ترقی اور خوشحالی کے لیے علاقائی تجارت ضروری ہے
یورپی یونین‘ آسیان‘ افریقی ممالک اور لاطینی امریکا کے ممالک علاقائی تجارت کے ذریعے خوشحالی کے نئے باب رقم کررہے ہیں۔
کابینہ نے وزارت کامرس کو اسلحہ درآمد کرنے کی نئی قومی پالیسی کی تیاری کی بھی ہدایت کردی ۔ فوٹو : ثنا/ فائل
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں بدھ کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی2015ء تک تکمیل' تین سالہ تجارتی پالیسی اور وفاقی محتسب ادارہ جاتی اصلاحات بل 2013ء کی منظوری دی گئی ہے۔ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت چند ہفتوں میں پوری کرلے گی، جس کے بعد نگران حکومت تشکیل دی جائے گی جو الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنائے گی۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ پہلی بار ایک جمہوری حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملا ہے اور تمام سیاسی جماعتیں آیندہ انتخابات کی تیاریوں کے لیے مصروف عمل ہیں مگر دوسری جانب اندیشوں میں گھری سیاسی بے یقینی کی فضا بھی اپنی جگہ موجود ہے ۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابات کا بروقت انعقاد مشکوک نظر آ رہا ہے اور ایک سے دو سالہ نگران سیٹ اپ تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی غیر یقینی کو ختم کرنے کے لیے وزیراعظم کو کابینہ کے اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ ملک دشمن قوتیں پاکستان کو معاشی اور سیاسی طور پر غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں مگر جمہوریت مخالف عناصر کے مکروہ عزائم ناکام ہوں گے۔ ہم کسی کو جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
طاہر القادری کی جانب سے الیکشن کمیشن اور اسمبلیوں کی تحلیل کے مطالبے اور دھرنے نے سیاسی فضا میں ان شکوک و شبہات کو جنم دیا تھا کہ انتخابات ملتوی کرانے اور آمریت کا راستہ ہموار کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے اس بحران پر بخوبی قابو پا لیا مگر طاہر القادری ابھی تک الیکشن کمیشن کی تحلیل اور تشکیل نو کا مطالبہ شدومد سے دہراتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی بے یقینی کی فضا کو ختم کرنے کے لیے وزیراعظم نے واضح عندیہ دے دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تحلیل کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرریاں آئین کے تحت کی گئیں' انھیں ہٹایا نہیں جا سکتا۔ چیف الیکشن کمشنر نے بھی ''ایکسپریس'' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف نے الیکشن کو تاریخی بنانے کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ حکومت' عدلیہ' فوج اور الیکشن کمیشن جمہوری تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے انتخابات کے بروقت انعقاد کی یقین دہانی کرا رہے ہیں مگر چند قوتیں سیاسی فضا میں شکوک و شبہات پھیلا کر مایوسی کو جنم دے رہی ہیں۔ ان قوتوں کو شکست دینے کے لیے شفاف اور منصفانہ انتخابات کا بروقت انعقاد ناگزیر ہے۔ جہاں تک پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا تعلق ہے یہ ایک عرصے سے امریکی دبائو کے باعث شروع نہیں ہو سکا۔ پاکستان میں روز بروز گیس کے ذخائر میں کمی اور عوامی سطح پر اس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس لیے یہ منصوبہ پاکستان کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے پریس بریفنگ میں دو ٹوک واضح کر دیا کہ منصوبے کے حوالے سے عالمی دبائو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے' پاکستان کی طرف سے اس منصوبے پر ڈیڑھ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔علاوہ ازیں تین سالہ تجارتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت علاقائی تجارت میں اضافے کے لیے پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ برآمدات میں اضافے اور برآمد کنند گان کو مالی معاونت کی فراہمی کے لیے ایکسپورٹ امپورٹ بینک قائم کیا جائے گا۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں علاقائی تجارت کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔
یورپی یونین' آسیان' افریقی ممالک اور لاطینی امریکا کے ممالک کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں علاقائی تجارت کے ذریعے خوشحالی کے نئے باب رقم کیے جا رہے ہیں۔اس تناظر میں سارک ممالک بھی علاقائی تجارت کو فروغ دے کر اپنے ہاں پھیلی ہوئی بے روز گاری اور غربت پر قابو پا کر خوشحالی لا سکتے ہیں۔ سارک ممالک میں شریک دو بڑے ممالک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بعض دیرینہ تنازعات امن' دوستی اور تجارت کے بڑے پیمانے پر فروغ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے درمیان مسئلہ کشمیر ایک ایسا کور ایشو ہے جس پر دونوں ممالک ایک دوسرے سے جنگیں لڑ چکے ہیں اور اب بھی کنٹرول لائن پر فائرنگ کی گونج سے پورے خطے پر ایک اور جنگ کا خوف چھا جاتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھارت ایک بڑی معاشی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ علاقائی تجارت میں پاکستان کو اسی صورت زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو گا جب پاکستانی مال بھارتی مال سے کوالٹی میں بہتر اور قیمت میں ارزاں ہوگا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کو انرجی بحران کا سامنا ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے صنعتیں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ سرمایہ دار سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچتے ہوئے اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال روز بروز بگڑتی چلی جا رہی ہے۔ کراچی جو پاکستان کا تجارتی حب اور بڑی بندرگاہ ہے' آج دہشت گردی کا شکار ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب یہاں بے گناہوں کا خون نہ بہتا ہو۔
بھتہ خوروں نے سرمایہ داروں کو الگ سے پریشان کر رکھا ہے۔ اسٹریٹ کرائم نے روپے پیسے کی کھلے عام نقل وحرکت مشکل بنا دی ہے۔ حکمران دہشت گردی کی لہر کے آگے بے بس اور اسے روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی 30 جون 2012ء کو ختم ہونے والے مالی سال 2011-12ء کی جاری ہونے والی معاشی رپورٹ بھی مایوسی کے اعشاریے ظاہر کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو ہدف 4.2 فیصد کے مقابلے میں 3.7 فیصد رہی۔ حکومت اس سال بھی تجدید قرضہ ایکٹ 2005 پر عمل کرتے ہوئے سرکاری قرضوں کو جی ڈی پی کے 60 فیصد تک محدود رکھنے میں ناکام رہی اور ملکی قرضے 16 کھرب روپے کے اضافے سے جی ڈی پی کے 62.6 فیصد تک پہنچ گئے۔ ایسے میں علاقائی تجارت میں پاکستان کا کیا مقام ہو گا' لمحہ فکریہ ہے۔
دوسری جانب افغان حکام نے پاکستان سے سینٹرل ایشیا جانے والی برآمدی کنسائنمنٹ روک دی ہے جس سے کروڑوں روپے مالیت کے پھل اور دیگر خوردنی اشیا چمن بارڈر پر پھنس کر رہ گئی ہیں۔ تین روز سے چمن بارڈر پر پھنسی اس کنسائنمنٹ سے کروڑوں روپے کے پھل اور سبزیاں تلف ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کی مشرقی اور شمال مغربی سرحد سے تجارت تو ہورہی ہے مگر ان سرحدوں پر کشیدگی بھی ساتھ ساتھ برقرار ہے۔ علاقائی تجارت کی ترقی کی راہ میں اس بڑی رکاوٹ کو دور کرنا اشد ضروری ہے۔ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک بہتر مقام پر واقع ہے۔
اس کے پاس محنتی اور ہنر مند افرادی قوت بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے ایک طرف بھارت' بنگلہ دیش' سری لنکا تو دوسری جانب افغانستان' وسط ایشیاء' تیسری جانب مشرق وسطیٰ کے خوشحال ممالک تو چوتھی جانب چین جیسی خوشحال قوت موجود ہے۔ پاکستان ان تمام ممالک سے تجارت کے ذریعے خوشحالی کی منازل باآسانی طے کر سکتا ہے مگر پیشتر اس کے اسے اپنے ہاں توانائی کے بحران اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر قابو پانا ہو گا ورنہ علاقائی تجارت میں پاکستان کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا رہے گا۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابات کا بروقت انعقاد مشکوک نظر آ رہا ہے اور ایک سے دو سالہ نگران سیٹ اپ تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی غیر یقینی کو ختم کرنے کے لیے وزیراعظم کو کابینہ کے اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ ملک دشمن قوتیں پاکستان کو معاشی اور سیاسی طور پر غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں مگر جمہوریت مخالف عناصر کے مکروہ عزائم ناکام ہوں گے۔ ہم کسی کو جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
طاہر القادری کی جانب سے الیکشن کمیشن اور اسمبلیوں کی تحلیل کے مطالبے اور دھرنے نے سیاسی فضا میں ان شکوک و شبہات کو جنم دیا تھا کہ انتخابات ملتوی کرانے اور آمریت کا راستہ ہموار کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے اس بحران پر بخوبی قابو پا لیا مگر طاہر القادری ابھی تک الیکشن کمیشن کی تحلیل اور تشکیل نو کا مطالبہ شدومد سے دہراتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی بے یقینی کی فضا کو ختم کرنے کے لیے وزیراعظم نے واضح عندیہ دے دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تحلیل کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرریاں آئین کے تحت کی گئیں' انھیں ہٹایا نہیں جا سکتا۔ چیف الیکشن کمشنر نے بھی ''ایکسپریس'' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف نے الیکشن کو تاریخی بنانے کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ حکومت' عدلیہ' فوج اور الیکشن کمیشن جمہوری تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے انتخابات کے بروقت انعقاد کی یقین دہانی کرا رہے ہیں مگر چند قوتیں سیاسی فضا میں شکوک و شبہات پھیلا کر مایوسی کو جنم دے رہی ہیں۔ ان قوتوں کو شکست دینے کے لیے شفاف اور منصفانہ انتخابات کا بروقت انعقاد ناگزیر ہے۔ جہاں تک پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا تعلق ہے یہ ایک عرصے سے امریکی دبائو کے باعث شروع نہیں ہو سکا۔ پاکستان میں روز بروز گیس کے ذخائر میں کمی اور عوامی سطح پر اس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس لیے یہ منصوبہ پاکستان کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے پریس بریفنگ میں دو ٹوک واضح کر دیا کہ منصوبے کے حوالے سے عالمی دبائو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے' پاکستان کی طرف سے اس منصوبے پر ڈیڑھ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔علاوہ ازیں تین سالہ تجارتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت علاقائی تجارت میں اضافے کے لیے پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ برآمدات میں اضافے اور برآمد کنند گان کو مالی معاونت کی فراہمی کے لیے ایکسپورٹ امپورٹ بینک قائم کیا جائے گا۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں علاقائی تجارت کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔
یورپی یونین' آسیان' افریقی ممالک اور لاطینی امریکا کے ممالک کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں علاقائی تجارت کے ذریعے خوشحالی کے نئے باب رقم کیے جا رہے ہیں۔اس تناظر میں سارک ممالک بھی علاقائی تجارت کو فروغ دے کر اپنے ہاں پھیلی ہوئی بے روز گاری اور غربت پر قابو پا کر خوشحالی لا سکتے ہیں۔ سارک ممالک میں شریک دو بڑے ممالک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بعض دیرینہ تنازعات امن' دوستی اور تجارت کے بڑے پیمانے پر فروغ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے درمیان مسئلہ کشمیر ایک ایسا کور ایشو ہے جس پر دونوں ممالک ایک دوسرے سے جنگیں لڑ چکے ہیں اور اب بھی کنٹرول لائن پر فائرنگ کی گونج سے پورے خطے پر ایک اور جنگ کا خوف چھا جاتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھارت ایک بڑی معاشی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ علاقائی تجارت میں پاکستان کو اسی صورت زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو گا جب پاکستانی مال بھارتی مال سے کوالٹی میں بہتر اور قیمت میں ارزاں ہوگا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کو انرجی بحران کا سامنا ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے صنعتیں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ سرمایہ دار سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچتے ہوئے اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال روز بروز بگڑتی چلی جا رہی ہے۔ کراچی جو پاکستان کا تجارتی حب اور بڑی بندرگاہ ہے' آج دہشت گردی کا شکار ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب یہاں بے گناہوں کا خون نہ بہتا ہو۔
بھتہ خوروں نے سرمایہ داروں کو الگ سے پریشان کر رکھا ہے۔ اسٹریٹ کرائم نے روپے پیسے کی کھلے عام نقل وحرکت مشکل بنا دی ہے۔ حکمران دہشت گردی کی لہر کے آگے بے بس اور اسے روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی 30 جون 2012ء کو ختم ہونے والے مالی سال 2011-12ء کی جاری ہونے والی معاشی رپورٹ بھی مایوسی کے اعشاریے ظاہر کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو ہدف 4.2 فیصد کے مقابلے میں 3.7 فیصد رہی۔ حکومت اس سال بھی تجدید قرضہ ایکٹ 2005 پر عمل کرتے ہوئے سرکاری قرضوں کو جی ڈی پی کے 60 فیصد تک محدود رکھنے میں ناکام رہی اور ملکی قرضے 16 کھرب روپے کے اضافے سے جی ڈی پی کے 62.6 فیصد تک پہنچ گئے۔ ایسے میں علاقائی تجارت میں پاکستان کا کیا مقام ہو گا' لمحہ فکریہ ہے۔
دوسری جانب افغان حکام نے پاکستان سے سینٹرل ایشیا جانے والی برآمدی کنسائنمنٹ روک دی ہے جس سے کروڑوں روپے مالیت کے پھل اور دیگر خوردنی اشیا چمن بارڈر پر پھنس کر رہ گئی ہیں۔ تین روز سے چمن بارڈر پر پھنسی اس کنسائنمنٹ سے کروڑوں روپے کے پھل اور سبزیاں تلف ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کی مشرقی اور شمال مغربی سرحد سے تجارت تو ہورہی ہے مگر ان سرحدوں پر کشیدگی بھی ساتھ ساتھ برقرار ہے۔ علاقائی تجارت کی ترقی کی راہ میں اس بڑی رکاوٹ کو دور کرنا اشد ضروری ہے۔ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک بہتر مقام پر واقع ہے۔
اس کے پاس محنتی اور ہنر مند افرادی قوت بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے ایک طرف بھارت' بنگلہ دیش' سری لنکا تو دوسری جانب افغانستان' وسط ایشیاء' تیسری جانب مشرق وسطیٰ کے خوشحال ممالک تو چوتھی جانب چین جیسی خوشحال قوت موجود ہے۔ پاکستان ان تمام ممالک سے تجارت کے ذریعے خوشحالی کی منازل باآسانی طے کر سکتا ہے مگر پیشتر اس کے اسے اپنے ہاں توانائی کے بحران اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر قابو پانا ہو گا ورنہ علاقائی تجارت میں پاکستان کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا رہے گا۔