جمہوریت پر سہ جہتی اتفاق ‘نیک شگون
وزیراعظم کی طرف سے فوج ،عدلیہ اور سیاسی قوتوں کے جمہوری عمل پر اتفاق کی بات خوش آیند ہے۔
جمہوریت کو لاحق ہونے والے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی جمہوری طریقے اختیار کرنے چاہئیں ۔ فوٹو : ثنا/ فائل
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ فوج، عدلیہ اور سیاسی قوتیں متفق ہو چکی ہیں کہ ملک میں جمہوریت کے سوا اب کوئی نظام نہیں چل سکتا، ماضی میں شب خون مارنے سے ملک کمزورہوا ،انقلاب ایک، پانچ یا دس سال میں نہیں آتا، کئی سال لگتے ہیں۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ میں گوجرخان بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا سب کی ایک ہی سوچ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہونی چاہیے، پاکستان میں بھی انقلاب آ رہا ہے تاہم یہ ابھی ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے، مفاہمت کی پالیسی کے باعث جمہوری حکومت پہلی بار5 سال مکمل کر رہی ہے، چند ہفتوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم کی طرف سے فوج ،عدلیہ اور سیاسی قوتوں کے جمہوری عمل پر اتفاق کی بات اپنے دور رس سیاسی نتائج اور اثرات و مضمرات کے حوالے سے نہ صرف خوش آیند ہے بلکہ جمہوریت پسندوں کے لیے بھی اس وقت باعث اطمینان ہو سکتی ہے جب ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشی تقدیر بدلنے کی جستجو صرف عملی اور نتیجہ خیزجمہوریت پر مکمل یقین ،کمٹمنٹ اور پارلیمانی رواداری کے ساتھ جاری رکھی جائے ۔اگر ایسی تبدیلی عمل میں آجائے تو قوم اس پیش رفت پر اظہار مسرت کیے بغیر نہیں رہ سکے گی اور یہ ممکن تب ہوگا جب فوج،عدلیہ اور سیاسی و جمہوری قوتیں ماضی سے سبق حاصل کریں۔ وزیراعظم کا جمہوریت پر شب خون کا حوالہ تاریخی ہے ۔اس میں بلیغ سا اشارہ بھی ہے کہ اگر عدلیہ،عسکری قیادت اور سیاسی جماعتیں اپنے دائرہ اختیار کو قومی اور عوامی مفاد سے منسلک کرتے ہوئے امور مملکت و حکومت چلائیں گی تو عالمی برادری بھی ہمیں دہشت گردوں کی صف سے الگ کرکے ہماری نئی باوقار جمہوری شناخت کو تسلیم کرے گی۔
اس لیے ضروری ہے کہ آیندہ انتخابات کے انعقاد سے اس مقصد کی طرف پیش قدمی کا عزم کیا جائے تاکہ اداروں کے مابین مثبت،صحتمند ، تعمیری اشتراک عمل ہو جس کے نتیجے میں قومی امور پر خیر سگالی و مفاہمت سے سارے امور مملکت انجام پذیر ہوتے نظر آئیں ۔وزیراعظم کا کہنا درست ہے کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ میں کام کرے تواسی میں سب کی عزت اور ملک کی بہتری ہے ۔ یہ ایک ناصحانہ اور مشفقانہ تلقین نہیں وقت کا تقاضا ہے ۔ریاستی ستونوں میں بقائے باہمی کی مستحکم بنیاد آئین کی بالادستی کے اقرار وتائید میں مضمر ہے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کا مستقبل جمہوریت کے تسلسل سے پیوستہ ہے، پاکستان کے عوام نے اسے بار بار ثابت کیا ہے، عوام ہی حتمی فیصلہ کرتے ہیں، ہم عوام کی عدالت پر یقین رکھتے ہیں، صدرنے کہا کہ جمہوریت کے خلاف ہمیشہ سازشیںہوئی ہیں ،موجودہ حکومت نے ذرایع ابلاغ میں کسی کے خلاف کوئی معاندانہ کارروائی نہیںکی، حکومت نے تمام سیاسی قوتوںکی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا یہ استدلال کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں، جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے اور تبدیلی ووٹ کے ذریعے ہی آنی چاہیے، جمہوریت کو کسی بھی طرف سے خطرہ ہونا چاہیے نہ ہی جمہوری عمل کو پٹڑی سے اترنا چاہیے، ہر رائے دہندہ کو ووٹ کاحق ملنا چاہیے، لوگ اپنا ووٹ استعمال کریں گے تو حقیقی نمایندے منتخب ہوں گے جس سے بیشتر مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے، جمہوریت کے حق میں کھلی گواہی ہے۔ عدلیہ کو ریاستی تکون میں مغربی عدالتی حلقوں میں سب سے کم خطرناک شاخ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے پاس اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے تلوار ہوتی ہے نا پرس(مروجہ اصطلاح کے مطابق لفافہ) ۔
یوں جوابدہ جج کوعدلیہ کی آزادی کا نگران اور ضامن کہا جاتا ہے۔آج اگر جمہوریت کی تقدیس و تحفظ میں فوج کا کوئی غیر معمولی اور نمایاں کردار رہا ہے تو اسے بھی عالمی اور داخلی صورتحال کی سنگینی کا ادراک ہے، فوج بھی اسی ارض وطن کی ہے ، اسے ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی نگہبانی کرنی ہے، یہی اس کا اصل کردار ہے ، پاک فوج ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ بھی جمہوری رویوں کو اب سیاسی کلچر کا حصہ بنائیں ۔ شعلہ نوائی ترک کریں،میڈیا کی تنقید کا شائستگی سے جواب دیں،اور قانون سازی کے نازک اور اہم کام کو سمجھنے اور اسے پارلیمنٹ کی روایات اور اپنے تعلیمی اور فکری استعداد کے مطابق ادا کرنے میں پہلو تہی نہ کریں، قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں کورم پورا ہونا چاہیے ۔
اس پارلیمان کو اپنی آئینی میعاد کی تکمیل سے قبل ابھی بہت سارے اجلاس کرنے ہیں۔ اسی طرح شہریوں کے اطلاعات تک رسائی کے حق کو بھی چیلنج نہ کیا جائے ۔یہاں میڈیا اور جمہوریت کی رفاقت ناگزیر ہوجاتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے 46 نکاتی انتخابی ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے جس کے تحت صدر اور گورنر انتخابی مہم نہیں چلا سکیں گے اور جنہیں چلانے کا استحقاق حاصل ہوگا وہ ارتقا پذیر جمہوریت کی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے اسے روڈ میپ کا درجہ دیں گے ۔بلاشبہ پیپلز پارٹی نے ملکی سیاست میں تحمل اور برداشت کا کلچر متعارف کرایا ہے ۔ ادھر حکومت نے مشاورت کے عمل کو مہمیز دی ہے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کرآیندہ عام انتخابات اور پرامن انتقال اقتدارکے راستے میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہ کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔
غیرجانبدار نگران حکومت، اسمبلیوں کی تحلیل کی ممکنہ تاریخ پر وزیر اعظم کے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطوں کے فیصلے کی توثیق کی گئی ہے، حکمران اتحاد کے رہنمائوں کا اجلاس منگل کوصدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کی مشترکہ صدارت میں ایوان صدر میں ہوا جس میں حکمران اتحاد نے عام انتخابات کے نتیجہ میں ہرصورت پر امن انتقال اقتدار کو یقینی بنانے کا عندیہ دیا۔ایک منتخب جمہوری حکومت کی کامیابی کے ساتھ اپنی میعاد کی تکمیل جرس کارواں ہے، جمہوری تسلسل جاری رہا تو کسی کو غیر آئینی سیٹ اپ مسلط کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔جمہوریت کو لاحق ہونے والے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی جمہوری طریقے اختیار کرنے چاہئیں تاکہ کوئی تلخی،رنجش اور کشیدگی جمہوری عمل کو نقصان نہ پہنچائے، چنانچہ حکمران اتحاد نے واضح کیا ہے کہ جمہوریت کے خلاف تمام سازشوں کو نا کام بنا دیا جائے گا اور فیصلوں پر آئین کے مطابق عملدرآمد ہوگا۔ اس عہد پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا شرط ہے۔
وزیر اعظم کو سیاسی جماعتوں کو ایک ہی دن قومی و صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل، انتخابی تاریخ اور انتخابی اصلاحات بارے اہم قانون سازی پر اعتماد میں لینا چاہیے۔اجلاس کے مطابق انتخابات آئینی طریقہ کار کے تحت ہوں گے۔ مقررہ مدت میں انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد نئی حکومت ملک کا نظم ونسق سنبھال لے گی۔
اس میں شک نہیں کہ عدلیہ ، فوج اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی بقا کے لیے سول سوسائٹی اور وکلا کی قربانیاں بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ حکومت کی 5 سالہ مدت کی تکمیل سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے، تمام سٹیک ہولڈرز نے جمہوری نظام کی مکمل حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔دنیا کا کوئی جمہوری نظام اشتراک عمل کے بغیر مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوتا۔ حکمران جمہوریت کے خلاف لاچار ومجبور اور بنیادی ضرورتوں سے محروم عوام کے گلے شکوؤں اور میڈیا کی تعمیری تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اپنی کمزوریاں دور کریں۔ وقت نے مہلت دی ہے ۔ انتخابات کا سورج سوا نیزے پرآگیا ہے۔بسم اﷲ کیجیے۔
وزیراعظم کی طرف سے فوج ،عدلیہ اور سیاسی قوتوں کے جمہوری عمل پر اتفاق کی بات اپنے دور رس سیاسی نتائج اور اثرات و مضمرات کے حوالے سے نہ صرف خوش آیند ہے بلکہ جمہوریت پسندوں کے لیے بھی اس وقت باعث اطمینان ہو سکتی ہے جب ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشی تقدیر بدلنے کی جستجو صرف عملی اور نتیجہ خیزجمہوریت پر مکمل یقین ،کمٹمنٹ اور پارلیمانی رواداری کے ساتھ جاری رکھی جائے ۔اگر ایسی تبدیلی عمل میں آجائے تو قوم اس پیش رفت پر اظہار مسرت کیے بغیر نہیں رہ سکے گی اور یہ ممکن تب ہوگا جب فوج،عدلیہ اور سیاسی و جمہوری قوتیں ماضی سے سبق حاصل کریں۔ وزیراعظم کا جمہوریت پر شب خون کا حوالہ تاریخی ہے ۔اس میں بلیغ سا اشارہ بھی ہے کہ اگر عدلیہ،عسکری قیادت اور سیاسی جماعتیں اپنے دائرہ اختیار کو قومی اور عوامی مفاد سے منسلک کرتے ہوئے امور مملکت و حکومت چلائیں گی تو عالمی برادری بھی ہمیں دہشت گردوں کی صف سے الگ کرکے ہماری نئی باوقار جمہوری شناخت کو تسلیم کرے گی۔
اس لیے ضروری ہے کہ آیندہ انتخابات کے انعقاد سے اس مقصد کی طرف پیش قدمی کا عزم کیا جائے تاکہ اداروں کے مابین مثبت،صحتمند ، تعمیری اشتراک عمل ہو جس کے نتیجے میں قومی امور پر خیر سگالی و مفاہمت سے سارے امور مملکت انجام پذیر ہوتے نظر آئیں ۔وزیراعظم کا کہنا درست ہے کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ میں کام کرے تواسی میں سب کی عزت اور ملک کی بہتری ہے ۔ یہ ایک ناصحانہ اور مشفقانہ تلقین نہیں وقت کا تقاضا ہے ۔ریاستی ستونوں میں بقائے باہمی کی مستحکم بنیاد آئین کی بالادستی کے اقرار وتائید میں مضمر ہے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کا مستقبل جمہوریت کے تسلسل سے پیوستہ ہے، پاکستان کے عوام نے اسے بار بار ثابت کیا ہے، عوام ہی حتمی فیصلہ کرتے ہیں، ہم عوام کی عدالت پر یقین رکھتے ہیں، صدرنے کہا کہ جمہوریت کے خلاف ہمیشہ سازشیںہوئی ہیں ،موجودہ حکومت نے ذرایع ابلاغ میں کسی کے خلاف کوئی معاندانہ کارروائی نہیںکی، حکومت نے تمام سیاسی قوتوںکی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا یہ استدلال کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں، جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے اور تبدیلی ووٹ کے ذریعے ہی آنی چاہیے، جمہوریت کو کسی بھی طرف سے خطرہ ہونا چاہیے نہ ہی جمہوری عمل کو پٹڑی سے اترنا چاہیے، ہر رائے دہندہ کو ووٹ کاحق ملنا چاہیے، لوگ اپنا ووٹ استعمال کریں گے تو حقیقی نمایندے منتخب ہوں گے جس سے بیشتر مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے، جمہوریت کے حق میں کھلی گواہی ہے۔ عدلیہ کو ریاستی تکون میں مغربی عدالتی حلقوں میں سب سے کم خطرناک شاخ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے پاس اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے تلوار ہوتی ہے نا پرس(مروجہ اصطلاح کے مطابق لفافہ) ۔
یوں جوابدہ جج کوعدلیہ کی آزادی کا نگران اور ضامن کہا جاتا ہے۔آج اگر جمہوریت کی تقدیس و تحفظ میں فوج کا کوئی غیر معمولی اور نمایاں کردار رہا ہے تو اسے بھی عالمی اور داخلی صورتحال کی سنگینی کا ادراک ہے، فوج بھی اسی ارض وطن کی ہے ، اسے ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی نگہبانی کرنی ہے، یہی اس کا اصل کردار ہے ، پاک فوج ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ بھی جمہوری رویوں کو اب سیاسی کلچر کا حصہ بنائیں ۔ شعلہ نوائی ترک کریں،میڈیا کی تنقید کا شائستگی سے جواب دیں،اور قانون سازی کے نازک اور اہم کام کو سمجھنے اور اسے پارلیمنٹ کی روایات اور اپنے تعلیمی اور فکری استعداد کے مطابق ادا کرنے میں پہلو تہی نہ کریں، قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں کورم پورا ہونا چاہیے ۔
اس پارلیمان کو اپنی آئینی میعاد کی تکمیل سے قبل ابھی بہت سارے اجلاس کرنے ہیں۔ اسی طرح شہریوں کے اطلاعات تک رسائی کے حق کو بھی چیلنج نہ کیا جائے ۔یہاں میڈیا اور جمہوریت کی رفاقت ناگزیر ہوجاتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے 46 نکاتی انتخابی ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے جس کے تحت صدر اور گورنر انتخابی مہم نہیں چلا سکیں گے اور جنہیں چلانے کا استحقاق حاصل ہوگا وہ ارتقا پذیر جمہوریت کی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے اسے روڈ میپ کا درجہ دیں گے ۔بلاشبہ پیپلز پارٹی نے ملکی سیاست میں تحمل اور برداشت کا کلچر متعارف کرایا ہے ۔ ادھر حکومت نے مشاورت کے عمل کو مہمیز دی ہے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کرآیندہ عام انتخابات اور پرامن انتقال اقتدارکے راستے میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہ کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔
غیرجانبدار نگران حکومت، اسمبلیوں کی تحلیل کی ممکنہ تاریخ پر وزیر اعظم کے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطوں کے فیصلے کی توثیق کی گئی ہے، حکمران اتحاد کے رہنمائوں کا اجلاس منگل کوصدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کی مشترکہ صدارت میں ایوان صدر میں ہوا جس میں حکمران اتحاد نے عام انتخابات کے نتیجہ میں ہرصورت پر امن انتقال اقتدار کو یقینی بنانے کا عندیہ دیا۔ایک منتخب جمہوری حکومت کی کامیابی کے ساتھ اپنی میعاد کی تکمیل جرس کارواں ہے، جمہوری تسلسل جاری رہا تو کسی کو غیر آئینی سیٹ اپ مسلط کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔جمہوریت کو لاحق ہونے والے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی جمہوری طریقے اختیار کرنے چاہئیں تاکہ کوئی تلخی،رنجش اور کشیدگی جمہوری عمل کو نقصان نہ پہنچائے، چنانچہ حکمران اتحاد نے واضح کیا ہے کہ جمہوریت کے خلاف تمام سازشوں کو نا کام بنا دیا جائے گا اور فیصلوں پر آئین کے مطابق عملدرآمد ہوگا۔ اس عہد پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا شرط ہے۔
وزیر اعظم کو سیاسی جماعتوں کو ایک ہی دن قومی و صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل، انتخابی تاریخ اور انتخابی اصلاحات بارے اہم قانون سازی پر اعتماد میں لینا چاہیے۔اجلاس کے مطابق انتخابات آئینی طریقہ کار کے تحت ہوں گے۔ مقررہ مدت میں انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد نئی حکومت ملک کا نظم ونسق سنبھال لے گی۔
اس میں شک نہیں کہ عدلیہ ، فوج اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی بقا کے لیے سول سوسائٹی اور وکلا کی قربانیاں بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ حکومت کی 5 سالہ مدت کی تکمیل سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے، تمام سٹیک ہولڈرز نے جمہوری نظام کی مکمل حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔دنیا کا کوئی جمہوری نظام اشتراک عمل کے بغیر مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوتا۔ حکمران جمہوریت کے خلاف لاچار ومجبور اور بنیادی ضرورتوں سے محروم عوام کے گلے شکوؤں اور میڈیا کی تعمیری تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اپنی کمزوریاں دور کریں۔ وقت نے مہلت دی ہے ۔ انتخابات کا سورج سوا نیزے پرآگیا ہے۔بسم اﷲ کیجیے۔