الزام تراشیوں سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی
بھارتی قابض افواج نے حالیہ دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کےعلاوہ براہ راست فائرنگ کرکےبلاتفریق100 کشمیریوں کوشہیدکیا
بھارتی قابض افواج نے حالیہ دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کےعلاوہ براہ راست فائرنگ کرکےبلاتفریق100 کشمیریوں کوشہیدکیا . فوٹو : فائل
اطلاعات ہیں کہ امریکا افغانستان میں اپنے مزید 4 ہزار فوجی اہلکار بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس کا اعلان آئندہ ہفتے تک متوقع ہے، اضافی امریکی اہلکار افغان فورسز کی تربیت کرینگے جب کہ دیگر امریکی فوجیوں کو طالبان اور داعش کے خلاف انسداد دہشتگردی کے آپریشن میں شامل کیا جائے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران کسی بھی ملک میں امریکی فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعیناتی ہوگی۔ افغانستان میں اس وقت امریکی فوجیوں کی تعداد ساڑھے 8 ہزار ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی جانب سے امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، یہ البتہ طے ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد کی رکن ریاستیں افغانستان میں اپنے فوجیوں میں اضافے کی خواہش رکھتی ہیں۔
امریکی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی کی نوعیت اور کردار کا تعین اب امریکی جرنیل کرینگے، جن کا الزام ہے کہ پاکستان وہاں جاری بغاوت کو کچلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکی آواز پر ہمیشہ لبیک کہنے والے زعما کے لیے یہ صورتحال چشم کشا ہونی چاہیے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہمیشہ فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر کام کیا ہے، جس قدر قربانیاں اس جہت میں پاکستان نے دی ہیں اتنی کسی اور ملک نے کاوش تک نہیں کی لیکن پھر بھی کچھ عاقبت نااندیش ریاستیں اپنے مذموم مقاصد اور کج فہمی کے باعث مسلسل پاکستان پر الزام تراشیوں سے باز نہیں آرہی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کہنا پڑا کہ اپنی ذمے داریوں سے آنکھیں بند کرکے صرف دوسروں پر الزام تراشی سے ہرگز دہشتگردی کو شکست نہیں دی جاسکتی، خطے کے چند کھلاڑی الزام تراشیوں کا سہارا لے رہے ہیں، خطے کے کچھ ممالک اپنی کمزوریوں کا الزام دوسروں کے سر پر ڈال دیتے ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا صائب ہے کہ بھرپور خطرے کو مربوط قومی جواب کی ضرورت ہوتی ہے، پاک فوج اس قسم کے جواب کے لیے ریاست کے تمام اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے، اپنی ذمے داریوں سے آنکھیں بند کرکے دہشتگردی کو شکست نہیں دی جاسکتی، دہشتگردی کا کوئی مذہب، فرقہ یا نسل نہیں ہوتی، پاکستان دہشتگردی کے خطرے سے بلاامتیاز لڑا، پاکستان آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔
زمینی حقائق یہی ہیں کہ جو ریاستیں پاکستان پر الزام تراشیوں کا وطیرہ اپنائے ہوئے ہیں درحقیقت ان ہی ریاستوں سے آنیوالے دہشتگرد عناصر پاکستان کی پرامن فضا کو سبوتاژ کیے ہوئے ہیں۔ جہاں ایک جانب بھارتی ایجنٹوں کی پاکستان میں مذمومانہ کارروائیاں دنیا پر عیاں ہوچکی ہیں، وہیں افغان بارڈر سے آنیوالے دہشتگردوں کی رپورٹس بھی میڈیا پر آچکی ہیں لیکن پھر بھی یہ ریاستیں اپنی روش سے پیچھے ہٹتی محسوس نہیں ہورہیں۔
دوسری جانب پاکستان کو مسلسل دہشتگردی کا سامنا ہے، ان شرپسند عناصر کو ناکام بنانے کے لیے پاک افواج، رینجرز اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے مکمل فعال ہیں۔ گزشتہ روز رینجرز نے یوم شہادت حضرت علیؓ پر ڈیرہ غازی خان میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 2 مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔ دوسری جانب بھارت کی اشتعال انگیز حرکتیں بھی جاری ہیں۔
گزشتہ روز بھارتی فوج کی کنٹرول لائن سماہنی سیکٹر کے سرحدی علاقوں بنڈالہ، ڈل کھمباہ، میلہ اور کوٹلی سماگوجراں پر شدید فائرنگ و گولہ باری سے خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔ پاک فوج نے موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی گنیں خاموش کرادیں جب کہ دشمن کے مورچوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
بھارتی بلااشتعال فائرنگ و گولہ باری کا سلسلہ آئے روز جاری ہے اور بھارت تمام حدود و قیود پھلانگتے ہوئے کنٹرول لائن پر غیر علانیہ جنگ مسلط کیے ہوئے ہے۔ کنٹرول لائن پر بسنے والے جہاں پاک فوج کے شابہ بشانہ ڈٹے ہوئے ہیں وہاں عالمی دنیا سے بھارتی جنگی جنون اور انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ جہاں ایک جانب کنٹرول لائن پر ضوابط کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے وہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم انتہا پر پہنچے ہوئے ہیں۔
پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حقیقت کو چھپانے کے لیے اسے دہشتگردی کا نام دے رہا ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں تیزی سے بگڑتی صورتحال، مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بنیادی آزادی سے انکار پر یو این انسانی حقوق کونسل کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
بھارتی قابض افواج نے حالیہ دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ براہ راست فائرنگ کرکے بلاتفریق 100 کشمیریوں کو شہید کیا، پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں کشمیریوں کو نابینا کردیا گیا۔ بھارت کے مظالم پوری دنیا پر عیاں ہیں لیکن بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کونسل کو اپنے بیان میں پھر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کشمیر میں دہشتگردی کرکے عدم استحکام کی صورتحال پیدا کررہا ہے۔ بھارت و افغانستان کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اب الزام تراشیوں سے باہر نکلنا ہوگا۔ دہشتگردی کا خاتمہ الزامات سے نہیں عملی اقدامات سے ہوگا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران کسی بھی ملک میں امریکی فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعیناتی ہوگی۔ افغانستان میں اس وقت امریکی فوجیوں کی تعداد ساڑھے 8 ہزار ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی جانب سے امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، یہ البتہ طے ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد کی رکن ریاستیں افغانستان میں اپنے فوجیوں میں اضافے کی خواہش رکھتی ہیں۔
امریکی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی کی نوعیت اور کردار کا تعین اب امریکی جرنیل کرینگے، جن کا الزام ہے کہ پاکستان وہاں جاری بغاوت کو کچلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکی آواز پر ہمیشہ لبیک کہنے والے زعما کے لیے یہ صورتحال چشم کشا ہونی چاہیے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہمیشہ فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر کام کیا ہے، جس قدر قربانیاں اس جہت میں پاکستان نے دی ہیں اتنی کسی اور ملک نے کاوش تک نہیں کی لیکن پھر بھی کچھ عاقبت نااندیش ریاستیں اپنے مذموم مقاصد اور کج فہمی کے باعث مسلسل پاکستان پر الزام تراشیوں سے باز نہیں آرہی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کہنا پڑا کہ اپنی ذمے داریوں سے آنکھیں بند کرکے صرف دوسروں پر الزام تراشی سے ہرگز دہشتگردی کو شکست نہیں دی جاسکتی، خطے کے چند کھلاڑی الزام تراشیوں کا سہارا لے رہے ہیں، خطے کے کچھ ممالک اپنی کمزوریوں کا الزام دوسروں کے سر پر ڈال دیتے ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا صائب ہے کہ بھرپور خطرے کو مربوط قومی جواب کی ضرورت ہوتی ہے، پاک فوج اس قسم کے جواب کے لیے ریاست کے تمام اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے، اپنی ذمے داریوں سے آنکھیں بند کرکے دہشتگردی کو شکست نہیں دی جاسکتی، دہشتگردی کا کوئی مذہب، فرقہ یا نسل نہیں ہوتی، پاکستان دہشتگردی کے خطرے سے بلاامتیاز لڑا، پاکستان آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔
زمینی حقائق یہی ہیں کہ جو ریاستیں پاکستان پر الزام تراشیوں کا وطیرہ اپنائے ہوئے ہیں درحقیقت ان ہی ریاستوں سے آنیوالے دہشتگرد عناصر پاکستان کی پرامن فضا کو سبوتاژ کیے ہوئے ہیں۔ جہاں ایک جانب بھارتی ایجنٹوں کی پاکستان میں مذمومانہ کارروائیاں دنیا پر عیاں ہوچکی ہیں، وہیں افغان بارڈر سے آنیوالے دہشتگردوں کی رپورٹس بھی میڈیا پر آچکی ہیں لیکن پھر بھی یہ ریاستیں اپنی روش سے پیچھے ہٹتی محسوس نہیں ہورہیں۔
دوسری جانب پاکستان کو مسلسل دہشتگردی کا سامنا ہے، ان شرپسند عناصر کو ناکام بنانے کے لیے پاک افواج، رینجرز اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے مکمل فعال ہیں۔ گزشتہ روز رینجرز نے یوم شہادت حضرت علیؓ پر ڈیرہ غازی خان میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 2 مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔ دوسری جانب بھارت کی اشتعال انگیز حرکتیں بھی جاری ہیں۔
گزشتہ روز بھارتی فوج کی کنٹرول لائن سماہنی سیکٹر کے سرحدی علاقوں بنڈالہ، ڈل کھمباہ، میلہ اور کوٹلی سماگوجراں پر شدید فائرنگ و گولہ باری سے خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔ پاک فوج نے موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی گنیں خاموش کرادیں جب کہ دشمن کے مورچوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
بھارتی بلااشتعال فائرنگ و گولہ باری کا سلسلہ آئے روز جاری ہے اور بھارت تمام حدود و قیود پھلانگتے ہوئے کنٹرول لائن پر غیر علانیہ جنگ مسلط کیے ہوئے ہے۔ کنٹرول لائن پر بسنے والے جہاں پاک فوج کے شابہ بشانہ ڈٹے ہوئے ہیں وہاں عالمی دنیا سے بھارتی جنگی جنون اور انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ جہاں ایک جانب کنٹرول لائن پر ضوابط کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے وہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم انتہا پر پہنچے ہوئے ہیں۔
پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حقیقت کو چھپانے کے لیے اسے دہشتگردی کا نام دے رہا ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں تیزی سے بگڑتی صورتحال، مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بنیادی آزادی سے انکار پر یو این انسانی حقوق کونسل کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
بھارتی قابض افواج نے حالیہ دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ براہ راست فائرنگ کرکے بلاتفریق 100 کشمیریوں کو شہید کیا، پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں کشمیریوں کو نابینا کردیا گیا۔ بھارت کے مظالم پوری دنیا پر عیاں ہیں لیکن بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کونسل کو اپنے بیان میں پھر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کشمیر میں دہشتگردی کرکے عدم استحکام کی صورتحال پیدا کررہا ہے۔ بھارت و افغانستان کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اب الزام تراشیوں سے باہر نکلنا ہوگا۔ دہشتگردی کا خاتمہ الزامات سے نہیں عملی اقدامات سے ہوگا۔