ریلیف پر مبنی اقدامات کی ضرورت
پٹرول بم کی زد سے عام آدمی سے لے کر متوسط طبقہ اور صنعتی و تجارتی حلقوں سمیت معاشرے کا کوئی فرد نہیں بچ سکے گا
حکومت نے ریلیف کے منتظر اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر پٹرول بم پھینک دیا. فوٹو فائل
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی، پٹرول7.67 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 4.58 روپے مہنگا ہو گیا۔ سی این جی کی قیمت میں 7.02روپے اضافہ ہوا۔ وزارت پٹرولیم کی منظور کردہ سمری کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 7.67 روپے اضافہ کیا گیا جس کے بعد ایک لیٹر پٹرول کی نئی قیمت93.57 روپے ہو گئی ہے،
ہائی اسپیڈ ڈیزل 4.58 روپے مہنگا ہونے کے بعد 101.79 روپے فی لیٹر ہو گیا، مٹی کے تیل کی قیمت میں 4.64 روپے اضافہ ہوا جس کے بعد مٹی کا تیل اب 92.83 روپے لیٹر فروخت ہو گا، لائٹ ڈیزل 4.78 روپے اضافے کے بعد90.11 روپے کا ہو گیا، ایچ او بی سی کی قیمت میں 7.64 روپے اضافہ ہوا، اس کی نئی قیمت 120.16 روپے ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے ریلیف کے منتظر اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر پٹرول بم پھینک دیا ہے اور اس فیصلے کے مضمرات اپنے ہمہ جہتی اقتصادی،سماجی اور نفسیاتی اثرات کے باعث جمہوری نظام کے حق میں بہتر نہیں ہو سکتے۔ عوام کا اضطراب مزید بڑھے گا اور گھروں کے بجھتے چولہوں سمیت تمام معمولات زندگی، کاروباری و تجارتی شعبے اور ٹرانسپورٹ نظام شدید بدنظمی سے دوچار ہوں گے۔ پٹرول کا قومی معیشت اور عالمی اقتصادیات میں بنیادی کردار ہے، آج کے گلوبل میکرو اکنامک سسٹم میں اس کی افادیت مسلمہ ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کی متعدد ایجادات' توانائی کے ناگزیر یونٹس پٹرول، ڈیزل اور توانائی کے متبادل ذرایع ترقی اور قومی خوشحالی کی ضمانت دیتے ہیں
مگر ہمارے حکمرانوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اندوہناک پالیسی وضع کرکے عوام کا کچومر نکال دیا ہے جب کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار پٹرولیم اور اس سے منسلک ٹھوس اور طویل المیعاد معاشی اقدامات میں حقیقت پسندانہ طرز عمل، عوام کی ضروریات اور قابل اطمینان تسلسل کو یقینی بنائیں لیکن اس کے برعکس حکمت عملیاں بنائی جا رہی ہیں جس کے تحت ایک دن پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں معمولی کمی کا مژدہ سنایا جاتا ہے پھر چند روز بعد قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کیا جاتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ بدانتظامی معیشت کا روگ بن رہی ہے۔ اس میں حسن تدبیر کہیں نظر نہیں آتا۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے مہنگائی کے عذاب کا اہم عنصر ہے جب کہ معاشی استحکام کا عمل مربوط، سائنٹیفک، دیرپا اور عوامی امنگوں سے ہم آہنگ ہو تبھی باثمر ہو گا۔ حیرت ہے کہ عالمی مارکیٹ میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں 1.11 ڈالر کی کمی ہوئی اور نیویارک اور لندن میں برینٹ نارتھ سی کروڈ کی قیمت 81 سینٹ کمی کے ساتھ لائٹ سویٹ کروڈ آئل کے سودے 88.67 بیرل میں ہوئے مگر قوم کو ریلیف کے بجائے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا جھٹکا دیا گیا،
حکومت کی طرف سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا عوام کو اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوا، کہیں بھی ٹرانسپورٹر مافیا نے بسوں، کوچز اور منی بسوں کے کرایوں میں کمی نہیں کی جب کہ حالیہ اضافہ سے من مانے کرایوں کی وصولی میں وہ مزید پھرتی دکھائے گی۔ حکومت کو ان کے اقتصادی افلاطون یہ صائب مشورہ دے سکتے تھے کہ الیکشن کے قریب آتے دنوں میں ایسا فیصلہ کسی طور بھی ملکی یا عوامی مفاد میں نہیں ہو گا۔ اسے غلط وقت پر عاقبت نا اندیشانہ اقدام سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
پٹرول بم کی زد سے عام آدمی سے لے کر متوسط طبقہ اور صنعتی و تجارتی حلقوں سمیت معاشرے کا کوئی فرد نہیں بچ سکے گا۔ ایک طرف غربت بڑھ رہی ہے، لوڈ شیڈنگ مصیبت بنی ہوئی ہے، رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں گرانی کا وہ عالم ہے کہ پورے ملک میں ہاہاکار مچی ہوئی ہے جب کہ سماجی انصاف اور عوامی ریلیف کے حوالے سے ارباب اختیار کا انداز بیاں روایتی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے
لیکن محدود وسائل کے باوجود جمہوری حکومت اس بحران پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، خصوصی مشیر برائے پٹرولیم و سینیٹر ڈاکٹر عاصم کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھی مجبوراً قیمتیں بڑھانا پڑی ہیں۔ اس اضافے میں 17 فی صد سیلز ٹیکس9روپے پٹرولیم لیوی ملا کر کل 22فی صد ٹیکس بنتا ہے جس کا 70فیصد صوبوں کو جاتا ہے جب کہ پٹرولیم لیوی فیڈریشن کو جاتی ہے اگر کوئی بھی صوبہ یہ اعلان کر دے کہ ہم پٹرول پر سیلز ٹیکس نہیں لے رہے تو قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔
سی این جی سیکٹر کو اگلے تین سال میں مرحلہ وار ختم کر رہے ہیں اگر ایل این جی جلد آ گئی تو یہ مدت کم ہو سکتی ہے جب کہ سابق وزیر مملکت برائے اقتصادی امور عمر ایوب خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی ٹیم میں ہی بحران ہے تمام لوگ نااہل اور بدنیتی کا شکار ہیں۔ وزارت خزانہ کو چاہیے کہ وہ مرحلہ وار آئی پی پیز کو ادائیگی کرے تاکہ عوام کی پریشانیوں میں کمی ہو۔ وفاقی سیکریٹری پٹرولیم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو بتایا ہے کہ صدر آصف زرداری کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اب یہ سسٹم مزید نہیں چل سکتا
بجلی پر سبسڈی دینے اور نادہندگان سے اربوں روپے کے واجبات وصول نہ ہونے سے سرکلرڈیٹ بڑھتا جا رہا ہے صوبے بقایاجات نہیں دے رہے اس لیے توانائی کا بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ ادھر پوٹھوہار، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ پر مشتمل ریجن ون میں ایک کلو سی این جی 7.02 روپے مہنگی کر دی گئی جس کے بعد اس کی نئی قیمت85.67 روپے کلو ہو گئی، پنجاب اور سندھ پر مشتمل ریجن ٹو میں سی این جی 6.34 روپے کلو اضافے کے بعد 78.26 روپے میں ملے گی۔ پٹرولیم قیمتوں میں متوقع اضافے کے پیش نظر پٹرول پمپ مالکان نے گزشتہ روز سیل بند رکھی
جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب کہ شہریوں نے تیل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کو ظلم قرار دیتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی معیشت کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم ان سے نمٹنے کے لیے حکومتی ٹیم کو زمینی حقائق اور عوام کو درپیش معاشی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے درست اقتصادی اور معاشی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ اہلیت پر مبنی اقتصادی ٹیم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے گورکھ دھندے سے عام صارفین کو نجات دلائے۔ دنیا نے 1970ء میں تیل کی قیمتوں کا استحکام دیکھا پھر 2007-2010 ء کے دورانیے میں عالمی مالیاتی اور اقتصادی بحرانوں نے عالمی معیشتوں کے بخیے ادھیڑ دیے۔ ان چشم کشا حقائق سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔
مستحکم معیشت ہی جمہوریت کی مضبوط اساس ہے۔ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ حال ہی میں ماہرین پانی سے گاڑیاں چلانے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ ان کی تحقیقات کی معاشی افادیت کو جانچا جائے، تجربے کامیاب ہیں تو ان کو آگے بڑھایا جائے۔ امریکا کے مشہور ادیب ارنسٹ ہیمنگوے کا قول ہے''بدانتظامی کی ماری ہوئی قوم کے لیے پہلا نسخہ کیمیا افراط زر ہے اور دوسرا جنگ۔ دونوں عارضی خوشحالی لاتے ہیں اور دونوں کا نتیجہ بربادی ہے لیکن دونوں سیاسی اور معاشی موقع پرستوں کی بہترین پناہ گاہ ہیں'' امید کی جانی چاہیے کہ حکمران قوم کو ریلیف پر مبنی معاشی پروگرام دینے پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز رکھیں گے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل 4.58 روپے مہنگا ہونے کے بعد 101.79 روپے فی لیٹر ہو گیا، مٹی کے تیل کی قیمت میں 4.64 روپے اضافہ ہوا جس کے بعد مٹی کا تیل اب 92.83 روپے لیٹر فروخت ہو گا، لائٹ ڈیزل 4.78 روپے اضافے کے بعد90.11 روپے کا ہو گیا، ایچ او بی سی کی قیمت میں 7.64 روپے اضافہ ہوا، اس کی نئی قیمت 120.16 روپے ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے ریلیف کے منتظر اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر پٹرول بم پھینک دیا ہے اور اس فیصلے کے مضمرات اپنے ہمہ جہتی اقتصادی،سماجی اور نفسیاتی اثرات کے باعث جمہوری نظام کے حق میں بہتر نہیں ہو سکتے۔ عوام کا اضطراب مزید بڑھے گا اور گھروں کے بجھتے چولہوں سمیت تمام معمولات زندگی، کاروباری و تجارتی شعبے اور ٹرانسپورٹ نظام شدید بدنظمی سے دوچار ہوں گے۔ پٹرول کا قومی معیشت اور عالمی اقتصادیات میں بنیادی کردار ہے، آج کے گلوبل میکرو اکنامک سسٹم میں اس کی افادیت مسلمہ ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کی متعدد ایجادات' توانائی کے ناگزیر یونٹس پٹرول، ڈیزل اور توانائی کے متبادل ذرایع ترقی اور قومی خوشحالی کی ضمانت دیتے ہیں
مگر ہمارے حکمرانوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اندوہناک پالیسی وضع کرکے عوام کا کچومر نکال دیا ہے جب کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار پٹرولیم اور اس سے منسلک ٹھوس اور طویل المیعاد معاشی اقدامات میں حقیقت پسندانہ طرز عمل، عوام کی ضروریات اور قابل اطمینان تسلسل کو یقینی بنائیں لیکن اس کے برعکس حکمت عملیاں بنائی جا رہی ہیں جس کے تحت ایک دن پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں معمولی کمی کا مژدہ سنایا جاتا ہے پھر چند روز بعد قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کیا جاتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ بدانتظامی معیشت کا روگ بن رہی ہے۔ اس میں حسن تدبیر کہیں نظر نہیں آتا۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے مہنگائی کے عذاب کا اہم عنصر ہے جب کہ معاشی استحکام کا عمل مربوط، سائنٹیفک، دیرپا اور عوامی امنگوں سے ہم آہنگ ہو تبھی باثمر ہو گا۔ حیرت ہے کہ عالمی مارکیٹ میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں 1.11 ڈالر کی کمی ہوئی اور نیویارک اور لندن میں برینٹ نارتھ سی کروڈ کی قیمت 81 سینٹ کمی کے ساتھ لائٹ سویٹ کروڈ آئل کے سودے 88.67 بیرل میں ہوئے مگر قوم کو ریلیف کے بجائے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا جھٹکا دیا گیا،
حکومت کی طرف سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا عوام کو اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوا، کہیں بھی ٹرانسپورٹر مافیا نے بسوں، کوچز اور منی بسوں کے کرایوں میں کمی نہیں کی جب کہ حالیہ اضافہ سے من مانے کرایوں کی وصولی میں وہ مزید پھرتی دکھائے گی۔ حکومت کو ان کے اقتصادی افلاطون یہ صائب مشورہ دے سکتے تھے کہ الیکشن کے قریب آتے دنوں میں ایسا فیصلہ کسی طور بھی ملکی یا عوامی مفاد میں نہیں ہو گا۔ اسے غلط وقت پر عاقبت نا اندیشانہ اقدام سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
پٹرول بم کی زد سے عام آدمی سے لے کر متوسط طبقہ اور صنعتی و تجارتی حلقوں سمیت معاشرے کا کوئی فرد نہیں بچ سکے گا۔ ایک طرف غربت بڑھ رہی ہے، لوڈ شیڈنگ مصیبت بنی ہوئی ہے، رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں گرانی کا وہ عالم ہے کہ پورے ملک میں ہاہاکار مچی ہوئی ہے جب کہ سماجی انصاف اور عوامی ریلیف کے حوالے سے ارباب اختیار کا انداز بیاں روایتی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے
لیکن محدود وسائل کے باوجود جمہوری حکومت اس بحران پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، خصوصی مشیر برائے پٹرولیم و سینیٹر ڈاکٹر عاصم کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھی مجبوراً قیمتیں بڑھانا پڑی ہیں۔ اس اضافے میں 17 فی صد سیلز ٹیکس9روپے پٹرولیم لیوی ملا کر کل 22فی صد ٹیکس بنتا ہے جس کا 70فیصد صوبوں کو جاتا ہے جب کہ پٹرولیم لیوی فیڈریشن کو جاتی ہے اگر کوئی بھی صوبہ یہ اعلان کر دے کہ ہم پٹرول پر سیلز ٹیکس نہیں لے رہے تو قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔
سی این جی سیکٹر کو اگلے تین سال میں مرحلہ وار ختم کر رہے ہیں اگر ایل این جی جلد آ گئی تو یہ مدت کم ہو سکتی ہے جب کہ سابق وزیر مملکت برائے اقتصادی امور عمر ایوب خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی ٹیم میں ہی بحران ہے تمام لوگ نااہل اور بدنیتی کا شکار ہیں۔ وزارت خزانہ کو چاہیے کہ وہ مرحلہ وار آئی پی پیز کو ادائیگی کرے تاکہ عوام کی پریشانیوں میں کمی ہو۔ وفاقی سیکریٹری پٹرولیم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو بتایا ہے کہ صدر آصف زرداری کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اب یہ سسٹم مزید نہیں چل سکتا
بجلی پر سبسڈی دینے اور نادہندگان سے اربوں روپے کے واجبات وصول نہ ہونے سے سرکلرڈیٹ بڑھتا جا رہا ہے صوبے بقایاجات نہیں دے رہے اس لیے توانائی کا بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ ادھر پوٹھوہار، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ پر مشتمل ریجن ون میں ایک کلو سی این جی 7.02 روپے مہنگی کر دی گئی جس کے بعد اس کی نئی قیمت85.67 روپے کلو ہو گئی، پنجاب اور سندھ پر مشتمل ریجن ٹو میں سی این جی 6.34 روپے کلو اضافے کے بعد 78.26 روپے میں ملے گی۔ پٹرولیم قیمتوں میں متوقع اضافے کے پیش نظر پٹرول پمپ مالکان نے گزشتہ روز سیل بند رکھی
جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب کہ شہریوں نے تیل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کو ظلم قرار دیتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی معیشت کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم ان سے نمٹنے کے لیے حکومتی ٹیم کو زمینی حقائق اور عوام کو درپیش معاشی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے درست اقتصادی اور معاشی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ اہلیت پر مبنی اقتصادی ٹیم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے گورکھ دھندے سے عام صارفین کو نجات دلائے۔ دنیا نے 1970ء میں تیل کی قیمتوں کا استحکام دیکھا پھر 2007-2010 ء کے دورانیے میں عالمی مالیاتی اور اقتصادی بحرانوں نے عالمی معیشتوں کے بخیے ادھیڑ دیے۔ ان چشم کشا حقائق سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔
مستحکم معیشت ہی جمہوریت کی مضبوط اساس ہے۔ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ حال ہی میں ماہرین پانی سے گاڑیاں چلانے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ ان کی تحقیقات کی معاشی افادیت کو جانچا جائے، تجربے کامیاب ہیں تو ان کو آگے بڑھایا جائے۔ امریکا کے مشہور ادیب ارنسٹ ہیمنگوے کا قول ہے''بدانتظامی کی ماری ہوئی قوم کے لیے پہلا نسخہ کیمیا افراط زر ہے اور دوسرا جنگ۔ دونوں عارضی خوشحالی لاتے ہیں اور دونوں کا نتیجہ بربادی ہے لیکن دونوں سیاسی اور معاشی موقع پرستوں کی بہترین پناہ گاہ ہیں'' امید کی جانی چاہیے کہ حکمران قوم کو ریلیف پر مبنی معاشی پروگرام دینے پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز رکھیں گے۔