وزیراعظم کا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ
وزیراعظم نے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے
وزیراعظم نے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ فوٹو : فائل
پاناما کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جے آئی ٹی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو تحقیقات کے لیے جمعرات 15 جون کو طلب کر لیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے آئی ٹی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو8جون کو سمن جاری کیا تھا اور انھیں درخواست کی تھی کہ وہ تمام ضروری دستاویزات اور ریکارڈ کے ساتھ 15جون کو صبح11بجے پیش ہوں۔جے آئی ٹی نے وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی طلبی کا نوٹس جاری کر دیاہے، وہ بھی اسی ہفتے پیش ہوں گے۔ دیگر شخصیات کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔ پاناما کیس پاکستانی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ ہے' گو اس سے قبل وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو' محترمہ بے نظیر بھٹو' یوسف رضا گیلانی اور خود میاں نواز شریف اعلیٰ عدلیہ کے روبرو پیش ہو چکے ہیں تاہم کرپشن کے حوالے سے کسی وزیراعظم کا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہو گا۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے اور سوالات کا جواب دینے کا فیصلہ کرکے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے' وزیراعظم کے اس فیصلے سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی عملی صورت میں سامنے آئے گی کہ قانون سے بالاتر کوئی شخصیت نہیں ہے اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سامنے وزیراعظم کے دونوں صاحبزادے بھی پیش ہو چکے ہیں اور اب وہ خود بھی پیش ہوں گے جو پاکستانی تاریخ کا اچھوتا اور دور رس اثرات کا حامل واقعہ ہو گا۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم کی پاناما کیس میں جے آئی ٹی میں طلبی پر قوم کو مبارکبار دی ہے، انھوں نے ٹویٹ کیاہے کہ وزیراعظم کو پہلی بار انصاف کے کٹہرے میں لایا گیاہے تاہم انھوں نے یہ مطالبہ بھی دہرایا ہے کہ تحقیقات تک وزیراعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ جے آئی ٹی ارکان وزیراعظم کے ماتحت ہیں۔ عمران خان نے استدلال پیش کیا ہے کہ وہ میاں نواز شریف اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سے دوران تفتیش استعفیٰ مانگتے تھے۔تحریک انصاف کے چیئرمین کی باتوں میں وزن موجود ہے اور ان کے استعفیٰ کے مطالبے کواخلاقی اعتبار سے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم تصویر کا یہ رخ بھی ہمارے سامنے موجود ہے کہ وزیراعظم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔
اس سے قانون کی حکمرانی کا تصور عملی صورت میں سامنے آئے گا اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کا اعتماد بڑھے گا جس سے تمام سرکاری عمال کے حوصلے بلند ہوں گے۔ ویسے بھی سرکاری افسر آئینی و قانونی طور پر جہاں وزیراعظم کے ماتحت ہوتا ہے' وہاں قانون کے مطابق وہ اپنے فرائض ادا کرنے میں آزاد بھی ہوتا ہے اور وزیراعظم اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتا ہے' ویسے بھی اب تک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جو کردار ادا کیا ہے' وہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم کے ارکان آزادانہ طور پر بڑی جرات کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لہٰذا جب وزیراعظم تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے تو یہ ٹیم ان سے بھی قانون کے مطابق ہی سوالات کرے گی اور کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں ہو گی' بہرحال پاناما کیس کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلے گا' اس کے بارے میں قبل از وقت کوئی رائے نہیں دی جا سکتی' قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے اور اس پر بلاجواز بیان بازی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
قانونی معاملات کو قانونی انداز سے ہی حل کیا جانا چاہیے، اگر اس پر کوئی رائے دینی ہے تو وہ بھی قانون کے انداز میں ہی دی جانی چاہیے۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور تحقیقاتی ٹیم کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرنا درست طرز عمل نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے پاکستان میں کرپشن کلچر پروان چڑھا ہے اور اس نے ملک کی معیشت کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہماری معاشرتی قدروں کو بھی زوال پذیر کیا ہے' ملک کا قانونی ڈھانچہ کمزور ہوا ہے اور اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملک میں گراس روٹ لیول تک افراتفری اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے' اس کرپشن کلچر کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ ہر کوئی دوسرے پر کرپشن کا الزام عائد کر رہا ہے' اس سیاسی رجحان نے پورے نظام کو پراگندہ کر دیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی شخص ایماندار نہیں ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
پاکستان میں سیاست ہویا بیوروکریسی یا پھر کاروبار ، یہاں ایماندار، فرض شناس اور ذہین شخصیات کی کمی نہیں ہے۔سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنا جمہوری طرز عمل نہیں ہے۔قانونی معاملات کو قانون کے مطابق حل کرکے ہی ملک میں جمہوریت کو بچایا جاسکتا ہے اوراسی طرز عمل سے قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے اور سوالات کا جواب دینے کا فیصلہ کرکے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے' وزیراعظم کے اس فیصلے سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی عملی صورت میں سامنے آئے گی کہ قانون سے بالاتر کوئی شخصیت نہیں ہے اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سامنے وزیراعظم کے دونوں صاحبزادے بھی پیش ہو چکے ہیں اور اب وہ خود بھی پیش ہوں گے جو پاکستانی تاریخ کا اچھوتا اور دور رس اثرات کا حامل واقعہ ہو گا۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم کی پاناما کیس میں جے آئی ٹی میں طلبی پر قوم کو مبارکبار دی ہے، انھوں نے ٹویٹ کیاہے کہ وزیراعظم کو پہلی بار انصاف کے کٹہرے میں لایا گیاہے تاہم انھوں نے یہ مطالبہ بھی دہرایا ہے کہ تحقیقات تک وزیراعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ جے آئی ٹی ارکان وزیراعظم کے ماتحت ہیں۔ عمران خان نے استدلال پیش کیا ہے کہ وہ میاں نواز شریف اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سے دوران تفتیش استعفیٰ مانگتے تھے۔تحریک انصاف کے چیئرمین کی باتوں میں وزن موجود ہے اور ان کے استعفیٰ کے مطالبے کواخلاقی اعتبار سے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم تصویر کا یہ رخ بھی ہمارے سامنے موجود ہے کہ وزیراعظم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔
اس سے قانون کی حکمرانی کا تصور عملی صورت میں سامنے آئے گا اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کا اعتماد بڑھے گا جس سے تمام سرکاری عمال کے حوصلے بلند ہوں گے۔ ویسے بھی سرکاری افسر آئینی و قانونی طور پر جہاں وزیراعظم کے ماتحت ہوتا ہے' وہاں قانون کے مطابق وہ اپنے فرائض ادا کرنے میں آزاد بھی ہوتا ہے اور وزیراعظم اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتا ہے' ویسے بھی اب تک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جو کردار ادا کیا ہے' وہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم کے ارکان آزادانہ طور پر بڑی جرات کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لہٰذا جب وزیراعظم تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے تو یہ ٹیم ان سے بھی قانون کے مطابق ہی سوالات کرے گی اور کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں ہو گی' بہرحال پاناما کیس کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلے گا' اس کے بارے میں قبل از وقت کوئی رائے نہیں دی جا سکتی' قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے اور اس پر بلاجواز بیان بازی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
قانونی معاملات کو قانونی انداز سے ہی حل کیا جانا چاہیے، اگر اس پر کوئی رائے دینی ہے تو وہ بھی قانون کے انداز میں ہی دی جانی چاہیے۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور تحقیقاتی ٹیم کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرنا درست طرز عمل نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے پاکستان میں کرپشن کلچر پروان چڑھا ہے اور اس نے ملک کی معیشت کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہماری معاشرتی قدروں کو بھی زوال پذیر کیا ہے' ملک کا قانونی ڈھانچہ کمزور ہوا ہے اور اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملک میں گراس روٹ لیول تک افراتفری اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے' اس کرپشن کلچر کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ ہر کوئی دوسرے پر کرپشن کا الزام عائد کر رہا ہے' اس سیاسی رجحان نے پورے نظام کو پراگندہ کر دیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی شخص ایماندار نہیں ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
پاکستان میں سیاست ہویا بیوروکریسی یا پھر کاروبار ، یہاں ایماندار، فرض شناس اور ذہین شخصیات کی کمی نہیں ہے۔سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنا جمہوری طرز عمل نہیں ہے۔قانونی معاملات کو قانون کے مطابق حل کرکے ہی ملک میں جمہوریت کو بچایا جاسکتا ہے اوراسی طرز عمل سے قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔