کرم اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کے حملے

پاکستان کو اس حوالے سے اپنی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنا چاہیے

پاکستان کو اس حوالے سے اپنی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنا چاہیے ۔ فوٹو: فائل

پاکستان کی دو قبائلی ایجنسیوں میں افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی جسے پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔اخباری خبر کے مطابق کرم ایجنسی میں ٹی ٹی پی کے چار دہشت گرد مارے گئے جب کہ مہمند ایجنسی کی تحصیل خویزئی میں بھی دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

یہاں کتنے دہشت گرد مارے گئے 'ان کی تعداد کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی' بہرحال افغانستان کے علاقوں سے ہمارے قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے حملے نئی بات نہیں ہے' ایسے حملے اکثر اوقات ہوتے رہتے ہیں' ان حملوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ افغانستان کے ان علاقوں میں دہشت گرد موجود ہیں جو پاکستان کے قبائلی علاقوں سے جڑے ہوئے ہیں' ان حملوں سے دوسری حقیقت یہ واضع ہوتی ہے کہ افغانستان کی حکومت کا یا تو ان علاقوں پر کنٹرول نہیں ہے یا پھر افغانستان کے سرکاری عمال ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں' یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے بلاروک ٹوک پاکستانی سرحد تک آتے ہیں۔

گزشتہ دنوں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بھی پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے حوالے سے بات کی تھی' افغانستان کی حکومت اپنے ملک میں ہونے والے ہر بم دھماکے کا الزام پاکستان پر عائد کرتی ہے جب کہ حالت یہ ہے کہ افغانستان کے علاقوں سے دہشت گرد پاکستانی علاقوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور انھیں افغان سیکیورٹی فورسز روک نہیں رہیں' یہ افغانستان کی حکومت کی سراسر ناکامی ہے۔


پاکستان کو اس حوالے سے اپنی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنا چاہیے' گزشتہ دنوں بلوچستان کے شہر چمن کے دو دیہات میں مردم شماری کے معاملے پر افغانستان کی سیکیورٹی فورسز نے پاکستانی حدود میں آباد دیہاتیوں پر گولہ باری کی تھی جس سے جانی نقصان بھی ہوا تھا' اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے پاکستان کو افغانستان کی حکومت کے اقدامات پر نہیں رہنا چاہیے بلکہ افغانستان سے ملنے والی سرحد پر مزید سیکیورٹی اقدامات کرنے چاہئیں' افغانستان کی حکومت پر بھی دبائو بڑھانا چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں موجود دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرے۔

اگر افغان سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ادارے اپنا فرض ایمانداری کے ساتھ ادا کریں تو افغانستان میں موجود دہشت گرد کم از کم آزادی اور دیدہ دلیری سے پاکستانی علاقوں کی طرف آمدورفت کا سلسلہ منقطع کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس صورت حال کا امریکا اور نیٹو کو بھی نوٹس لینا چاہیے اور افغانستان کی حکومت پر دبائو بڑھانا چاہیے کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔

 
Load Next Story