سانحہ بلدیہ ٹاؤنمتاثرین کوادائیگی کیلیے کمیشن کی تشکیل

جسٹس(ر)رحمت حسین جعفری پرمشتمل کمیشن16کروڑسے زائدرقم تقسیم کریگا

تاحال ناقابل شناخت24لاشوںکے ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے پولیس کو15دن کی مہلت۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے متاثرین میں مالکان، سول سوسائٹی اور غیرملکی ادارے کی جانب سے ملنے والی رقم کی متاثرین میں تقسیم کیلیے کمیشن تشکیل دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جسٹس رحمت حسین جعفری کونامزدکیا ہے۔

کمیشن متوقع طور پر 16 کروڑ روپے سے زائد رقم متاثرین میں تقسیم کریگا، جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سانحے میں جاں بحق ہونے والے 24 افراد کی لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے پولیس کو 15 دن کی حتمی مہلت دے دی ہے۔ منگل کوفاضل بینچ نے اس معاملے کی کھلی عدالت اورچیمبر میں طویل سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر فریقین جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری کے نام پرمتفق ہوگئے۔




قبل ازیں عدالت کو بتایا گیا کہ سانحے کا شکار ہونے والی فیکٹری علی انٹرپرائزز سے مصنوعات درآمد کرنے والی جرمنی کی کمپنی ''کِک ٹیکسٹائل'' نے سانحے کے متاثرین کیلیے 10 لاکھ امریکی ڈالر کی امدادی رقم ادا کرنے کی ہامی بھر لی ہے، تاجر شہزاد ریاض سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کیلیے 57 لاکھ 20 ہزار روپے ادا کرنا چاہتے ہیں، عدالت نے ہدایت کی کہ رقم سندھ ہائیکورٹ کے ناظرکے پاس جمع کرادی جائے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ہلاک ہونے 214 افراد کے اہل خانہ کووزیراعظم کی جانب سے فی کس 4 لاکھ روپے جبکہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے فی کس 3 لاکھ روپے اداکردیے گئے ہیں۔ عدالت نے جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری پر مشتمل کمیشن تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی کہ متاثرین میں امدادی رقم کی تقسیم کا عمل 2 ماہ میں مکمل کرلیا جائے۔
Load Next Story