مصر گستاخانہ فلم بنانے کے الزام میں 7 ملزمان کو پھانسی کی سزا

ملزمان نے اپنے مذموم مقاصد کی ترویج کی خاطر اسلام کے آخری پیغمبر کی شان میں گستاخی پر مبنی فلم تیار کی۔

آٹھویں ملزم پادری ٹیری جونز نے دیگر ملزمان کے ساتھ ملکر مذکورہ شرانگیز امور انجام دینے کی کوشش کی، پراسیکیوشن۔ فوٹو: اے ایف پی

مصر کی ایک فوجداری عدالت نے گستاخانہ فلم بنانے کے الزام میں بیرون ملک مقیم سات ملزمان کو پھانسی کی سزا سنا دی۔



مصری دارالحکومت قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے بیرون ملک مقیم سات افراد کو گستاخانہ فلم بنانے کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے جب کہ آٹھویں ملزم کو اسی مقدمے میں پانچ برس قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے،عدالتی فیصلے کے مطابق ساتوں ملزموں نے من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلائیں، اس مقصد کے لئے انہوں نے جعلی مواد استعمال کر کے ایسی فلم بنائی جس کے ذریعے وہ مصر میں عیسائیوں پرمبینہ ہونے والے مظالم کا پردہ چاک کرنا چاہتے تھے، اس فلم کے مندرجات سامنے آنے پر ملک میں افراتفری اور مفاد عامہ کو گزند پہنچنے کا اندیشہ تھا، ملزمان نے اپنے مذموم مقاصد کی ترویج کی خاطرنبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی فلم تیار کی۔


پراسیکیوشن نے بتایا کہ آٹھویں ملزم پادری ٹیری جونز نے دیگر ملزمان کے ساتھ ملکر مذکورہ شرانگیز امور انجام دینے کی کوشش کی تاہم اس کا کردار زیادہ تر دوسرے افراد کو اکسانے تک محدود رہا، تمام ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت ان کی عدم موجودگی میں ہوئی۔

Load Next Story