انگلینڈ کیخلاف ایسا نہیں چلے گا
فخر ایک اچھے کھلاڑی ہیں مگر میری ’’ ماہرین‘‘ سے درخواست ہے کہ انھیں فخر زمان ہی رہنے دیں
فخر ایک اچھے کھلاڑی ہیں مگر میری ’’ ماہرین‘‘ سے درخواست ہے کہ انھیں فخر زمان ہی رہنے دیں . فوٹو/اے ایف پی/فائل
PESHAWAR:
پاکستان نے سری لنکا کو ہرا کیسے دیا؟ بہت سے لوگ اب تک یہی سوچ رہے ہوں گے، فتح کے لیے 100 رنز درکار اور آخری 4 وکٹیں باقی، تقریباً تمام سینئرز رخصت، صرف کپتان سرفراز احمد کریز پر موجود، ایسے میں ہدف کا حصول تقریباً ناممکن تھا مگر غیبی مدد نے گرین شرٹس کو سرخرو کرا دیا، اچانک سری لنکن فیلڈرز بھی پاکستانی بن گئے اور دو کیچز گرا دیے، اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ٹیموں میں جیتنے کا نہیں بلکہ ہارنے کا مقابلہ ہو رہا ہے، اوور تھرو کے پانچ رنز بھی بنے، قسمت کی مہربانی ساتھ رہی تو سرفراز نے بھی ہمت پکڑی اور عامر کے ساتھ مل کر ٹیم کو فتح دلا دی،سری لنکا کے ہاتھ سے جیتی بازی کیسے نکلی، اچانک اتنی غلطیاں کیسے ہوئیں، یقیناً آئی سی سی کے کچھ لوگ اس پر سوچ بچار کرنا شروع ہو گئے ہوں گے،بہرحال کامیابی کامیابی ہوتی ہے چاہے جیسے بھی ملے، ہمیں چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں رسائی پر خوشیاں منانی چاہئیں۔
اب ٹرافی2 فتوحات کے فاصلے پر ہی رہ گئی ہے، مگر جیسا کھیل سری لنکا کیخلاف پیش کیا انگلینڈ سے میچ میں ایسا نہیں چلے گا، اس کے فیلڈرز اتنے مواقع دیںگے نہ بولرز اتنی زیادہ لوز بالز کریں گے، اب غفلت برتی تو وطن واپسی کیلیے فلائٹ پر سوار ہونا لازمی ہے، آخری میچ میں گرین شرٹس نے بلاشبہ بہترین بولنگ کی، وہ بیٹنگ لائن جس نے دفاعی چیمپئن بھارت کیخلاف322 رنز کا ٹارگٹ حاصل کر لیا ہمارے خلاف نہ چل سکی،خصوصاً جنید خان اور حسن علی قابل تعریف ہیں، عامر اور فہیم اشرف نے بھی ان کا عمدگی سے ساتھ نبھایا، اب ان لوگوں سے پوچھنا چاہیے جنھوں نے جنید کو بھارت کیخلاف نہیں کھلایا، سب جانتے ہیں کہ ان کی سوئنگ بولنگ انگلش کنڈیشنز میں ٹیم کیلیے مفید ثابت ہو سکتی ہے لہٰذا صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ، ویسے جب سری لنکا نے167 رنز پر 7 وکٹیں گنوائیں تو ایسا لگ رہا تھا کہ شاید 200 رنز بھی نہ بن پائیں، مگر پھر روایتی پاکستانی سہل پسندی نے اسکور 236 تک پہنچوا دیا،کنڈیشنز کے مدنظر یہ ہدف آسانی سے عبور ہوتا دکھائی دے رہا تھا مگر آفرین ہے ہمارے بیٹسمینوں پر جنھوں نے اسے سنسنی خیز مقابلہ بنا دیا، سب سے پہلے اظہر علی کی بات کر لیتے ہیں۔
انھوں نے تین باریاں لیں، صفر پر کیچ ڈراپ ہوا پھر رن آؤٹ سے بچے، اب تو انھیں سنچری بنانی چاہیے تھی مگر وہ ففٹی بھی نہ کر سکے، ان کی سست بیٹنگ ٹیم کیلیے مسئلہ بھی بن سکتی تھی،بابر اعظم، شعیب ملک، محمد حفیظ اور عماد وسیم نے بھی مایوس کیا، مگر فخر زمان کی برق رفتار نصف سنچری کے سبب سلو بیٹنگ سے بھی رن ریٹ پاکستانی دسترس میں رہا جس کا آخر میں فائدہ ہوا، فخر ایک اچھے کھلاڑی ہیں مگر میری '' ماہرین'' سے درخواست ہے کہ انھیں فخر زمان ہی رہنے دیں، سعید انور یا کسی اور عظیم پلیئر سے موازنہ نہ کریں، ابھی سے دماغ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، فہیم اشرف نے بولنگ کے بعد بیٹنگ بھی بہتر کی مگر انھیں سمجھنا ہوگا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں رن آؤٹ سے بچنے کیلیے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے،سرفراز نے اچھی اننگز کھیلی مگر درمیان میں 2 شاٹس ایسے کھیل گئے جن پر کیچز ہو جاتے تو ٹیم کی شکست یقینی تھی،البتہ وہ قسمت کے دھنی لگتے ہیں، بعض غلطیوں کے باوجود انھوں نے اب تک قیادت کی ذمہ داری بھی بہتر انداز میں نبھائی ہے، مصباح الحق کی کپتانی میں گرین شرٹس گزشتہ چیمپئنز ٹرافی کے تینوں میچز ہار گئے تھے، اس بار دو مقابلے جیت کر فائنل فور میں شامل ہوئے جو بہتری کا واضح ثبوت ہے۔
اب پاکستان کو شاید ورلڈکپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ بھی نہ کھیلنا پڑے، یوں ٹیم ایک بڑی رسوائی سے بچ گئی، گزشتہ میچ میں فتح کا ہمیں عامر کو بھی کریڈٹ دینا ہو گا جنھوں نے تجربہ کار سینئرز سے بھی زیادہ ذمہ داری نبھائی، جیسے تیسے کر کے سیمی فائنل میں تو پہنچ گئے مگر اب تو پرانے پلیئرزکچھ ٹیم کیلیے کریں، اگر شکست ہوئی تو ویسے ہی دکھاوے کا آپریشن کلین اپ ہو گا، جس کے بعد چند سینئرز کو ایک، دو سیریز کیلیے گھر بھیج دیا جائیگا، جب ایسا ہونا ہی ہے تو کوشش کیوں نہیں کر لیتے، اپنا چانس بنانے کیلیے بہت میچز کھیل لیے اب ٹیم کیلیے کھیلیں، کیا وہ عامر اور فہیم سے بھی گئے گذرے ہیں جو وکٹ پر قیام ہی نہیں کیا جاتا، سری لنکا کیخلاف میچ کی ٹی وی پر جھلکیاں دیکھ کر انھیں خود بھی شرم محسوس ہوئی ہو گی۔
کب تک نام پر کھیلیں گے، اب تو کچھ کر دکھائیں، انگلینڈ کے پاس روٹ، مورگن، ہیلز اور اسٹوکس جیسے بیٹسمین موجود ہیں جبکہ پلنکٹ، ووڈ اور عادل اچھی بولنگ کر رہے ہیں، کاغذ پر میزبان ٹیم پاکستان سے کافی اچھی دکھائی دیتی ہے مگر جنوبی افریقہ کیخلاف میچ سے قبل بھی ایسا ہی تھا جسے بعد میں ہم نے زیر کیا، انگلش سائیڈ کو بھی ہرانا ناممکن نہیں مگر اس کیلیے سب کو مل کر پرفارم کرنا ہوگا، اگر میچ جیت لیا تو پھر ممکنہ طور پر ٹرافی کیلیے روایتی حریف بھارت سے مقابلہ ہو گا، جسے ہرا کر ابتدائی ناکامی کا بدلہ بھی لیا جا سکتا ہے، مگر فی الوقت یہ سب باتیں خیالی پلاؤ ہیں جنھیں پکا کر توقعات ہی بڑھائی جا سکتی ہیں، سیمی فائنل میں رسائی پر شائقین کرکٹ خوشی سے سرشار اور اب ٹیم کے چیمپئن بننے کی امیدیں وابستہ کر رہے ہیں، کھلاڑیوں کو بھی انھیں مایوس نہیں کرنا چاہیے۔
آخر میں بورڈ آفیشلز کا بھی کچھ ذکر کر لیں ہارنے پر وہ کئی دن تک نظر نہیں آتے اور فتح پر ٹویٹس پر ٹویٹس آنے لگتی ہیں، کریڈٹ ایسے لیتے ہیں جیسے کھلاڑی نہیں وہی فیلڈ میں تھے، جیسے سری لنکا کو ہرانے کے بعد نجم سیٹھی ٹویٹر پر متحرک نظر آئے، انھوں نے اس موقع کو بھی عمران خان سے ''اسکور سیٹل'' کرنے کیلیے استعمال کیا، ٹیم اور بورڈ پر تنقید کرنے والوں کو خوب آڑے ہاتھوں لیا، نجم سیٹھی کے چیئرمین بننے کا خواب پورا ہونا چیمپئنز ٹرافی پر منحصر ہے، ٹیم کے خراب کھیل پر ان کے حوالے سے حقائق دہرائے جانے لگتے ہیں جو انھیں اچھے نہیں لگتے،بہرحال ٹیم جیتی تو یہ پورے پاکستان کی فتح ہو گی اور سب کی طرح میں بھی اس کا منتظر ہوں، کم آن گرین شرٹس قوم تمہارے ساتھ ہے۔
پاکستان نے سری لنکا کو ہرا کیسے دیا؟ بہت سے لوگ اب تک یہی سوچ رہے ہوں گے، فتح کے لیے 100 رنز درکار اور آخری 4 وکٹیں باقی، تقریباً تمام سینئرز رخصت، صرف کپتان سرفراز احمد کریز پر موجود، ایسے میں ہدف کا حصول تقریباً ناممکن تھا مگر غیبی مدد نے گرین شرٹس کو سرخرو کرا دیا، اچانک سری لنکن فیلڈرز بھی پاکستانی بن گئے اور دو کیچز گرا دیے، اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ٹیموں میں جیتنے کا نہیں بلکہ ہارنے کا مقابلہ ہو رہا ہے، اوور تھرو کے پانچ رنز بھی بنے، قسمت کی مہربانی ساتھ رہی تو سرفراز نے بھی ہمت پکڑی اور عامر کے ساتھ مل کر ٹیم کو فتح دلا دی،سری لنکا کے ہاتھ سے جیتی بازی کیسے نکلی، اچانک اتنی غلطیاں کیسے ہوئیں، یقیناً آئی سی سی کے کچھ لوگ اس پر سوچ بچار کرنا شروع ہو گئے ہوں گے،بہرحال کامیابی کامیابی ہوتی ہے چاہے جیسے بھی ملے، ہمیں چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں رسائی پر خوشیاں منانی چاہئیں۔
اب ٹرافی2 فتوحات کے فاصلے پر ہی رہ گئی ہے، مگر جیسا کھیل سری لنکا کیخلاف پیش کیا انگلینڈ سے میچ میں ایسا نہیں چلے گا، اس کے فیلڈرز اتنے مواقع دیںگے نہ بولرز اتنی زیادہ لوز بالز کریں گے، اب غفلت برتی تو وطن واپسی کیلیے فلائٹ پر سوار ہونا لازمی ہے، آخری میچ میں گرین شرٹس نے بلاشبہ بہترین بولنگ کی، وہ بیٹنگ لائن جس نے دفاعی چیمپئن بھارت کیخلاف322 رنز کا ٹارگٹ حاصل کر لیا ہمارے خلاف نہ چل سکی،خصوصاً جنید خان اور حسن علی قابل تعریف ہیں، عامر اور فہیم اشرف نے بھی ان کا عمدگی سے ساتھ نبھایا، اب ان لوگوں سے پوچھنا چاہیے جنھوں نے جنید کو بھارت کیخلاف نہیں کھلایا، سب جانتے ہیں کہ ان کی سوئنگ بولنگ انگلش کنڈیشنز میں ٹیم کیلیے مفید ثابت ہو سکتی ہے لہٰذا صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ، ویسے جب سری لنکا نے167 رنز پر 7 وکٹیں گنوائیں تو ایسا لگ رہا تھا کہ شاید 200 رنز بھی نہ بن پائیں، مگر پھر روایتی پاکستانی سہل پسندی نے اسکور 236 تک پہنچوا دیا،کنڈیشنز کے مدنظر یہ ہدف آسانی سے عبور ہوتا دکھائی دے رہا تھا مگر آفرین ہے ہمارے بیٹسمینوں پر جنھوں نے اسے سنسنی خیز مقابلہ بنا دیا، سب سے پہلے اظہر علی کی بات کر لیتے ہیں۔
انھوں نے تین باریاں لیں، صفر پر کیچ ڈراپ ہوا پھر رن آؤٹ سے بچے، اب تو انھیں سنچری بنانی چاہیے تھی مگر وہ ففٹی بھی نہ کر سکے، ان کی سست بیٹنگ ٹیم کیلیے مسئلہ بھی بن سکتی تھی،بابر اعظم، شعیب ملک، محمد حفیظ اور عماد وسیم نے بھی مایوس کیا، مگر فخر زمان کی برق رفتار نصف سنچری کے سبب سلو بیٹنگ سے بھی رن ریٹ پاکستانی دسترس میں رہا جس کا آخر میں فائدہ ہوا، فخر ایک اچھے کھلاڑی ہیں مگر میری '' ماہرین'' سے درخواست ہے کہ انھیں فخر زمان ہی رہنے دیں، سعید انور یا کسی اور عظیم پلیئر سے موازنہ نہ کریں، ابھی سے دماغ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، فہیم اشرف نے بولنگ کے بعد بیٹنگ بھی بہتر کی مگر انھیں سمجھنا ہوگا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں رن آؤٹ سے بچنے کیلیے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے،سرفراز نے اچھی اننگز کھیلی مگر درمیان میں 2 شاٹس ایسے کھیل گئے جن پر کیچز ہو جاتے تو ٹیم کی شکست یقینی تھی،البتہ وہ قسمت کے دھنی لگتے ہیں، بعض غلطیوں کے باوجود انھوں نے اب تک قیادت کی ذمہ داری بھی بہتر انداز میں نبھائی ہے، مصباح الحق کی کپتانی میں گرین شرٹس گزشتہ چیمپئنز ٹرافی کے تینوں میچز ہار گئے تھے، اس بار دو مقابلے جیت کر فائنل فور میں شامل ہوئے جو بہتری کا واضح ثبوت ہے۔
اب پاکستان کو شاید ورلڈکپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ بھی نہ کھیلنا پڑے، یوں ٹیم ایک بڑی رسوائی سے بچ گئی، گزشتہ میچ میں فتح کا ہمیں عامر کو بھی کریڈٹ دینا ہو گا جنھوں نے تجربہ کار سینئرز سے بھی زیادہ ذمہ داری نبھائی، جیسے تیسے کر کے سیمی فائنل میں تو پہنچ گئے مگر اب تو پرانے پلیئرزکچھ ٹیم کیلیے کریں، اگر شکست ہوئی تو ویسے ہی دکھاوے کا آپریشن کلین اپ ہو گا، جس کے بعد چند سینئرز کو ایک، دو سیریز کیلیے گھر بھیج دیا جائیگا، جب ایسا ہونا ہی ہے تو کوشش کیوں نہیں کر لیتے، اپنا چانس بنانے کیلیے بہت میچز کھیل لیے اب ٹیم کیلیے کھیلیں، کیا وہ عامر اور فہیم سے بھی گئے گذرے ہیں جو وکٹ پر قیام ہی نہیں کیا جاتا، سری لنکا کیخلاف میچ کی ٹی وی پر جھلکیاں دیکھ کر انھیں خود بھی شرم محسوس ہوئی ہو گی۔
کب تک نام پر کھیلیں گے، اب تو کچھ کر دکھائیں، انگلینڈ کے پاس روٹ، مورگن، ہیلز اور اسٹوکس جیسے بیٹسمین موجود ہیں جبکہ پلنکٹ، ووڈ اور عادل اچھی بولنگ کر رہے ہیں، کاغذ پر میزبان ٹیم پاکستان سے کافی اچھی دکھائی دیتی ہے مگر جنوبی افریقہ کیخلاف میچ سے قبل بھی ایسا ہی تھا جسے بعد میں ہم نے زیر کیا، انگلش سائیڈ کو بھی ہرانا ناممکن نہیں مگر اس کیلیے سب کو مل کر پرفارم کرنا ہوگا، اگر میچ جیت لیا تو پھر ممکنہ طور پر ٹرافی کیلیے روایتی حریف بھارت سے مقابلہ ہو گا، جسے ہرا کر ابتدائی ناکامی کا بدلہ بھی لیا جا سکتا ہے، مگر فی الوقت یہ سب باتیں خیالی پلاؤ ہیں جنھیں پکا کر توقعات ہی بڑھائی جا سکتی ہیں، سیمی فائنل میں رسائی پر شائقین کرکٹ خوشی سے سرشار اور اب ٹیم کے چیمپئن بننے کی امیدیں وابستہ کر رہے ہیں، کھلاڑیوں کو بھی انھیں مایوس نہیں کرنا چاہیے۔
آخر میں بورڈ آفیشلز کا بھی کچھ ذکر کر لیں ہارنے پر وہ کئی دن تک نظر نہیں آتے اور فتح پر ٹویٹس پر ٹویٹس آنے لگتی ہیں، کریڈٹ ایسے لیتے ہیں جیسے کھلاڑی نہیں وہی فیلڈ میں تھے، جیسے سری لنکا کو ہرانے کے بعد نجم سیٹھی ٹویٹر پر متحرک نظر آئے، انھوں نے اس موقع کو بھی عمران خان سے ''اسکور سیٹل'' کرنے کیلیے استعمال کیا، ٹیم اور بورڈ پر تنقید کرنے والوں کو خوب آڑے ہاتھوں لیا، نجم سیٹھی کے چیئرمین بننے کا خواب پورا ہونا چیمپئنز ٹرافی پر منحصر ہے، ٹیم کے خراب کھیل پر ان کے حوالے سے حقائق دہرائے جانے لگتے ہیں جو انھیں اچھے نہیں لگتے،بہرحال ٹیم جیتی تو یہ پورے پاکستان کی فتح ہو گی اور سب کی طرح میں بھی اس کا منتظر ہوں، کم آن گرین شرٹس قوم تمہارے ساتھ ہے۔