لوٹ مار دہشت گردی شہریوں نے 8ہزار بیریئرز گلیوں میں لگالیے
شہر کے 60فیصد سے زائد علاقوں میں بیریئرزلگ گئے ، ان علاقوں میںمکانات کی قیمتیں اور کرایے بھی زیادہ ہیں
سول اسپتال کے سامنے گلی کے عقب میں حفاظتی اقدامات کے تحت لگایا گیا ایک بیریئر۔ فوٹو: ایکسپریس
کراچی میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے واقعات اور پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصرکی گرفتاری میںغفلت کے باعث شہری عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔
کراچی کے شہریوں نے پولیس پر بھروسہ کرنے کے بجائے ازخود اپنی حفاظت کیلیے اقدامات کرنے شروع کردیے ہیں ، شہرکے 60 فیصد سے زائد علاقوں میں شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بیریئرزلگا کر راستے بند کردیے ہیں، جن گلیوں میں بیریئرز لگے ہوتے ہیں ان گلیوں کے مکانات کی قیمتیں بھی زیادہ ہوتی ہیں ، تفصیلات کے مطابق کراچی میںگذشتہ کئی سال سے امن وامان کی مخدوش صورتحال اور ٹارگٹ کلنگ و اسٹریٹ کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر شہری عدم تحفظ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔
پولیس ان واقعات کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے جس کی وجہ سے شہریوں نے اپنی حفاظت کے لیے ازخود انتظامات شروع کردیے ہیں، ڈیفنس ،کورنگی ،لانڈھی ، ملیر، پی ای سی ایچ ایس ، ناظم آباد،نارتھ ناظم آباد ،گلبرگ ،لیاقت آباد ،عزیز آباد ،پی آئی بی کالونی ،شاہ فیصل کالونی ، رضویہ سوسائٹی ،ابوالحسن اصفہانی رو ڈ ،رنچھوڑلائن ،گارڈن سمیت دیگر علاقوں میں گلیوں اور محلوں میں بڑی تعداد میں حفاظتی بیریئرز لگائے گئے ہیں ، پولیس ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کی کارروائیوں سے محفوظ رہنے کے لیے شہریوں نے تقریباً ساڑھے 8ہزار سے زائد بیریئرزگلیوں میں نصب کیے ہیں۔
یہ بیریئرز مختلف ساخت اور مالیت کے ہوتے ہیں، کم سے کم ایک بیریئر کی تیاری پر 15ہزار اور زیادہ سے زیادہ 50 ہزار روپے لاگت آتی ہے ،متوسط طبقوں کے علاقوں میں گلیوں میں لگا ئے جانے والے بیریئرز شہریوں نے آپس میں چندہ کرکے لگائے ہیں،کراچی کے پوش علاقوں میں لگائے جانے والے بیریئرز کے علاوہ سیکیورٹی گارڈز رکھنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ، ڈیفنس ،کلفٹن ، پی سی ایچ ایس ، نارتھ ناظم آباد سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں نے مختلف گلیوں اور مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کررکھے ہیں۔
گذشتہ تین ماہ کے دوران بیریئرز کی قیمتوں میں 5سے 10ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے،شہر کے مختلف علاقوں میں بیریئرز لگانے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ، علاقے کو تمام گلیوں کے بیریئرز کی مدد سے بند کردیا جاتا ہے اور آمد و رفت کیلیے صرف ایک راستہ کھولا جاتا ہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ عدم تحفظ کے باعث ہم اپنی حفاظت خود کرنے پر مجبور ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ جن گلیوں میں بیریئرز لگے ہوتے ہیں،ان مکانات کی قیمتیں اور کرایے بھی دیگر گلیوں کی نسبت زیادہ ہیں ۔
کراچی کے شہریوں نے پولیس پر بھروسہ کرنے کے بجائے ازخود اپنی حفاظت کیلیے اقدامات کرنے شروع کردیے ہیں ، شہرکے 60 فیصد سے زائد علاقوں میں شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بیریئرزلگا کر راستے بند کردیے ہیں، جن گلیوں میں بیریئرز لگے ہوتے ہیں ان گلیوں کے مکانات کی قیمتیں بھی زیادہ ہوتی ہیں ، تفصیلات کے مطابق کراچی میںگذشتہ کئی سال سے امن وامان کی مخدوش صورتحال اور ٹارگٹ کلنگ و اسٹریٹ کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر شہری عدم تحفظ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔
پولیس ان واقعات کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے جس کی وجہ سے شہریوں نے اپنی حفاظت کے لیے ازخود انتظامات شروع کردیے ہیں، ڈیفنس ،کورنگی ،لانڈھی ، ملیر، پی ای سی ایچ ایس ، ناظم آباد،نارتھ ناظم آباد ،گلبرگ ،لیاقت آباد ،عزیز آباد ،پی آئی بی کالونی ،شاہ فیصل کالونی ، رضویہ سوسائٹی ،ابوالحسن اصفہانی رو ڈ ،رنچھوڑلائن ،گارڈن سمیت دیگر علاقوں میں گلیوں اور محلوں میں بڑی تعداد میں حفاظتی بیریئرز لگائے گئے ہیں ، پولیس ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کی کارروائیوں سے محفوظ رہنے کے لیے شہریوں نے تقریباً ساڑھے 8ہزار سے زائد بیریئرزگلیوں میں نصب کیے ہیں۔
یہ بیریئرز مختلف ساخت اور مالیت کے ہوتے ہیں، کم سے کم ایک بیریئر کی تیاری پر 15ہزار اور زیادہ سے زیادہ 50 ہزار روپے لاگت آتی ہے ،متوسط طبقوں کے علاقوں میں گلیوں میں لگا ئے جانے والے بیریئرز شہریوں نے آپس میں چندہ کرکے لگائے ہیں،کراچی کے پوش علاقوں میں لگائے جانے والے بیریئرز کے علاوہ سیکیورٹی گارڈز رکھنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ، ڈیفنس ،کلفٹن ، پی سی ایچ ایس ، نارتھ ناظم آباد سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں نے مختلف گلیوں اور مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کررکھے ہیں۔
گذشتہ تین ماہ کے دوران بیریئرز کی قیمتوں میں 5سے 10ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے،شہر کے مختلف علاقوں میں بیریئرز لگانے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ، علاقے کو تمام گلیوں کے بیریئرز کی مدد سے بند کردیا جاتا ہے اور آمد و رفت کیلیے صرف ایک راستہ کھولا جاتا ہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ عدم تحفظ کے باعث ہم اپنی حفاظت خود کرنے پر مجبور ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ جن گلیوں میں بیریئرز لگے ہوتے ہیں،ان مکانات کی قیمتیں اور کرایے بھی دیگر گلیوں کی نسبت زیادہ ہیں ۔