھا۔ اس سماعت کا احوال رپورٹرز شیشے کی ایک موٹی، ساؤنڈ پروف دیوار کے پار سے ایک آڈیو سسٹم کے ذریعے سنتے ہیں۔ گوانتاناموبے کا یو ایس نیول بیس جہاں یہ کورٹ واقع ہے، بالکل سامنے ہونے کے باوجود اس آڈیو سسٹم سے سماعت کی روداد صحافیوں تک40 سیکنڈ کے وقفے سے پہنچتی ہے۔
حالیہ کارروائی کے دوران جب دفاع کے ایک وکیل نے سی آئی اے کے خفیہ مقامات کا ذکر کیا تو ایک سرخ لائٹ جل اٹھی اور کورٹ سے آنے والی آوازیں موقوف ہو گئیں۔ پھر جب تک کورٹ میں سی آئی اے کی ان خفیہ اذیت گاہوںکا تذکرہ رہا، رپورٹرز سماعت کا احوال نہ سن سکے اور خفیہ ایجنسی کے تاریک عقوبت خانوں کے ثبوت اندھیرے میں ہی رہ گئے۔
دفاع کا کہنا تھا کہ انکے موکلان کو بے شمار مرتبہ پانی میں غوطے دیے گئے، اس تعداد کو درجنوں میں تو خود سی آئی اے نے تسلیم کیا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ملزم علی عبدالعزیزعلی کے وکیل کا کہنا تھا کہ پہلے تو ان عمارات کا پتا معلوم ہونا چاہیے پھر یہ جاننا ہوگا کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔