پاکستان میں ڈرون حملے امریکا کی غلط پالیسی
پاکستان نہ صرف مسلسل انٹیلی جنس شیئرنگ کررہا ہے بلکہ پاک آرمی خفیہ معلومات پر کارروائی کے لیے ہمہ وقت تیار بھی ہے
پاکستان نہ صرف مسلسل انٹیلی جنس شیئرنگ کررہا ہے بلکہ پاک آرمی خفیہ معلومات پر کارروائی کے لیے ہمہ وقت تیار بھی ہے۔ فوٹو: فائل
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کو متاثر کرنے کے مترادف ہیں تاہم قابل عمل انٹیلی جنس شیئر کی جائے تو پاک فوج بھی کارروائی کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے، پاکستان نہ صرف مسلسل انٹیلی جنس شیئرنگ کررہا ہے بلکہ پاک آرمی خفیہ معلومات پر کارروائی کے لیے ہمہ وقت تیار بھی ہے، افغانستان کو اپنا برادر ہمسایہ سمجھتے ہیں، دہشتگرد پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمن ہیں تاہم خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی اعتماد کے ساتھ جواب دینا بھی ضروری ہے جب کہ الزام تراشی کے بجائے خطرے سے نمٹنے کے لیے مربوط ردعمل کی ضرورت ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بدھ کو پشاور ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انھیں پاک افغان سرحدی صورتحال سمیت علاقے میں جاری اور مستقبل کے آپریشنز پر بریفنگ دی گئی۔ پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے جس میں اسے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جس کی پوری دنیا معترف ہے۔دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں امریکا ایک عرصے سے پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملے کر رہا ہے' منگل کو بھی اس نے خیبرپختونخوا کے علاقے ہنگو میں ڈرون حملہ کیا تھا جس میں حقانی نیٹ ورک کا مبینہ کمانڈر ابوبکر3ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا تھا۔
کسی بھی ملک پر اس کی حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے انٹیلی جنس شیئرنگ کیے بغیر ڈرون حملے کرنا اس ملک کی سالمیت کے خلاف اقدام ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ کے خلاف امریکا کا بھرپور ساتھ دیا ہے اگر کسی پاکستانی علاقے میں دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں اور امریکا کو اس کی اطلاع ملتی ہے تو لازم ہے کہ وہ اس حوالے سے پاکستانی فوج سے انٹیلی جنس شیئرنگ کرے تاکہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کرے کیونکہ پاکستانی فوج دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں لہٰذا اس عفریت سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے کہ دونوں مشترکہ طور پر اپنی سلامتی کے اس دشمن کے خلاف کارروائی کریں۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی اور ہرزہ سرائی سے دہشت گرد قوتوں کو تقویت ملے گی جس کا نقصان دونوں ممالک کو ہو گا۔
افغان حکومت نے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کبھی پاکستان کے ساتھ باہمی اعتماد کے ساتھ جواب دینا ضروری خیال نہیں کیا۔ پاکستان بارہا افغان حکومت کو پیشکش کر چکا ہے کہ وہ اس کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف لائحہ عمل طے کرے لیکن افغان حکومت نے آج تک اس کا مثبت جواب نہیں دیا جس کا خمیازہ وہ دہشت گردی کی صورت میں مسلسل بھگت رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بدھ کو پشاور ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انھیں پاک افغان سرحدی صورتحال سمیت علاقے میں جاری اور مستقبل کے آپریشنز پر بریفنگ دی گئی۔ پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے جس میں اسے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جس کی پوری دنیا معترف ہے۔دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں امریکا ایک عرصے سے پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملے کر رہا ہے' منگل کو بھی اس نے خیبرپختونخوا کے علاقے ہنگو میں ڈرون حملہ کیا تھا جس میں حقانی نیٹ ورک کا مبینہ کمانڈر ابوبکر3ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا تھا۔
کسی بھی ملک پر اس کی حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے انٹیلی جنس شیئرنگ کیے بغیر ڈرون حملے کرنا اس ملک کی سالمیت کے خلاف اقدام ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ کے خلاف امریکا کا بھرپور ساتھ دیا ہے اگر کسی پاکستانی علاقے میں دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں اور امریکا کو اس کی اطلاع ملتی ہے تو لازم ہے کہ وہ اس حوالے سے پاکستانی فوج سے انٹیلی جنس شیئرنگ کرے تاکہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کرے کیونکہ پاکستانی فوج دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں لہٰذا اس عفریت سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے کہ دونوں مشترکہ طور پر اپنی سلامتی کے اس دشمن کے خلاف کارروائی کریں۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی اور ہرزہ سرائی سے دہشت گرد قوتوں کو تقویت ملے گی جس کا نقصان دونوں ممالک کو ہو گا۔
افغان حکومت نے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کبھی پاکستان کے ساتھ باہمی اعتماد کے ساتھ جواب دینا ضروری خیال نہیں کیا۔ پاکستان بارہا افغان حکومت کو پیشکش کر چکا ہے کہ وہ اس کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف لائحہ عمل طے کرے لیکن افغان حکومت نے آج تک اس کا مثبت جواب نہیں دیا جس کا خمیازہ وہ دہشت گردی کی صورت میں مسلسل بھگت رہی ہے۔