نام اور مقام کی تبدیلی
افراد فانی بھی ہوتے ہیں متنازعہ بھی ہوتے ہیں اور غیر متعلق بھی ہوتے ہیں
barq@email.com
جمعیۃ العلماء اسلام ویسے بھی ہمیں اچھی لگتی ہے کیونکہ ہمارے ممدوح حضرت مولانا فضل الرحمن مد ظلہ العالیٰ کی پارٹی ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ یہ محبت بڑی ظالم چیز ہے ۔ محبوب کے تعلق سے ہر چیز اچھی لگنے لگتی ہے۔ پشتو میں ایک ٹپہ بھی اس مضمون کا ہے کہ تمہاری محبت نے مجھے مجبور کیا ہوا ہے کہ تمہارے سارے محلے کے لوگ بھی اچھے لگنے لگتے ہیں ۔ اور یہاں تو جمعیت کی اس تنظیم یا شاخ نے جو شاید مردان یاصوابی سے تعلق رکھتی ہے بات بھی بڑے پتے کی ہے، اگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اصل روئے سخن کس طرف ہے لیکن پھر بھی جو بات ہے اس میں ایک بات ہے اور بڑی اچھی بات ہے، اتنی اچھی کہ ہمیں افسوس ہے کہ یہ بات بہت پہلے کیو ں نہ کسی کو سوجھی ...بیان میں کہا گیا ہے کہ
''سرکاری اداروں پر متنازعہ شخصیات کا نام نہیں رکھنے دیں گے''سب سے پہلے تو متنازعہ کا لفظ ہی پاکستان میں متنازعہ ہے کیونکہ ایسی کونسی مذہبی یا سیاسی شخصیت پاکستان میں ہو سکتی ہے جو متنازعہ نہ ہو، اگر تنازعہ نہ ہو تا تو پارٹیاں ہی الگ الگ کیوں ہوتیں۔
اس لیے یہ متنازعہ اور غیر متنازعہ کا جھگڑا ہی درمیان سے اٹھا دینا چاہیے اور کسی بھی سرکاری ادارے کا نام کسی شخصیت کے نام پر نہیں رکھنا چاہیے سوائے اس صورت کے کہ اس شخصیت نے اس ادارے یا مقام کو اپنی ذاتی کمائی سے بنایا ہو جیسے لاہور میں گنگا رام اسپتال ہو یا کم از کم اتنا تو ضرور ہونا چاہیے کہ اس ادارے کے لیے کسی نے اپنی جائیداد سے زمین تو عطیہ کی ہو۔
یہ کیا کہ کسی شخصیت کا اس ادارے سے کوئی بھی تعلق نہ ہو اور یہ تو نہایت برا بلکہ چاروں اطراف سے نا جائز ہے کہ کسی بنے بنائے ادارے یا چیز سے اس کا پرانا او مشہور و معروف نام ہٹا کر کسی نئے نام کو اس پر چپکادیا جائے ۔ اکثر تو وہ پہلے والا نام اتنا مشہور اور زبان زد ہو چکا ہوتا ہے کہ نیانام صرف کاغذات میں ہوتا ہے اور عوام کی زبان پر وہی مشہور و معروف نام رہتا ہے، اسے اردو محاورے میں حلوائی کی دکان پر داداجی کا فاتحہ کہتے ہیں۔
پشاور کا کننگھم پارک ایک عرصے سے جناح پارک ہے لیکن زیادہ تر لوگ اسے اب بھی کننگھم پارک ہی کے نام سے پہچانتے اور یاد کرتے ہیں کیونکہ کننگھم جو صوبے کا گورنر تھا ، اکثر خود یہاں پر بیلچہ کدال لے کر کام کرتا تھا۔ برامت مانیئے کیونکہ ہماری یہ بری عادت اب لت بن چکی ہے کہ ایک شروع کرتے ہیں اور درمیان میں دوسری بات ٹانگ اڑا دیتی ہے یا بقول چشم گل چشم دم ہلانے لگتی ہے ،
آتی ہے بات بات مجھے یاد بار بار
کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں
ہمارے داد نے کننگھم کو یہاں کام کرتے دیکھا تھا بلکہ اچھی طرح تماشا بھی کیا تھا، وہ کہتے تھے کہ خوبصورتی کسی چیز میں نہیں ہوتی بلکہ اس جگہ کی ہوتی ہے جہاں وہ چیز پائی جاتی ہے اور پھر کہتے ہمارا بھی پسینہ ہوتا ہے جو ہمارے گدلے چہرے پر آتا ہے توگدلا ہو جاتا ہے۔ میں نے کننگھم کے سرخ و سفید چہرے پر بھی بہت پسینہ دیکھا تھا ۔ ہیرے کی طرح چمک رہا تھا اوروہ ماتھے پر رومال پھیر کر ضایع کر دیتا تھا اور ادھر ہمارے تمہارے ماتھے پر بھی آتا ہے پسینہ ... اب ا صل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔کوئی ان نام رکھنے والوں سے پوچھے کہ تمہارے دل میں اس شخصیت کی ، اس کی تعلیمات کی اور اس کے نصب العین کی یا محبت کی کیا کیفیت ہے جس کا نام تم قوم کے خون پسینے پر رکھ رہے ہو۔ عزت ہی دینی ہے تو دل میں دیجیے اینٹوں، پتھروں، سیمنٹ اور مٹی کی دیواروں پر مت چپکائیے۔
باچاخان ائیر پورٹ، ملک سعد پل، بینظیر یونیورسٹی، خان رازق تھانے اور میرزکوڑی پل سے ان مرحومین کو کتنے نفلوں کا ثواب ملا ہوگا جن کا ان چیزوں کی تعمیر سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ ان سے پہلے بھی یہ چیزین موجود تھیں وہ بھی کسی نے بنائی ہوں گی اور کسی کے خون پسینے سے بنی ہو ں گی۔خلیل جبران نے ایک حکایت لکھی ہے کہ کسی جگہ ایک پل بن گیا جس کے لیے دونوں اطراف کے لوگوں سے ٹیکس وصول کیا گیا ۔ پل کی تعمیر کے بعد اس پر شہنشاہ وقت کے باپ کا نام لکھ دیا گیا ۔ جب کہ نہ کبھی اس نے یہ پل دیکھا تھا اور نہ ہی شہنشاہ وقت نے اپنی نگاہوں کا شرف بخشا تھا اور ان پندرہ گدھوں اور چھ آدمیوں کا کسی نے جھوٹے منہ بھی ذکر نہیں کیا جو اس پل کی تعمیر میں حادثوں کا شکار ہو کر مرگئے تھے۔ اب سیدھی سی بات ہے شرینگل دیر میں جہاں پشاور کے پانچ آدمیوںکو بھی جانے کا شرف حاصل نہیں ہے تو آخر اس میں کیا گناہ یا کفر ہے کہ اس پر شیرینگل جو اس علاقے کا نام رکھا جائے؟
افراد فانی بھی ہوتے ہیں متنازعہ بھی ہوتے ہیں اور غیر متعلق بھی ہوتے ہیں لیکن وہ مقام وہ جگہ وہ ضلع وہ شہر اور اس کے عوام موجود بھی ہوتے ہیں، غیر متنازعہ بھی ہوتے ہیں اصل مالک بھی ہوتے ہیں اور ان کے خون پسینے سے چیزیں بنتی بھی ہیں تو کیا برا ہے اگر پشاور پل ، پشاور ایئرپورٹ ، لاہور ایئرپورٹ ، کراچی ایئرپورٹ نام رکھے جائیں کہ کوئی جھگڑا کوئی تنازعہ اور کوئی بے انصافی نہ ہو۔اور جیسا کہ ہم نے کہا یہ فضول کی کوشش بھی ہے، اس سلسلے میں ہمیں ہزارہ والے بھائی بڑے پسند ہیں، داد دیتے ہیں اور دعا بھی کہ خدا ان کو یہ مرض نہ لگائے کہ انھوں نے ابھی تک ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ ہی کے نام رکھے چھوڑے ہیں اور ان کا نام بھٹوپور ، لیاقت آباد یامشرفہرہ نہیں رکھا ہے۔
اگر واقعی یہ جمہوریت ہے تو نام ان کا رکھنا چاہیے جن کا کبھی تھا یا اب ہے، ہم جب کرکٹ کی کمنٹری وغیرہ میںگدافی اسٹیڈیم سنتے ہیں تو کچھ عجیب سا محسوس ہوتاہے کیونکہ کمنٹیٹروں کو ''قذا'' کی جگہ گدا کچھ زیادہ ہی پسند ہوتا ہے۔
''سرکاری اداروں پر متنازعہ شخصیات کا نام نہیں رکھنے دیں گے''سب سے پہلے تو متنازعہ کا لفظ ہی پاکستان میں متنازعہ ہے کیونکہ ایسی کونسی مذہبی یا سیاسی شخصیت پاکستان میں ہو سکتی ہے جو متنازعہ نہ ہو، اگر تنازعہ نہ ہو تا تو پارٹیاں ہی الگ الگ کیوں ہوتیں۔
اس لیے یہ متنازعہ اور غیر متنازعہ کا جھگڑا ہی درمیان سے اٹھا دینا چاہیے اور کسی بھی سرکاری ادارے کا نام کسی شخصیت کے نام پر نہیں رکھنا چاہیے سوائے اس صورت کے کہ اس شخصیت نے اس ادارے یا مقام کو اپنی ذاتی کمائی سے بنایا ہو جیسے لاہور میں گنگا رام اسپتال ہو یا کم از کم اتنا تو ضرور ہونا چاہیے کہ اس ادارے کے لیے کسی نے اپنی جائیداد سے زمین تو عطیہ کی ہو۔
یہ کیا کہ کسی شخصیت کا اس ادارے سے کوئی بھی تعلق نہ ہو اور یہ تو نہایت برا بلکہ چاروں اطراف سے نا جائز ہے کہ کسی بنے بنائے ادارے یا چیز سے اس کا پرانا او مشہور و معروف نام ہٹا کر کسی نئے نام کو اس پر چپکادیا جائے ۔ اکثر تو وہ پہلے والا نام اتنا مشہور اور زبان زد ہو چکا ہوتا ہے کہ نیانام صرف کاغذات میں ہوتا ہے اور عوام کی زبان پر وہی مشہور و معروف نام رہتا ہے، اسے اردو محاورے میں حلوائی کی دکان پر داداجی کا فاتحہ کہتے ہیں۔
پشاور کا کننگھم پارک ایک عرصے سے جناح پارک ہے لیکن زیادہ تر لوگ اسے اب بھی کننگھم پارک ہی کے نام سے پہچانتے اور یاد کرتے ہیں کیونکہ کننگھم جو صوبے کا گورنر تھا ، اکثر خود یہاں پر بیلچہ کدال لے کر کام کرتا تھا۔ برامت مانیئے کیونکہ ہماری یہ بری عادت اب لت بن چکی ہے کہ ایک شروع کرتے ہیں اور درمیان میں دوسری بات ٹانگ اڑا دیتی ہے یا بقول چشم گل چشم دم ہلانے لگتی ہے ،
آتی ہے بات بات مجھے یاد بار بار
کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں
ہمارے داد نے کننگھم کو یہاں کام کرتے دیکھا تھا بلکہ اچھی طرح تماشا بھی کیا تھا، وہ کہتے تھے کہ خوبصورتی کسی چیز میں نہیں ہوتی بلکہ اس جگہ کی ہوتی ہے جہاں وہ چیز پائی جاتی ہے اور پھر کہتے ہمارا بھی پسینہ ہوتا ہے جو ہمارے گدلے چہرے پر آتا ہے توگدلا ہو جاتا ہے۔ میں نے کننگھم کے سرخ و سفید چہرے پر بھی بہت پسینہ دیکھا تھا ۔ ہیرے کی طرح چمک رہا تھا اوروہ ماتھے پر رومال پھیر کر ضایع کر دیتا تھا اور ادھر ہمارے تمہارے ماتھے پر بھی آتا ہے پسینہ ... اب ا صل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔کوئی ان نام رکھنے والوں سے پوچھے کہ تمہارے دل میں اس شخصیت کی ، اس کی تعلیمات کی اور اس کے نصب العین کی یا محبت کی کیا کیفیت ہے جس کا نام تم قوم کے خون پسینے پر رکھ رہے ہو۔ عزت ہی دینی ہے تو دل میں دیجیے اینٹوں، پتھروں، سیمنٹ اور مٹی کی دیواروں پر مت چپکائیے۔
باچاخان ائیر پورٹ، ملک سعد پل، بینظیر یونیورسٹی، خان رازق تھانے اور میرزکوڑی پل سے ان مرحومین کو کتنے نفلوں کا ثواب ملا ہوگا جن کا ان چیزوں کی تعمیر سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ ان سے پہلے بھی یہ چیزین موجود تھیں وہ بھی کسی نے بنائی ہوں گی اور کسی کے خون پسینے سے بنی ہو ں گی۔خلیل جبران نے ایک حکایت لکھی ہے کہ کسی جگہ ایک پل بن گیا جس کے لیے دونوں اطراف کے لوگوں سے ٹیکس وصول کیا گیا ۔ پل کی تعمیر کے بعد اس پر شہنشاہ وقت کے باپ کا نام لکھ دیا گیا ۔ جب کہ نہ کبھی اس نے یہ پل دیکھا تھا اور نہ ہی شہنشاہ وقت نے اپنی نگاہوں کا شرف بخشا تھا اور ان پندرہ گدھوں اور چھ آدمیوں کا کسی نے جھوٹے منہ بھی ذکر نہیں کیا جو اس پل کی تعمیر میں حادثوں کا شکار ہو کر مرگئے تھے۔ اب سیدھی سی بات ہے شرینگل دیر میں جہاں پشاور کے پانچ آدمیوںکو بھی جانے کا شرف حاصل نہیں ہے تو آخر اس میں کیا گناہ یا کفر ہے کہ اس پر شیرینگل جو اس علاقے کا نام رکھا جائے؟
افراد فانی بھی ہوتے ہیں متنازعہ بھی ہوتے ہیں اور غیر متعلق بھی ہوتے ہیں لیکن وہ مقام وہ جگہ وہ ضلع وہ شہر اور اس کے عوام موجود بھی ہوتے ہیں، غیر متنازعہ بھی ہوتے ہیں اصل مالک بھی ہوتے ہیں اور ان کے خون پسینے سے چیزیں بنتی بھی ہیں تو کیا برا ہے اگر پشاور پل ، پشاور ایئرپورٹ ، لاہور ایئرپورٹ ، کراچی ایئرپورٹ نام رکھے جائیں کہ کوئی جھگڑا کوئی تنازعہ اور کوئی بے انصافی نہ ہو۔اور جیسا کہ ہم نے کہا یہ فضول کی کوشش بھی ہے، اس سلسلے میں ہمیں ہزارہ والے بھائی بڑے پسند ہیں، داد دیتے ہیں اور دعا بھی کہ خدا ان کو یہ مرض نہ لگائے کہ انھوں نے ابھی تک ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ ہی کے نام رکھے چھوڑے ہیں اور ان کا نام بھٹوپور ، لیاقت آباد یامشرفہرہ نہیں رکھا ہے۔
اگر واقعی یہ جمہوریت ہے تو نام ان کا رکھنا چاہیے جن کا کبھی تھا یا اب ہے، ہم جب کرکٹ کی کمنٹری وغیرہ میںگدافی اسٹیڈیم سنتے ہیں تو کچھ عجیب سا محسوس ہوتاہے کیونکہ کمنٹیٹروں کو ''قذا'' کی جگہ گدا کچھ زیادہ ہی پسند ہوتا ہے۔