سندھ میں خسرہ علاقائی نہیں وبائی بیماری بن گئی
9 ماہ سے کم عمر بچے بھی ہلاک ہوئے،حلیم عادل نے رپورٹ صدرکو ارسال کردی
9 ماہ سے کم عمر بچے بھی ہلاک ہوئے،حلیم عادل نے رپورٹ صدرکو ارسال کردی ، فوٹو : اے ایف پی ، فائل
سندھ میں خسرہ ایک علاقائی نہیں بلکہ وبائی بیماری بن گئی ہے۔
صحت کے عالمی اداروں کے یہ اندازے بھی غلط ثابت ہوگئے ہیں کہ خسرہ کی بیماری 9 ماہ سے کم عمر کے بچوں کو نہیں لگتی ہے، سندھ میں9 ماہ سے کم عمر کے بچے بھی نہ صرف خسرہ سے متاثر ہوئے ہیں، بلکہ ہلاک بھی ہوئے ہیں، خسرہ کی سب سے بڑی وجہ غذا کی کمی ہے اور غذا کی کمی کا بنیادی سبب سندھ میں سیلاب اور بارشوں کی بڑی تباہی ہے، ایک اور بڑی وجہ مناسب ویکسی نیشن کا نہ ہونا ہے، خسرہ سے متاثرہ اور ہلاک ہونے والے 50 فیصد سے زائد بچوں کے کیس رپورٹ ہی نہیں ہوئے۔
یہ تشویشناک انکشافات ایک سرکاری رپورٹ میں کیے گئے ہیں، جو وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ریلیف حلیم عادل شیخ کے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد جاری کی گئی ہے، رپورٹ صدر آصف علی زرداری ، وزیر اعظم راجا پرویز اشرف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بھی ارسال کردی گئی ہے، حلیم عادل شیخ نے28دسمبر 2012 سے 25جنوری 2013 تک سندھ کے متاثرہ اضلاع سکھر،جیکب آباد، شکار پور،گھوٹکی، قمبر شہدادکوٹ ، ٹنڈوالہ یار،خیرپور اور دادو کا دورہ کیا تھا ۔
صحت کے عالمی اداروں کے یہ اندازے بھی غلط ثابت ہوگئے ہیں کہ خسرہ کی بیماری 9 ماہ سے کم عمر کے بچوں کو نہیں لگتی ہے، سندھ میں9 ماہ سے کم عمر کے بچے بھی نہ صرف خسرہ سے متاثر ہوئے ہیں، بلکہ ہلاک بھی ہوئے ہیں، خسرہ کی سب سے بڑی وجہ غذا کی کمی ہے اور غذا کی کمی کا بنیادی سبب سندھ میں سیلاب اور بارشوں کی بڑی تباہی ہے، ایک اور بڑی وجہ مناسب ویکسی نیشن کا نہ ہونا ہے، خسرہ سے متاثرہ اور ہلاک ہونے والے 50 فیصد سے زائد بچوں کے کیس رپورٹ ہی نہیں ہوئے۔
یہ تشویشناک انکشافات ایک سرکاری رپورٹ میں کیے گئے ہیں، جو وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ریلیف حلیم عادل شیخ کے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد جاری کی گئی ہے، رپورٹ صدر آصف علی زرداری ، وزیر اعظم راجا پرویز اشرف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بھی ارسال کردی گئی ہے، حلیم عادل شیخ نے28دسمبر 2012 سے 25جنوری 2013 تک سندھ کے متاثرہ اضلاع سکھر،جیکب آباد، شکار پور،گھوٹکی، قمبر شہدادکوٹ ، ٹنڈوالہ یار،خیرپور اور دادو کا دورہ کیا تھا ۔