چاہتے ہیں کہ ہرشخص قوانین کی پیروی کرےچیف جسٹس
عدالت کا مقصدکسی کی تذلیل کرنا نہیں،قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے، افتخار چوہدری
عدالت کا مقصدکسی کی تذلیل کرنا نہیں،قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے، افتخار چوہدری۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر یار محمد رندکی طرف سے بلوچستان حکومت کیخلاف دائر درخواستیں واپس لینے پر خارج کر دیں جبکہ قتل اور اغوا میں سزا کیخلاف ان کی اپیل پر سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی ہے۔
بدھ کویار محمد رندکے وکیل طارق محمود نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کو بتایا کہ انکے موکل کو وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی سے تحفظات تھے اب جبکہ وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہے تو وہ دائر آئینی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں۔اغوا اور قتل کے ایک مقدمے میں سزا کیخلاف یار محمد رندکی اپیل پر ان کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے پیش نہ ہونے پر سزا کیخلاف اپیل خارج کی تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ تکنیکی بنیادوں پرکیا،کیس کو میرٹ پر دیکھنا ضروری ہے اس لیے فیصلے کیلیے دوبارہ ہائیکورٹ کو بھیجنا ضروری ہے۔
مخالف وکیل شیخ احسن الدین نے کیس منتقل کرنے کی مخالفت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کا مقصدکسی کی تذلیل کرنا نہیں، انھوں نے خودکو قانون کے حوالے کیا اب بھی انھیں حکم دیا جائیگا تو وہ آجائیںگے ،لیکن ان کی موجودگی میں بھی یہی فیصلہ ہوگا کہ پہلے ہائیکورٹ اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر کر دے۔چیف جسٹس نے کہا قانون اپنا راستہ خود بنا تا ہے،کوئی چھوٹا ہے یا بڑا، قانون کے سامنے اس سے فرق نہیں پڑتا، چیف جسٹس نے کہا ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہر شخص رولزکی پیروی کرے۔
بدھ کویار محمد رندکے وکیل طارق محمود نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کو بتایا کہ انکے موکل کو وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی سے تحفظات تھے اب جبکہ وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہے تو وہ دائر آئینی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں۔اغوا اور قتل کے ایک مقدمے میں سزا کیخلاف یار محمد رندکی اپیل پر ان کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے پیش نہ ہونے پر سزا کیخلاف اپیل خارج کی تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ تکنیکی بنیادوں پرکیا،کیس کو میرٹ پر دیکھنا ضروری ہے اس لیے فیصلے کیلیے دوبارہ ہائیکورٹ کو بھیجنا ضروری ہے۔
مخالف وکیل شیخ احسن الدین نے کیس منتقل کرنے کی مخالفت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کا مقصدکسی کی تذلیل کرنا نہیں، انھوں نے خودکو قانون کے حوالے کیا اب بھی انھیں حکم دیا جائیگا تو وہ آجائیںگے ،لیکن ان کی موجودگی میں بھی یہی فیصلہ ہوگا کہ پہلے ہائیکورٹ اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر کر دے۔چیف جسٹس نے کہا قانون اپنا راستہ خود بنا تا ہے،کوئی چھوٹا ہے یا بڑا، قانون کے سامنے اس سے فرق نہیں پڑتا، چیف جسٹس نے کہا ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہر شخص رولزکی پیروی کرے۔