دہشتگرد بیگناہوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں محنتی
شہر مقتل گاہ بن گیا،وزیرداخلہ خوف پھیلا تے ہیں،حفاظتی اقدامات نہیں کرتے
شہر مقتل گاہ بن گیا،وزیرداخلہ خوف پھیلا تے ہیں،حفاظتی اقدامات نہیں کرتے۔ فوٹو: فائل
جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے مولانا عبدالمجید دین پوری، مفتی صالح اور مولانا حسان کی شہادت سمیت درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے اور کہاہے کہ شہر مقتل گاہ بن گیا ہے۔
دہشت گرد کھلے عام معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، شہریوں کی ہلاکت اور بوری بند لاشوں کی برآمدگی حکومت کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انھوں نے کہاکہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وزیرداخلہ عبدالرحمن ملک کراچی میں گھمسان کی جنگ کا الارم بجا کر شہریوں میں خوف و ہراس تو پھیلا دیتے ہیں مگر آگ اور خون کے کھیل کو روکنے کیلیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کرتے، حکومت کا کام محض خطرے کی گھنٹی بجانا نہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا بھی ہے۔
انھوں نے کہاکہ دہشت گردی اور قتل و غارت گری حکومت کی مفاہمانہ پالیسی کی وجہ سے ہے،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب دہشت گردوں کے سامنے بے بسی کا شکار ہیں، اگر کوئی دہشت گرد گرفتا ر بھی ہوتا ہے تو نہ اسے میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے نہ ہی اس پر مقدمہ قائم کیا جاتا ہے، روز12سے 15افراد کی ہلاکت حکومت کے غیر سنجیدہ ہونے کا ثبوت ہے۔
انھوں نے کہاکہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے تو شہر میںچند دنوں میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ دریں اثنامحمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل ایک قابل عمل منصوبہ ہے اسے اس بحران سے نکالنے میں حکومت کو سنجیدگی اورنیک نیتی سے اقدامات کرنا ہوں گے، جماعت اسلامی نے ہمیشہ پاکستان اسٹیل کے محنت کشوں کی جدوجہد کی حمایت کی ہے۔
دہشت گرد کھلے عام معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، شہریوں کی ہلاکت اور بوری بند لاشوں کی برآمدگی حکومت کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انھوں نے کہاکہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وزیرداخلہ عبدالرحمن ملک کراچی میں گھمسان کی جنگ کا الارم بجا کر شہریوں میں خوف و ہراس تو پھیلا دیتے ہیں مگر آگ اور خون کے کھیل کو روکنے کیلیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کرتے، حکومت کا کام محض خطرے کی گھنٹی بجانا نہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا بھی ہے۔
انھوں نے کہاکہ دہشت گردی اور قتل و غارت گری حکومت کی مفاہمانہ پالیسی کی وجہ سے ہے،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب دہشت گردوں کے سامنے بے بسی کا شکار ہیں، اگر کوئی دہشت گرد گرفتا ر بھی ہوتا ہے تو نہ اسے میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے نہ ہی اس پر مقدمہ قائم کیا جاتا ہے، روز12سے 15افراد کی ہلاکت حکومت کے غیر سنجیدہ ہونے کا ثبوت ہے۔
انھوں نے کہاکہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے تو شہر میںچند دنوں میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ دریں اثنامحمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل ایک قابل عمل منصوبہ ہے اسے اس بحران سے نکالنے میں حکومت کو سنجیدگی اورنیک نیتی سے اقدامات کرنا ہوں گے، جماعت اسلامی نے ہمیشہ پاکستان اسٹیل کے محنت کشوں کی جدوجہد کی حمایت کی ہے۔