کراچی میں وائرس کی تشخیص کیلیے لیبارٹری قائم نہ ہو سکی

مریض کے ٹیسٹ اسلام آباد بھیجے جاتے ہیں اور رپورٹ بھی کئی روز بعد آتی ہے

مچھروں کے کاٹنے سے ملیریا اور ڈنگی وائرس جنم لے رہا ہے،سرفہرست چکن گنیا ہے،چکن گنیا کا کلینکل علاج جاری ہے۔ فوٹو : فائل

کراچی میں تاحال کسی بھی وائرس کی فوری تشخیص کے لیے لیبارٹری قائم نہیں کی جاسکی۔

کراچی سمیت سندھ میں کسی بھی وائرس کی تشخیص کے لیے متاثرہ مریض کے ٹیسٹ اسلام آباد بھجے جاتے ہیں جس کی رپورٹس کئی دن بعد جاری کی جاتی ہیں اس دوران وائرس سے دیگر صحت مند افراد بھی متاثر ہوجاتے ہیں لیکن محکمہ صحت نے آج تک کراچی میں کسی بھی وائرس کی تشخیص کے لیے لیبارٹری قائم نہیں کی،محکمہ صحت کا ترقیاتی بجٹ 16 ارب روپے ہے۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ کراچی میں مچھروں کے کاٹنے سے مختلف امراض جنم لے رہے ہیں۔ ان میں سرفہرست چکن گنیا ہے ،چکن گنیا کی تشخیص کراچی میں ممکن نہیں، کراچی کے کسی بھی سرکاری اسپتال میں چکن گنیا کی تشخیص نہیں کی جاتی کراچی کے عوام مچھروں کے رحم وکرم پرہیں۔


دوسری جانب محکمہ صحت کے افسران کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے کراچی کے کسی بھی سرکاری اسپتال میں چکن گنیا سمیت کسی بھی وائرل بیماری کی تشخیص کی لیبارٹری موجود نہیں،کراچی میں خطرناک مچھروں کی وجہ سے ڈنگی، ملیریا اور چکن گنیا ہولناک صورت اختیارکررہے ہیں لیکن سندھ حکومت سیاسی توڑ جوڑ میں مصروف ہے اورخاموشی سے سرکاری اسپتالوں کو نجی شعبے میں دے رہی ہے، کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے امسال مچھروں کے پاکٹس میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا، مچھروں کے کاٹنے سے کراچی میں چکن گنیا، ڈنگی وائرس، ملیریا اور زیکا وائرس بھی پھیل رہا ہے۔

ادھر چکن گنیا کے فوکل پرسن ڈاکٹر مسعود سولنگی کے مطابق اب تک 3ہزار سے زائد افراد مشتبہ چکن گنیا کے مرض میں رپورٹ ہوچکے ہیں۔ ان میں سے300سے زائد افرادکے خون کے نمونوں میں چکن گنیا کے مرض کی تصدیق ہوئی جبکہ دیگر کی رپورٹس کا انتطار کیاجارہا ہے، انھوں نے بتایا کہ کراچی میں چکن گنیا کے مرض کی تشخیص کی سہولت میسر نہیں تاہم کراچی میں کلینکل تشخیص کرکے علاج فراہم کیاجاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ چکن گنیا کا مرض اورنگی، بلدیہ، کونگی، ملیر، نارتھ ناظم آباد، عزیز آباد، محمدی کالونی، ابراہیم حیدری، کیماڑی، بن قاسم ٹاؤن، سعودآباد، کھوکھراپار،نیوکراچی، سرجانی، بھٹہ ویلیج، ناظم آباد، پاپوش نگر، ناگن چورنگی، شادمان ٹاؤن، گلشن اقبال، لیاری سمیت کراچی کے دیگر علاقوں میں مسلسل رپورٹ ہورہے ہیں۔

دریں اثناء ماہرین صحت نے کہا ہے کہ چکن گنیا کی علامات ظاہر ہونے پر ملیریا، ڈنگی کے ٹیسٹ بھی کرائیں جائیں، ماتثرہ افراد کو پانی زیادہ سے زیادہ استعمال کرائیں، گھر کے جوس پلائیں، بچوں کو شام کے اوقات میں فل آستین والے کپٹرے پہنائیں، گھروں میں اسپرے کریں تاکہ مچھروں سے محفوظ رہا جاسکے۔
Load Next Story