واٹر بورڈ افسر کے سرکاری خرچ پر 30 سے زائد ممالک کے دورے تحقیقات شروع
واٹربورڈ کی انتظامیہ اینٹی کرپشن کی جانب سے 2خط موصول ہونے کے باوجود بھی اس معاملے کا جواب دینے سے گریزکررہی ہے،ذرائع
واٹربورڈ کی انتظامیہ اینٹی کرپشن کی جانب سے 2خط موصول ہونے کے باوجود بھی اس معاملے کا جواب دینے سے گریزکررہی ہے،ذرائع
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر مشکورالحسنین کی جانب سے سرکاری خرچ پر30 سے زائد غیرملکی دورے کرنے کے الزام میں تحقیقات شروع کردی ہیں اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی انتظامیہ سے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر مشکورالحسنین کے تمام غیرملکی دوروں سمیت ان کی تعیناتیوں کی تمام تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کراچی اعجاز احمد عباسی کی جانب سے ایم ڈی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے نام تحریر کیے جانے والے خط میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر(پلاننگ) مشکورالحسنین نے10 سال کے دوران30سے زائد غیرملکی دورے کیے جن کے تمام اخراجات حکومت نے برداشت کیے جوکہ کسی بھی سرکاری افسر کی جانب سے کیے جانے والے غیرملکی دوروں کا ایک ریکارڈ ہے، خط کے مطابق گذشتہ سال مشکورالحسنین2مرتبہ سرکاری خرچ پر جرمنی گئے اور اس وقت بھی وہ برطانیہ کے دورے پر ہیں۔
واٹر بورڈ کی اعلی انتظامیہ کی جانب سے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر غیرملکی دورے کیلیے مشکورالحسنین کو نامزد کیے جانے کی وجہ سے ادارے کے دیگر اہل افسران اور ملازمین میں شدید بدلی پائی جاتی ہے، خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ سال2005میں مشکورالحسنین نے ایک حقدار افسر کو نظر انداز کرکے برطانیہ کے دورے کیلیے اپنے آپ کو نامزد کرایا، مشکوالحسنین نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ حب اور پپری فلٹریشن پلانٹ اور دیگر آلات کی انسپیکشن کیلیے برطانیہ جارہے ہیں۔
جبکہ اس وقت مشکورالحسنین کے تھری پروجیکٹ پر بطور چیف انجینئر تعینات تھے اور مذکورہ دونوں فلٹریشن پلانٹ پر انجینئر مشتاق میمن تعینات تھے، اس معاملے میں بے قاعدگی کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس مشینری کی انسپکشن کے نام پر برطانیہ کا دورہ کیا گیا وہ دورے سے پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی تھی۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کراچی اعجاز احمد عباسی کی جانب سے ایم ڈی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے نام تحریر کیے جانے والے خط میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر(پلاننگ) مشکورالحسنین نے10 سال کے دوران30سے زائد غیرملکی دورے کیے جن کے تمام اخراجات حکومت نے برداشت کیے جوکہ کسی بھی سرکاری افسر کی جانب سے کیے جانے والے غیرملکی دوروں کا ایک ریکارڈ ہے، خط کے مطابق گذشتہ سال مشکورالحسنین2مرتبہ سرکاری خرچ پر جرمنی گئے اور اس وقت بھی وہ برطانیہ کے دورے پر ہیں۔
واٹر بورڈ کی اعلی انتظامیہ کی جانب سے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر غیرملکی دورے کیلیے مشکورالحسنین کو نامزد کیے جانے کی وجہ سے ادارے کے دیگر اہل افسران اور ملازمین میں شدید بدلی پائی جاتی ہے، خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ سال2005میں مشکورالحسنین نے ایک حقدار افسر کو نظر انداز کرکے برطانیہ کے دورے کیلیے اپنے آپ کو نامزد کرایا، مشکوالحسنین نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ حب اور پپری فلٹریشن پلانٹ اور دیگر آلات کی انسپیکشن کیلیے برطانیہ جارہے ہیں۔
جبکہ اس وقت مشکورالحسنین کے تھری پروجیکٹ پر بطور چیف انجینئر تعینات تھے اور مذکورہ دونوں فلٹریشن پلانٹ پر انجینئر مشتاق میمن تعینات تھے، اس معاملے میں بے قاعدگی کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس مشینری کی انسپکشن کے نام پر برطانیہ کا دورہ کیا گیا وہ دورے سے پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی تھی۔