ضمنی انتخابات وفاق اور صوبائی حکومت کے موقف میں تضاد

ہائی کورٹ نے آئینی درخواستوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہوجانے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

ہائی کورٹ نے آئینی درخواستوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہوجانے پر فیصلہ محفوظ کرلیا فوٹو : فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے سندھ اسمبلی کی6نشستوں پر ضمنی انتخابات کے انعقاد کے خلاف دائرکردہ آئینی درخواستوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہوجانے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، فیصلے کا اعلان 8 فروری کو متوقع ہے۔

منگل کو سماعت کے موقع پر ضمنی انتخابات پر وفاق اور صوبائی حکومت کے موقف میں تضاد دیکھنے میں آیا، وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اشرف مغل نے الیکشن کمیشن کیخلاف درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی درخواست کی جبکہ حکومت سند ھ کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میراں محمد شاہ نے ضمنی انتخابات کانوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کے متعلق درخواستوں کی حمایت کرتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ عام انتخابات کے انعقاد میں 120سے کم دن رہ گئے ہیں اس مرحلے پر ضمنی انتخابات کے انعقاد وقت اور وسائل کا زیاں ہے۔




انھوں نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ستمبر ،اکتوبر میں جب یہ نشستیں خالی ہوئی تھیں الیکشن کمیشن کو جب ہی فوری شیڈول جاری کردینا چاہیے تھا ۔ ڈی اے جی اشرف مغل نے موقف اختیارکیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف انتخابی عذرداری انتخابات کے بعد ہی دائر کی جاسکتی ہیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے شازیہ ہنجرہ ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ الیکشن کمیشن نے خود تسلیم کیا ہے کہ ابھی تک ووٹرلسٹیں حتمی شکل اختیار نہیں کرسکیں بلکہ 8مارچ کو فہرستیں مکمل ہوںگی ،اس لیے نامکمل فہرستوں پر ضمنی انتخابات نہیں کرائے جاسکتے ، اس لیے ضمنی انتخابات کے انعقاد کا نوٹیفکیشن کالعدم قراردیا جائے ۔
Load Next Story