فوج اور سول ادارے کوئی غیر آئینی کام نہ کریں سپریم کورٹ
کوئی ایسااقدام نہ کیاجائے جوالیکشن میں رکاوٹ کاسبب بنے،تحریری حکمنامہ،چیئرمین نیب کو4فروری کوطلب کرلیا
چیئرمین نیب نے اشتعال پھیلایا،عدالت پرکیچڑاچھالا،یہ زبان ناقابل برداشت ہے،چیف جسٹس،اعتراض ہے تو کرپشن کوقانونی حیثیت دیدیں پھرسب کی موج ہوجائیگی،جسٹس شیخ عظمت،آبزرویشن۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے چیئر مین نیب ایڈمرل(ر) فصیح بخاری کوتوہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا اور سول و فوجی اداروں،انتظامیہ کو چیئر میں نیب کی جانب سے صدرمملکت کولکھے گئے خط کی بنیاد پرغیرآئینی اقدام سے روک دیاہے۔
چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے آبزرویشن دی ہکہ خط کے پیچھے انتخابات کے التوایاکسی کے مزموم عزائم کارفرماہوسکتے ہیں ، عدالت نے چیئرمین نیب کے خط کواشتعال انگیزقراردیاہے اورحکم میں کہاہے کہ بینچ کی رائے میںچیئرمین نیب نے عدالت کے کام میں مداخلت اورکارروائی میں رکاوٹ ڈالی،عدالت کو کمزور اورعدالت کااختیار کم کرنے کی کوشش کی ہے،چیئرمین نیب نے خط کے ذریعے عدالت کواسکینڈلائزکیاہے اوربطور ادارہ سپریم کورٹ کیخلاف اشتعال پھیلاکرعوامی نفرت کوابھاراہے اورادارے پرعوام کے اعتمادکومتزلزل کرنے کی کوشش کی ہے۔
سپریم کورٹ نے سول اور فوجی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس خط کو بنیاد بنا کر کوئی ایسا اقدام نہ کریں جو آئین کے منافی ہو،عدالت نے تمام سول،و فوجی اداروں اورانتظامیہ کو غیر آئینی نظام وضع کرنے سے بھی روک دیاہے ۔تین رکنی بینچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اب جبکہ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت پروان چڑھ رہاہے اورپانچ سال کے بعدبہت جلد الیکشن ہونے والے ہیں اس صورتحال میں جمہوریت کے حوالے سے خدشات،جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے بارے اعلیٰ سیاسی لیڈروں اور پارلیمنٹرین کے بیانات اوراخباری تجزیے حیران کن ہیں اس لیے یہ عدالت حکم دیتی ہے کہ کوئی ایسااقدام نہ ہو جو الیکشن کے التوا کاباعث بن جائے۔
عدالت نے عدلیہ کے خلاف کسی ممکنہ ایکشن سے بھی خبردار کیا ہے اور قرار دیاہے کہ آئین سے روگردانی اور غیر آئینی نظام قبول نہیں کیاجائے گا۔جمعرات کو پراسکیوٹرجنرل نیب کے کے آغانے عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے چیئرمین نیب کی طرف سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط کی مصدقہ نقل پیش کی اورعدالت کی ہدایت پر خط کا متن پڑھ کر سنایا۔خط پڑھنے کے بعدچیف جسٹس نے پراسکیوٹر جنرل نیب سے استفسار کیااس خط کا مقصد کیا ہے؟چیئر مین نیب نے تو پورے سپریم کورٹ پر کیچڑ اچھالاہے۔
کے کے آغا کا کہنا تھاکہ وہ کسی کے ذہن کی بات کو نہیں پڑھ سکتے اس لیے وہ کوئی قیاس آرائی نہیں کریںگے تاہم انھوں نے کہا ہو سکتاہے چیئر مین نیب کو اعتراض ہو کہ انھیں کام کرنے نہیں دیاجارہاہے۔چیف جسٹس نے کہا اس خط کو دیکھنے کے بعد اس عدالت کی کیا عزت رہ گئی اور عوام میں کیا تااثر دیا گیاہے،چیف جسٹس نے کہایہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ قبل از الیکشن دھاندلی کررہی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت میں جب کوئی آتا ہے تو فیصلہ کرنا عدالت کی ذمے داری ہے،منتخب رکن پارلیمنٹ فیصل صالح حیات اورخواجہ آصف یہ معاملہ لے کر آئے تھے،انھوں نے کہا اس عدالت کے لیے عوام کااعتماد سب کچھ ہے لوگوں کااعتماد رہے گا تو وہ دادرسی کے لیے آئیں گے۔
چیف جسٹس نے کہاہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں اس اندازمیں عدلیہ کی توہین کیوں کی گئی اور چیئرمین اس انتہا پر کیوں گئے۔چیف جسٹس نے کہاسپریم کورٹ آئین کے تحت قائم ادارہ ہے ایک شخص اس طرح اس پر حملہ آور ہوںگے کہ سارے ادارے کو بدنام کیاجائے،انھوں نے کہا عدالت کے کسی فیصلے پر اگراعتراض ہوتواس کے لیے قانونی راستے موجود ہیں۔چیف جسٹس نے کہا آر پی پی کیس میں کمپنیوں نے خودتسلیم کیا کہ انھیں غیر قانونی ادائیگیاں ہوئیں اورایک کثیر رقم واپس بھی کی گئی،جب سپریم کورٹ نے کسی کالحاظ نہیں کیا تو وہ ادارہ جو کرپشن کی روک تھام کے لیے بناہے اس کی ہچکچاہٹ کی وجہ کیاہے۔
چیف جسٹس نے کہا لوگ سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں نہ صرف آرپی پی بلکہ کرپشن کے اور مقدمات میں بھی،بطور جج ہم انسان ہیں ہم سے بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن سپریم کورٹ کے ادارے کے بارے میں یہ زبان درست نہیں اورنہ ان چیزو ں کوبرداشت کیاجائے گا۔چیف جسٹس نے خالدانور سے مخاطب کرتے ہوئے کہاآپ روز اس عدالت میں اس لیے آتے ہوکہ آپ کواس عدالت پر اعتمادہے،خالد انور نے کہا ایسا نہیں ہو نا چاہیے تھا یہ خط ایک بدقسمت واقعہ ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہااگر کرپشن کے خلاف عدالت کے فیصلوں پر لوگوں کو اتنا اعتراض ہے توپھر قانون تبدیل کر کے بدعنوانی کو قانونی حثیت دی جائے اوریہ قرار دیا جائے کہ آج کے بعد کرپشن جرم نہیں،پھر نہ کوئی عدالت آئے گا اور نہ ہم فیصلے دیں گے سب کی موج ہوجائے گی۔
چیف جسٹس نے کہایہ جو سوچ اوریہ جو رویہ ہے اس کو روکنابہت ضروری ہوگیاہے۔عدالت نے اس کے بعد طویل حکم نامے میں رینٹل پاور پلانٹ پروجیکٹ کیس کی کارروائی کی پوری تفصیل قلمبند کی اور قرار دیا کیس کی سماعت کے دوران کمپنیوں نے رقوم واپس کی اورتسلیم کیا کہ رقم غیر قانونی طور پر جاری ہوئی،عدالت نے کیس نمٹاکر نیب کو کارروائی کاحکم دیا لیکن بار بار کے احکامات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیاکہ نیب جان بوجھ کر فیصلے پر عمل درآمدنہیں کر نا چاہتا،عدالت نے چیئر مین نیب اور دیگر افسران کو توہین عدالت کانوٹس جاری کیا لیکن چیئر مین نیب کے پیش ہونے پر اصرار نہیں کیا،پھر فیصل صالح حیات نے درخواست دائر کی کہ نیب نے رقم کی وصولی اور ضمانت کے بغیر کارکے کو پاکستان چھوڑنے کی اجازت دیدی ہے۔
اس موقع پر توہین عدالت کا سامنا کرنے والے افسران کامران فیصل اور اصغر کے وکیل نے بتایا کہ راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر افراد کے خلاف ریفرنس تیار کر دیا گیاہے لیکن اچانک ان افسران کو ہٹایا گیااور وجہ یہ بتائی گئی کہ سپریم کورٹ نے ان پر عدم اطمنان کیا ہے۔حکم میں مزید کہا گیا جب عدالت نے اس غلط بیانی کا نوٹس لیا تو فاروق ناصر اعوان نے انکشاف کیا کہ چیئر مین نیب کے نوٹ پر ان کو ہٹایا گیا،اس صورتحال میں عدالت نے انکوائری کا ریکارڈ دیکھنے کا فیصلہ کیا لیکن پراسکیوٹر جنرل نے اس پر اعتراض کیا اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا۔
عدالت نے اعتراضات پردلائل کے لیے سماعت ملتوی کر دی لیکن اس دوران ایک انکوائری افسر کامران فیصل مردہ پائے گئے،اس دوران چیئرمین نیب کا خط سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ لوگ الیکشن کا انتظار کررہے ہیں اور تمام سیاسی قوتیں عوام کی اس خواہش پر متحد و متفق ہیں،اس بارے فوج نے اپنی پوزیشن واضح کی ہے اور وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے لیکن سپریم کورٹ کا کردار غیر واضح ہے،خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک میڈیا گروپ سپریم کورٹ کو خوش کرنے کے لیے مہم چلا رہاہے کیونکہ اس گروپ کے ٹیکسوں کا ایک مقدمہ زیر التوا ہے۔
تین رکنی بینچ نے اپنے حکم نامے میںقرار دیا کہ عدالت عظمٰی نے31جولائی اور اس کے بعدمتعدد فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ،آئین کی بالادستی اور جمہوری نظم ہو گا،عدالت نے بارہاقرار دیا الیکشن میں کوئی تاخیر نہین ہونی چاہیے،شفاف ،منصفانہ ،آزادانہ اور آئین کے مطابق الیکشن میں کسی طرف سے رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی رکاوٹ کو برداشت کیا جائے گالیکن اس کے باوجودجمہوری نظام کے بارے خدشات اور وہ بھی اعلیٰ قدر سیاسی رہنماوں جیسے رضا ربانی کا بیان کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔
3نومبر2007کے مارشل لاسے پہلے بھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب اہم مقدمات زیر سماعت تھے جس میں اس وقت کے صدر پر ویز مشرف کی اہلیت کا معاملہ بھی شامل تھا لیکن عدلیہ کے خلاف سخت اقدام اٹھا کر ایمر جنسی کے نام پر مارشل لا نافذ کیا گیا،عدالت نے قرار دیا چاہے جو بھی صورتحال ہو آئین کا دفاع اور تحفظ اس عدالت کی ذمے داری ہے اور کسی کو آئین سے روگردانی کی اجازت نہیں د ی جائے گی،کوئی شخص نہ اس عدالت کی آئینی حثیت کم کر سکتا ہے نہ اسے نظر انداز کر سکتا ہے،کسی کو اس عدالت کی عزت اور وقار کے خلاف کام کرنے اور نفرت ابھارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔کیس کی مزید سماعت4فروری کو ہوگی،چیئر مین نیب کوخود پیش ہونے کاحکم دیاگیاہے۔
چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے آبزرویشن دی ہکہ خط کے پیچھے انتخابات کے التوایاکسی کے مزموم عزائم کارفرماہوسکتے ہیں ، عدالت نے چیئرمین نیب کے خط کواشتعال انگیزقراردیاہے اورحکم میں کہاہے کہ بینچ کی رائے میںچیئرمین نیب نے عدالت کے کام میں مداخلت اورکارروائی میں رکاوٹ ڈالی،عدالت کو کمزور اورعدالت کااختیار کم کرنے کی کوشش کی ہے،چیئرمین نیب نے خط کے ذریعے عدالت کواسکینڈلائزکیاہے اوربطور ادارہ سپریم کورٹ کیخلاف اشتعال پھیلاکرعوامی نفرت کوابھاراہے اورادارے پرعوام کے اعتمادکومتزلزل کرنے کی کوشش کی ہے۔
سپریم کورٹ نے سول اور فوجی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس خط کو بنیاد بنا کر کوئی ایسا اقدام نہ کریں جو آئین کے منافی ہو،عدالت نے تمام سول،و فوجی اداروں اورانتظامیہ کو غیر آئینی نظام وضع کرنے سے بھی روک دیاہے ۔تین رکنی بینچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اب جبکہ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت پروان چڑھ رہاہے اورپانچ سال کے بعدبہت جلد الیکشن ہونے والے ہیں اس صورتحال میں جمہوریت کے حوالے سے خدشات،جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے بارے اعلیٰ سیاسی لیڈروں اور پارلیمنٹرین کے بیانات اوراخباری تجزیے حیران کن ہیں اس لیے یہ عدالت حکم دیتی ہے کہ کوئی ایسااقدام نہ ہو جو الیکشن کے التوا کاباعث بن جائے۔
عدالت نے عدلیہ کے خلاف کسی ممکنہ ایکشن سے بھی خبردار کیا ہے اور قرار دیاہے کہ آئین سے روگردانی اور غیر آئینی نظام قبول نہیں کیاجائے گا۔جمعرات کو پراسکیوٹرجنرل نیب کے کے آغانے عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے چیئرمین نیب کی طرف سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط کی مصدقہ نقل پیش کی اورعدالت کی ہدایت پر خط کا متن پڑھ کر سنایا۔خط پڑھنے کے بعدچیف جسٹس نے پراسکیوٹر جنرل نیب سے استفسار کیااس خط کا مقصد کیا ہے؟چیئر مین نیب نے تو پورے سپریم کورٹ پر کیچڑ اچھالاہے۔
کے کے آغا کا کہنا تھاکہ وہ کسی کے ذہن کی بات کو نہیں پڑھ سکتے اس لیے وہ کوئی قیاس آرائی نہیں کریںگے تاہم انھوں نے کہا ہو سکتاہے چیئر مین نیب کو اعتراض ہو کہ انھیں کام کرنے نہیں دیاجارہاہے۔چیف جسٹس نے کہا اس خط کو دیکھنے کے بعد اس عدالت کی کیا عزت رہ گئی اور عوام میں کیا تااثر دیا گیاہے،چیف جسٹس نے کہایہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ قبل از الیکشن دھاندلی کررہی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت میں جب کوئی آتا ہے تو فیصلہ کرنا عدالت کی ذمے داری ہے،منتخب رکن پارلیمنٹ فیصل صالح حیات اورخواجہ آصف یہ معاملہ لے کر آئے تھے،انھوں نے کہا اس عدالت کے لیے عوام کااعتماد سب کچھ ہے لوگوں کااعتماد رہے گا تو وہ دادرسی کے لیے آئیں گے۔
چیف جسٹس نے کہاہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں اس اندازمیں عدلیہ کی توہین کیوں کی گئی اور چیئرمین اس انتہا پر کیوں گئے۔چیف جسٹس نے کہاسپریم کورٹ آئین کے تحت قائم ادارہ ہے ایک شخص اس طرح اس پر حملہ آور ہوںگے کہ سارے ادارے کو بدنام کیاجائے،انھوں نے کہا عدالت کے کسی فیصلے پر اگراعتراض ہوتواس کے لیے قانونی راستے موجود ہیں۔چیف جسٹس نے کہا آر پی پی کیس میں کمپنیوں نے خودتسلیم کیا کہ انھیں غیر قانونی ادائیگیاں ہوئیں اورایک کثیر رقم واپس بھی کی گئی،جب سپریم کورٹ نے کسی کالحاظ نہیں کیا تو وہ ادارہ جو کرپشن کی روک تھام کے لیے بناہے اس کی ہچکچاہٹ کی وجہ کیاہے۔
چیف جسٹس نے کہا لوگ سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں نہ صرف آرپی پی بلکہ کرپشن کے اور مقدمات میں بھی،بطور جج ہم انسان ہیں ہم سے بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن سپریم کورٹ کے ادارے کے بارے میں یہ زبان درست نہیں اورنہ ان چیزو ں کوبرداشت کیاجائے گا۔چیف جسٹس نے خالدانور سے مخاطب کرتے ہوئے کہاآپ روز اس عدالت میں اس لیے آتے ہوکہ آپ کواس عدالت پر اعتمادہے،خالد انور نے کہا ایسا نہیں ہو نا چاہیے تھا یہ خط ایک بدقسمت واقعہ ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہااگر کرپشن کے خلاف عدالت کے فیصلوں پر لوگوں کو اتنا اعتراض ہے توپھر قانون تبدیل کر کے بدعنوانی کو قانونی حثیت دی جائے اوریہ قرار دیا جائے کہ آج کے بعد کرپشن جرم نہیں،پھر نہ کوئی عدالت آئے گا اور نہ ہم فیصلے دیں گے سب کی موج ہوجائے گی۔
چیف جسٹس نے کہایہ جو سوچ اوریہ جو رویہ ہے اس کو روکنابہت ضروری ہوگیاہے۔عدالت نے اس کے بعد طویل حکم نامے میں رینٹل پاور پلانٹ پروجیکٹ کیس کی کارروائی کی پوری تفصیل قلمبند کی اور قرار دیا کیس کی سماعت کے دوران کمپنیوں نے رقوم واپس کی اورتسلیم کیا کہ رقم غیر قانونی طور پر جاری ہوئی،عدالت نے کیس نمٹاکر نیب کو کارروائی کاحکم دیا لیکن بار بار کے احکامات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیاکہ نیب جان بوجھ کر فیصلے پر عمل درآمدنہیں کر نا چاہتا،عدالت نے چیئر مین نیب اور دیگر افسران کو توہین عدالت کانوٹس جاری کیا لیکن چیئر مین نیب کے پیش ہونے پر اصرار نہیں کیا،پھر فیصل صالح حیات نے درخواست دائر کی کہ نیب نے رقم کی وصولی اور ضمانت کے بغیر کارکے کو پاکستان چھوڑنے کی اجازت دیدی ہے۔
اس موقع پر توہین عدالت کا سامنا کرنے والے افسران کامران فیصل اور اصغر کے وکیل نے بتایا کہ راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر افراد کے خلاف ریفرنس تیار کر دیا گیاہے لیکن اچانک ان افسران کو ہٹایا گیااور وجہ یہ بتائی گئی کہ سپریم کورٹ نے ان پر عدم اطمنان کیا ہے۔حکم میں مزید کہا گیا جب عدالت نے اس غلط بیانی کا نوٹس لیا تو فاروق ناصر اعوان نے انکشاف کیا کہ چیئر مین نیب کے نوٹ پر ان کو ہٹایا گیا،اس صورتحال میں عدالت نے انکوائری کا ریکارڈ دیکھنے کا فیصلہ کیا لیکن پراسکیوٹر جنرل نے اس پر اعتراض کیا اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا۔
عدالت نے اعتراضات پردلائل کے لیے سماعت ملتوی کر دی لیکن اس دوران ایک انکوائری افسر کامران فیصل مردہ پائے گئے،اس دوران چیئرمین نیب کا خط سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ لوگ الیکشن کا انتظار کررہے ہیں اور تمام سیاسی قوتیں عوام کی اس خواہش پر متحد و متفق ہیں،اس بارے فوج نے اپنی پوزیشن واضح کی ہے اور وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے لیکن سپریم کورٹ کا کردار غیر واضح ہے،خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک میڈیا گروپ سپریم کورٹ کو خوش کرنے کے لیے مہم چلا رہاہے کیونکہ اس گروپ کے ٹیکسوں کا ایک مقدمہ زیر التوا ہے۔
تین رکنی بینچ نے اپنے حکم نامے میںقرار دیا کہ عدالت عظمٰی نے31جولائی اور اس کے بعدمتعدد فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ،آئین کی بالادستی اور جمہوری نظم ہو گا،عدالت نے بارہاقرار دیا الیکشن میں کوئی تاخیر نہین ہونی چاہیے،شفاف ،منصفانہ ،آزادانہ اور آئین کے مطابق الیکشن میں کسی طرف سے رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی رکاوٹ کو برداشت کیا جائے گالیکن اس کے باوجودجمہوری نظام کے بارے خدشات اور وہ بھی اعلیٰ قدر سیاسی رہنماوں جیسے رضا ربانی کا بیان کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔
3نومبر2007کے مارشل لاسے پہلے بھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب اہم مقدمات زیر سماعت تھے جس میں اس وقت کے صدر پر ویز مشرف کی اہلیت کا معاملہ بھی شامل تھا لیکن عدلیہ کے خلاف سخت اقدام اٹھا کر ایمر جنسی کے نام پر مارشل لا نافذ کیا گیا،عدالت نے قرار دیا چاہے جو بھی صورتحال ہو آئین کا دفاع اور تحفظ اس عدالت کی ذمے داری ہے اور کسی کو آئین سے روگردانی کی اجازت نہیں د ی جائے گی،کوئی شخص نہ اس عدالت کی آئینی حثیت کم کر سکتا ہے نہ اسے نظر انداز کر سکتا ہے،کسی کو اس عدالت کی عزت اور وقار کے خلاف کام کرنے اور نفرت ابھارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔کیس کی مزید سماعت4فروری کو ہوگی،چیئر مین نیب کوخود پیش ہونے کاحکم دیاگیاہے۔