ارکان پارلیمنٹ کے مالی گوشوارے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان پارلیمنٹ کے 2016ء کے مالی گوشواروں کی تفصیلات جاری کردیں

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان پارلیمنٹ کے 2016ء کے مالی گوشواروں کی تفصیلات جاری کردیں . فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان پارلیمنٹ کے 2016ء کے مالی گوشواروں کی تفصیلات جاری کردیں جس کے مطابق وزیراعظم نواز شریف ایک ارب82کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں' انھیں ان کے بیٹے حسین نواز نے 23 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بیرون ملک سے بھجوائی تاہم ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں جب کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک ارب 46 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔

عمران خان نے بنی گالہ اراضی کی موجودہ مالیت 75 کروڑ روپے بتائی اور اسے تحفہ ظاہر کیا ہے تاہم ان کے استعمال میں ذاتی کوئی گاڑی نہیں۔ مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے اثاثوں کی کل مالیت 35 کروڑ روپے سے زائد ہے، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد 4 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وراثت میں ملنے والی جائیداد کی مالیت ظاہر نہیں کی، جے یوآئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن 64 لاکھ روپے سے زائد اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق 19 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی کے اثاثوں کی مالیت 50 کروڑ روپے سے زائد ہے، تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین 78 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔

انھوں نے اپنے مالی گوشوارے میں ہیلی کاپٹر اور جہاز کا ذکر نہیں کیا تاہم اپنے استعمال میں 5 گاڑیاں ظاہر کی ہیں، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے اثاثوں کی مالیت 3 کروڑ روپے سے زائد ہے، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار 58 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، اسحاق ڈار نے اثاثوں میں 23 ہزار 825 روپے کا اسلحہ بھی ظاہر کیا ہے تاہم انھوں نے بیرون ملک کوئی جائیداد ظاہر نہیں کی ہے، سینیٹر اعتزاز احسن 10 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 33 کروڑ 69 لاکھ 28 ہزار روپے سے زائد ہے، ان کا 2 کروڑ 76 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے، وزیراعلیٰ پنجاب ایک کروڑ 45 لاکھ روپے مالیت کی لینڈ کروزر کے بھی مالک ہیں اور انھوں نے اتنی ہی رقم کی سرمایہ کاری بھی کی ہوئی ہے، شہباز شریف کی پاکستان میں کل ساڑھے 4 کروڑ روپے کی جائیداد ہے جب کہ لندن میں 12 کروڑ 85 لاکھ روپے مالیت کا فلیٹ بھی اثاثوں میں درج ہے۔


ارکان پارلیمنٹ کے ظاہر کردہ اثاثوں کی مالیت اپنی جگہ لیکن جب ان کے لائف اسٹائل کا جائزہ لیا جائے تو وہ کسی شاہانہ انداز سے کم دکھائی نہیں دیتا۔ کئی ارکان اسمبلی کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں' مسلح باڈی گارڈز اور نوکر چاکروں کی فوج ظفر موج ہر وقت موجود رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ارکان اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کے غیرملکی دورے اپنی جگہ ہیں جن کا کوئی حساب نہیں۔ بعض ارکان اسمبلی کے پاس سیکڑوں ایکڑ زرعی زمین ہے جن کی مالیت بہت کم ظاہر کی جاتی ہے۔

عوامی حلقے بجا طور پر یہ تنقید کرتے ہیں کہ ارکان اسمبلی اپنی جائیدادوں کے جو گوشوارے جمع اور ان کی مالیت ظاہر کرتے ہیں وہ کئی برس پرانے ہوتے ہیں جب کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جائیداد کی مالیت اور اثاثوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔ انتخابات کے موقع پر یہ ارکان اسمبلی زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے جس انداز میں بے بہا دولت لٹاتے ہیں اس سے صاف عیاں ہو جاتا ہے کہ ان کے پاس ظاہر کردہ دولت سے کئی گنا زائد دولت ہے جسے وہ منظرعام پر نہیں لاتے اسی لیے اس کا کوئی حساب کتاب بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ ٹیکس نیٹ میں آتی ہے۔

ارکان پارلیمنٹ نے اپنے مالی گوشوارے تو ظاہر کر دیے ہیں لیکن وہ ٹیکس کتنا ادا کرتے ہیں یہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اربوں روپے جائیداد کے مالک ہونے کے باوجود یہ ارکان پارلیمنٹ حکومتی مراعات سے بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور صحیح ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے جب کہ عام آدمی جو حکومتی مراعات سے قطعی محروم ہوتا ہے وہ ٹیکس بھی ادا کرتا اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ بھی ڈالتا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ سے کبھی یہ حساب نہیں لیا گیا کہ عوامی نمایندہ منتخب ہونے سے پہلے ان کے پاس کتنی جائیداد تھی اور حکومت میں آنے کے بعد اس میں کتنا اضافہ ہوا۔ عوامی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ بہت سے عوامی نمایندے جو عام زندگی گزارتے تھے منتخب ہونے کے بعد کروڑوں روپے کی جائیداد کے مالک ہو گئے مگر ان کا کبھی احتساب نہیں کیا گیا۔
Load Next Story