پاکستان اور خلیجی ممالک کے مابین غلط فہمی پیدا کرنے کی سازش

پاکستانی حکومت کو بھی اس صورت حال کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے

ہمدردی کی بنیاد پر جذباتی ہو کر کسی دوسرے ملک کے تنازعات میں شریک ہونے سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ فوٹو:فائل

دفتر خارجہ نے قطر میں پاک فوج بھجوانے کی خبروں کی دو ٹوک تردید کرتے ہوئے ان خبروں کو پاکستان اور برادر خلیجی ممالک کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔

اتوار کو دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حوالہ سے بیرونی ذرائع ابلاغ کی زینت بننے والی خبریں مکمل طور پر جھوٹی' من گھڑت، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی اس مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد پاکستان اور اس کے خلیجی مسلمان بھائیوں کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنا ہے۔ 8جون کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب اور قطر حالیہ کشیدگی کے حوالے سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی فضا یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بروقت مثبت کردار ادا کیا لیکن حیرت انگیز امر ہے کہ غیرملکی ذرایع ابلاغ نے قومی اسمبلی کی اس قرار داد کو توڑ مروڑ کر چھاپا اور اسے غلط رنگ دیتے ہوئے لکھا کہ اس قرار داد میں پاک فوج قطر بھجوانے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ اس قرارداد میں ایسا کوئی لفظ' جملہ یا اشارہ بھی شامل نہیں تھا۔


افغان جنگ سے پاکستان نے یہ سبق سیکھا ہے کہ ہمدردی کی بنیاد پر جذباتی ہو کر کسی دوسرے ملک کے تنازعات میں شریک ہونے سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور مدد کرنے کا یہ جذبہ بعدازاں خود پاکستان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جب سعودی عرب اور یمن کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تو پاکستان نے سعودی عرب کی درخواست کے باوجود اس تنازعے کے حل کے لیے اپنی فوج بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب سعودی عرب اور قطر کے تنازعے میں بھی پاکستان اپنی فوج بھیجنے کی کوشش نہیں کرے گا بلکہ اس کی یہ کوشش ہے کہ اس تنازع کو ہوا دینے کے بجائے اسے باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

بعض غیرملکی قوتیں ایک سازش کے تحت مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو بڑھاوا دینے کے لیے سرگرم ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستان بھی کسی نہ کسی طرح ان اختلافات کے درمیان الجھ جائے۔ پاکستانی حکومت کو بھی اس صورت حال کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے اور وہ کسی سازش کا شکار ہو کر ان اختلافات سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسلامی ممالک کے درمیان جنم لینے والے تنازعات کی نوعیت اور شدت کو باہمی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنا پوری امت مسلمہ کے مفاد میں ہے۔
Load Next Story