ملک میں نرسنگ کی اہمیت نہیں ملازمت نہیں ملتیپوزیشن ہولڈرز
کامیاب طلبا بھی ملازمت نہ ملنے پر بیرون ملک چلے جاتے ہیں،طلبا کے تاثرات
شہناز عبدالمالک، صاعقہ سلیم، رابعہ امین۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سندھ نرسنگ امتحانی بورڈ کراچی کے جاری کردہ پوزیشن ہولڈرزفہرست کے مطابق پوسٹ بیسک کارڈک نرسنگ ٹبا اسپتال کے منظور علی نے پہلی پوزیشن، قومی ادارہ امراض قلب کے اختر علی نے دوسری، لائف سیونگ کالج آف نرسنگ کے احمد صابر نے تیسری اور محمد قاسم نے بھی تیسری پوزیشن حاصل کی۔
0پوسٹ بیسک کمیونٹی ہیلتھ نرسنگ کے امتحانات میں شہزاد نے پہلی پوزیشن، اعزازاللہ نے دوسری، آصف الیاس اوربھرت لال نے تیسری پوزیشن حاصل کی،پوسٹ بیسک آئی سی یو کے امتحانات میں عمران نے پہلی،محمد احمد خان نے دوسری اورطاہرخان نے تیسری پوزیشن حاصل کی، پوسٹ بیسک (نفیسات) میں عبداللہ رحمن نے پہلی، حاکم علی نے دوسری، محمد فاروقی اور افتخار نے تیسری پوزیشن لی،پوسٹ بیسک پیڈیا ٹرکس میں ناصر علی اور محمد منیر نے پہلی، دوسری پوزیشن محمد شاہ ولی اورجہاں زیب نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
فرسٹ ایئرنرسنگ کے سالانہ امتحان میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی صبا نے پہلی پی این ایس شفا کی شائستہ نصیر نے دوسری، اسلامک مشن اسپتال کی فرحانہ اشرف نے تیسری پوزیشن حاصل کی،سیکنڈٖائیر نرسنگ میں پی این ایس شفا کی صائقہ سلیم پہلی، ضیاالدین اسپتال کی نورین نورعلی نے دوسری اورآغاخاں اسپتال کی انعم عامرعلی نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جنرل نرسنگ فائنل ائیر میں آغا خان یونیورسٹی کی شہنازعبدل ملک پہلی، آغاخان یونیورسٹی کی سونیہ نے دوسری اسلامک مشن اسپتال کی شکیلہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
نرس مڈوائف میں سول اسپتال کی روبینہ کومل نے پہلی،لیاقت نیشنل اسپتال کی رابیعہ امین نے دوسری، ضیا الدین اسپتال کی صبا نے تیسری پوزیشن حاصل کی،کمیونٹی مڈوائفری میں رابعہ حنیف نے پہلی، سندھ گورنمنٹ اسپتال نیوکراچی کی مصباح جبین نے دوسری، آغا خان اسپتال کی امبرین نے بھی دوسری، پبلک اسکول کراچی کی بتول فاطمہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی، پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کا کہنا تھا کہ ملک میں نرسنگ کے شعبے کی اہمیت نہیں لیکن بیرون ممالک میں ہیلتھ کئیر پرووائڈرز انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کامیاب نرسوں کی ملازمتیں نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں نرسیں ہر سال بیرون ممالک ملازمت کرلیتی ہیں، ان طلبہ وطالبات نے بتایا کہ ہمارے ملک میں صحت کے شعبے میں صرف ایم بی بی ایس کواہمیت دی جاتی ہے جبکہ تربیت یافتہ نرسیں اور پیرامیڈیکل عملہ 70فیصد کام کرتا ہے، تربیت یافتہ نرسوں کو ملازمت کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے یہی وجہ ہے کہ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں سے حکومت کے خرچ پر تین سال کی جنرل نرسنگ کی تربیت حاصل کی جاتی ہے لیکن ان کامیاب امیدواروں کو ملک میں ملازمت نہیں دی جاتی جس کے نتیجے میں ہر سال ملک سے تربیت یافتہ نرسیں بیرون ملک رخ کرتی ہیں۔
سندھ نرسنگ امتحانی بورڈ کراچی کے جاری کردہ پوزیشن ہولڈرزفہرست کے مطابق پوسٹ بیسک کارڈک نرسنگ ٹبا اسپتال کے منظور علی نے پہلی پوزیشن، قومی ادارہ امراض قلب کے اختر علی نے دوسری، لائف سیونگ کالج آف نرسنگ کے احمد صابر نے تیسری اور محمد قاسم نے بھی تیسری پوزیشن حاصل کی۔
0پوسٹ بیسک کمیونٹی ہیلتھ نرسنگ کے امتحانات میں شہزاد نے پہلی پوزیشن، اعزازاللہ نے دوسری، آصف الیاس اوربھرت لال نے تیسری پوزیشن حاصل کی،پوسٹ بیسک آئی سی یو کے امتحانات میں عمران نے پہلی،محمد احمد خان نے دوسری اورطاہرخان نے تیسری پوزیشن حاصل کی، پوسٹ بیسک (نفیسات) میں عبداللہ رحمن نے پہلی، حاکم علی نے دوسری، محمد فاروقی اور افتخار نے تیسری پوزیشن لی،پوسٹ بیسک پیڈیا ٹرکس میں ناصر علی اور محمد منیر نے پہلی، دوسری پوزیشن محمد شاہ ولی اورجہاں زیب نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
فرسٹ ایئرنرسنگ کے سالانہ امتحان میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی صبا نے پہلی پی این ایس شفا کی شائستہ نصیر نے دوسری، اسلامک مشن اسپتال کی فرحانہ اشرف نے تیسری پوزیشن حاصل کی،سیکنڈٖائیر نرسنگ میں پی این ایس شفا کی صائقہ سلیم پہلی، ضیاالدین اسپتال کی نورین نورعلی نے دوسری اورآغاخاں اسپتال کی انعم عامرعلی نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جنرل نرسنگ فائنل ائیر میں آغا خان یونیورسٹی کی شہنازعبدل ملک پہلی، آغاخان یونیورسٹی کی سونیہ نے دوسری اسلامک مشن اسپتال کی شکیلہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
نرس مڈوائف میں سول اسپتال کی روبینہ کومل نے پہلی،لیاقت نیشنل اسپتال کی رابیعہ امین نے دوسری، ضیا الدین اسپتال کی صبا نے تیسری پوزیشن حاصل کی،کمیونٹی مڈوائفری میں رابعہ حنیف نے پہلی، سندھ گورنمنٹ اسپتال نیوکراچی کی مصباح جبین نے دوسری، آغا خان اسپتال کی امبرین نے بھی دوسری، پبلک اسکول کراچی کی بتول فاطمہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی، پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کا کہنا تھا کہ ملک میں نرسنگ کے شعبے کی اہمیت نہیں لیکن بیرون ممالک میں ہیلتھ کئیر پرووائڈرز انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کامیاب نرسوں کی ملازمتیں نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں نرسیں ہر سال بیرون ممالک ملازمت کرلیتی ہیں، ان طلبہ وطالبات نے بتایا کہ ہمارے ملک میں صحت کے شعبے میں صرف ایم بی بی ایس کواہمیت دی جاتی ہے جبکہ تربیت یافتہ نرسیں اور پیرامیڈیکل عملہ 70فیصد کام کرتا ہے، تربیت یافتہ نرسوں کو ملازمت کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے یہی وجہ ہے کہ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں سے حکومت کے خرچ پر تین سال کی جنرل نرسنگ کی تربیت حاصل کی جاتی ہے لیکن ان کامیاب امیدواروں کو ملک میں ملازمت نہیں دی جاتی جس کے نتیجے میں ہر سال ملک سے تربیت یافتہ نرسیں بیرون ملک رخ کرتی ہیں۔