ملکی معیشت کو استقامت کی ضرورت
جے آئی ٹی کی جانب سے وزیراعظم کو جمعرات کو طلبی نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں میں ہلچل مچادی
جے آئی ٹی کی جانب سے وزیراعظم کو جمعرات کو طلبی نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں میں ہلچل مچادی ۔ فوٹو: فائل
دنیا بھر میں معاشی حرکیات اور جدلیات کا اصول ہے کہ سرمایہ کبھی غیر یقینی فضا کو برداشت نہیں کرتا اور اکثر حصص مارکیٹیں اچانک منہ کے بل گرجاتی ہیں ۔ یہ واقعہ یہاں بھی ہوا جب پاناما کیس کی تفتیش کے لیے سپریم کورٹ کی قائم کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی جانب سے وزیراعظم کو جمعرات کو طلبی نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں میں ہلچل مچادی ۔ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1855.12 پوائنٹس گرگیا جب کہ سرمایہ کاروں کے3 کھرب20 ارب48 کروڑ23 لاکھ 47 ہزار949 روپے ڈوب گئے جب کہ تجارتی خسارے پر قابو پانے، برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی لانے کے حکومتی دعوے پورے نہ ہوسکے، مبصروں کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ ریکارڈ29ارب99کروڑ80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 21ارب 10کروڑ 70لاکھ ڈالر تھا، اسی طرح برآمدات میں رواں مالی سال کے پہلے 11 میں گزشتہ سال کے اسی مدت کے مقابلے میں3.13فیصد کمی اور درآمدات میں 20.60فیصد اضافہ ہو گیا۔
یہ پریشان کن صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ معیشت کو جس استقامت، مالیاتی اور تجارتی طاقت و ہمہ گیر مزاحمانہ اقتصادی نمو کی ضرورت ہے وہ منزل ابھی دور ہے بلکہ ایک اقتصادی ڈیٹرنس بھی ناگزیر ہے جو سیاسی بحرانوں کے دنوں میں ملکی معیشت کو وقتی دھچکوں سے محفوظ رکھ سکے۔ ادھر وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اور قطر کے درمیان تناؤ ایل این جی منصوبے پر اثر انداز نہیں ہو گا، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں ایران کے ساتھ ڈالر میں لین دین نہ ہونے اور عالمی پابندیاں رکاوٹ ہیں۔
وزیر پٹرولیم نے بتایاکہ قطر کے ساتھ پی ایس او کا کمرشل کنٹریکٹ ہے، خلیجی ممالک کے تناؤ کے پاکستان کی قطر سے ایل این جی کی درآمد پر اثرات تو نہیں پڑیں گے تاہم قطر پر عالمی پابندیاں لگنے سے قطر کے ساتھ ایل این جی کا معاہدہ متاثرہو سکتا ہے، اس وقت پاکستان قطرسے 2.9 ملین ٹن ایل این جی منگوا رہا ہے۔ بلاشبہ پیدا شدہ صورتحال میں سیاسی جماعتوں اور ملکی معاشی پالیسی سازوں کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ سیاسی ، سماجی یا دیگر ایشوز سے نمٹتے ہوئے ملکی معیشت کو کوئی گزند نہیں پہنچنی چاہیے ، بعینہ ہر ہیجانی صورتحال ملک کے معاشی مفادات پر ہر گز اثر انداز نہ ہو ۔ظاہر ہے یہ ضمانت حکومت کے اقتصادی جادوگر ہی دے سکتے ہیں۔
یہ پریشان کن صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ معیشت کو جس استقامت، مالیاتی اور تجارتی طاقت و ہمہ گیر مزاحمانہ اقتصادی نمو کی ضرورت ہے وہ منزل ابھی دور ہے بلکہ ایک اقتصادی ڈیٹرنس بھی ناگزیر ہے جو سیاسی بحرانوں کے دنوں میں ملکی معیشت کو وقتی دھچکوں سے محفوظ رکھ سکے۔ ادھر وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اور قطر کے درمیان تناؤ ایل این جی منصوبے پر اثر انداز نہیں ہو گا، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں ایران کے ساتھ ڈالر میں لین دین نہ ہونے اور عالمی پابندیاں رکاوٹ ہیں۔
وزیر پٹرولیم نے بتایاکہ قطر کے ساتھ پی ایس او کا کمرشل کنٹریکٹ ہے، خلیجی ممالک کے تناؤ کے پاکستان کی قطر سے ایل این جی کی درآمد پر اثرات تو نہیں پڑیں گے تاہم قطر پر عالمی پابندیاں لگنے سے قطر کے ساتھ ایل این جی کا معاہدہ متاثرہو سکتا ہے، اس وقت پاکستان قطرسے 2.9 ملین ٹن ایل این جی منگوا رہا ہے۔ بلاشبہ پیدا شدہ صورتحال میں سیاسی جماعتوں اور ملکی معاشی پالیسی سازوں کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ سیاسی ، سماجی یا دیگر ایشوز سے نمٹتے ہوئے ملکی معیشت کو کوئی گزند نہیں پہنچنی چاہیے ، بعینہ ہر ہیجانی صورتحال ملک کے معاشی مفادات پر ہر گز اثر انداز نہ ہو ۔ظاہر ہے یہ ضمانت حکومت کے اقتصادی جادوگر ہی دے سکتے ہیں۔