بلوچستان کا 328 ارب کا بجٹ
بلوچستان کا مالی سال 18-2017 کا3 کھرب 28 ارب روپے سے زائد مالیت کا بجٹ پیش کردیا گیا
بلوچستان کا مالی سال 18-2017 کا3 کھرب 28 ارب روپے سے زائد مالیت کا بجٹ پیش کردیا گیا ۔ فوٹو ایکسپریس
بلوچستان کا مالی سال 18-2017 کا3 کھرب 28 ارب روپے سے زائد مالیت کا بجٹ پیش کردیا گیا جس میں 52 ارب 13 کروڑ روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بجٹ میں ترقیاتی مد کے لیے86 ارب اور 242 ارب روپے غیر ترقیاتی مد کے لیے رکھے گئے ہیں، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں وفاق کی طرز پر10 فیصد اضافہ جب کہ مزدور کی کم سے کم اجرت 14 ہزار روپے سے بڑھا کر 15ہزار روپے کر دی گئی ہے، بیروزگاری کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے7971 نئی اسامیاں پیدا کرنے اور نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، صوبے میں خطیب کی اسامیوں کو گریڈ14 سے گریڈ 16 پیش امام کو گریڈ 12سے گریڈ 14موذن کو گریڈ 4 سے 6 میں اپ گریڈیشن دی گئی ہے۔
بجٹ میں صوبے کے اپنے وسائل سے آمدنی کا تخمینہ12.40 بلین روپے جب کہ وفاق سے حاصل ہونے والی آمدنی قابل تقسیم پول سے202.691 بلین براہ راست منتقلی17.283 بلین30.612 بلین روپے دیگر 13.384 بلین روپے دکھائے گئے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں منعقد ہوا، صوبائی مشیر خزانہ سردار محمد اسلم بزنجو مالی سال2017-18ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کی قیادت میں مخلوط صوبائی حکومت نے قلیل عرصے میں صوبے کو صحیح سمت پر گامزن کر دیا ہے۔
بلوچستان کی سماجی، اقتصادی، زرعی صورتحال، تعلیم و صحت اور امن وامان کے پیش نظر مختص رقوم ایک بہتر سماجی و معاشی پیش رفت کا عندیہ دے رہی ہیں بشرطیکہ نئے منصوبوں اور اقدامات پر مقررہ میعاد میں ٹھوس اور شفاف طریقے سے عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ صوبہ کی سماجی اور معاشی حالت بہتر نہ ہو، بلوچستان میں امن و امان کی بحالی، دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے اور اس ضمن میں خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں، ٹرانسپورٹ کی ارزاں اور سرکاری سطح پر سہولتوں کا فقدان ہے، سارا بوجھ نجی ٹرانسپورٹرز نے سنبھالا ہے، عام آدمی سفر کی اذیتوں سے آج بھی گزر رہا ہے حالانکہ ملک کے سب سے بڑے رقبہ والے صوبہ میں ماس ٹرانزٹ اسکیم پر عملدرآمد ناگزیر ہے، تعلیم و صحت کے شعبوں میں گزشتہ برس کافی اقدامات نظر آئے تاہم بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن رہنما مولانا عبدالواسع نے اسے پہلے سے زیادہ بد تر بجٹ قرار دیا ہے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ گوادر کی ترقی کے لیے بہت سے منصوبے شروع کیے جائیں گے جن میں نئے ایئر پورٹ کا قیام، 200 بستر کا اسپتال،300 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے اور کھارے پانی کو میٹھا کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہیں، حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کے گیم چینجر میگا پروجیکٹس کے تناظر میں گوادر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی لازمی ہے، پینے کے پانی کی قلت نے گوادر کو ''سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم'' جیسی صورتحال سے دوچار کیا ہے، زراعت اور ماہی گیری کی صنعت میں ترقی، معدنی وسائل کی تلاش اور قدرتی وسائل سے مکمل استفادے کی اسکیموں سے صوبہ میں معاشی ترقی کے نئے در کھل سکتے ہیں، مشیر خزانہ کے مطابق مستقبل میں پاکستان کی زرعی، تجارتی ترقی اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بلوچستان کا بڑا حِصہ ہو گا۔ ان کے اس انداز نظر سے شاید ہی کسی کو انکار ہو مگر ضرورت بلوچستان میں کایا پلٹ کی ہے۔
غربت، پسماندگی، قبائلی اور خانہ بدوش لائف اسٹائل کو تبدیلی سے ہم آہنگ کرکے بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لایا جا سکتا ہے، صائب تجویز ہے جس کے تحت بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بلوچستان اِنویسٹمنٹ بورڈ تشکیل دِیا گیا ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید امر ہے کہ مستقبل میں معدنی پیداوار اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بلوچستان ہو گا۔ جاری مالی سال 2016-17ء کے کل بجٹ کا اِبتدائی تخمینہ289.356 بلین روپے تھا۔ نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال 2016-17ء کا تخمینہ 281.437 بلین روپے ہو گیا ہے۔2016-17ء کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 218.173 بلین روپے تھا۔ جو نظرثانی شدہ تخمینے میں کم ہو کر 213.460 بلین روپے رہ گیا ہے۔ پبلِک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام 2016-17ء(P.S.D.P) مالی سال 2016-17ء میں پی.ایس.ڈی.پی کا حجم 71.182 تھا ۔ اِس میں1258جاری اسکیمیں جب کہ 1035 نئی اسکیمیں شامل تھیں۔
بجٹ میں صوبے کے اپنے وسائل سے آمدنی کا تخمینہ12.40 بلین روپے جب کہ وفاق سے حاصل ہونے والی آمدنی قابل تقسیم پول سے202.691 بلین براہ راست منتقلی17.283 بلین30.612 بلین روپے دیگر 13.384 بلین روپے دکھائے گئے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں منعقد ہوا، صوبائی مشیر خزانہ سردار محمد اسلم بزنجو مالی سال2017-18ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کی قیادت میں مخلوط صوبائی حکومت نے قلیل عرصے میں صوبے کو صحیح سمت پر گامزن کر دیا ہے۔
بلوچستان کی سماجی، اقتصادی، زرعی صورتحال، تعلیم و صحت اور امن وامان کے پیش نظر مختص رقوم ایک بہتر سماجی و معاشی پیش رفت کا عندیہ دے رہی ہیں بشرطیکہ نئے منصوبوں اور اقدامات پر مقررہ میعاد میں ٹھوس اور شفاف طریقے سے عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ صوبہ کی سماجی اور معاشی حالت بہتر نہ ہو، بلوچستان میں امن و امان کی بحالی، دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے اور اس ضمن میں خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں، ٹرانسپورٹ کی ارزاں اور سرکاری سطح پر سہولتوں کا فقدان ہے، سارا بوجھ نجی ٹرانسپورٹرز نے سنبھالا ہے، عام آدمی سفر کی اذیتوں سے آج بھی گزر رہا ہے حالانکہ ملک کے سب سے بڑے رقبہ والے صوبہ میں ماس ٹرانزٹ اسکیم پر عملدرآمد ناگزیر ہے، تعلیم و صحت کے شعبوں میں گزشتہ برس کافی اقدامات نظر آئے تاہم بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن رہنما مولانا عبدالواسع نے اسے پہلے سے زیادہ بد تر بجٹ قرار دیا ہے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ گوادر کی ترقی کے لیے بہت سے منصوبے شروع کیے جائیں گے جن میں نئے ایئر پورٹ کا قیام، 200 بستر کا اسپتال،300 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے اور کھارے پانی کو میٹھا کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہیں، حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کے گیم چینجر میگا پروجیکٹس کے تناظر میں گوادر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی لازمی ہے، پینے کے پانی کی قلت نے گوادر کو ''سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم'' جیسی صورتحال سے دوچار کیا ہے، زراعت اور ماہی گیری کی صنعت میں ترقی، معدنی وسائل کی تلاش اور قدرتی وسائل سے مکمل استفادے کی اسکیموں سے صوبہ میں معاشی ترقی کے نئے در کھل سکتے ہیں، مشیر خزانہ کے مطابق مستقبل میں پاکستان کی زرعی، تجارتی ترقی اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بلوچستان کا بڑا حِصہ ہو گا۔ ان کے اس انداز نظر سے شاید ہی کسی کو انکار ہو مگر ضرورت بلوچستان میں کایا پلٹ کی ہے۔
غربت، پسماندگی، قبائلی اور خانہ بدوش لائف اسٹائل کو تبدیلی سے ہم آہنگ کرکے بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لایا جا سکتا ہے، صائب تجویز ہے جس کے تحت بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بلوچستان اِنویسٹمنٹ بورڈ تشکیل دِیا گیا ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید امر ہے کہ مستقبل میں معدنی پیداوار اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بلوچستان ہو گا۔ جاری مالی سال 2016-17ء کے کل بجٹ کا اِبتدائی تخمینہ289.356 بلین روپے تھا۔ نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال 2016-17ء کا تخمینہ 281.437 بلین روپے ہو گیا ہے۔2016-17ء کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 218.173 بلین روپے تھا۔ جو نظرثانی شدہ تخمینے میں کم ہو کر 213.460 بلین روپے رہ گیا ہے۔ پبلِک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام 2016-17ء(P.S.D.P) مالی سال 2016-17ء میں پی.ایس.ڈی.پی کا حجم 71.182 تھا ۔ اِس میں1258جاری اسکیمیں جب کہ 1035 نئی اسکیمیں شامل تھیں۔