قومی اسمبلی سینیٹ کراچی کی صورتحال پر متحدہ و دیگر جماعتوں کا احتجاج

جعفراقبال،وزارت داخلہ ہماری نہیں،مشہدی،حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں تووزارت دی جائے ،رفیق جوانہ

سندھ حکومت ناکام،ایم کیوایم استعفے دے،جعفراقبال،وزارت داخلہ ہماری نہیں،مشہدی،حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں تووزارت دی جائے ،رفیق جوانہ فوٹو: اے پی پی/ فائل

سینیٹ اورقومی اسمبلی میں جمعرات کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور وزیر داخلہ رحمن ملک کے بیان پر حکومت کی اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔

علمائے کرام کے قتل پر (ن) لیگ ، ایم کیو ایم ، اے این پی ، جے یوآئی اور بی این پی نے ایوان بالا جبکہ کراچی میںخونریزی سے متعلق وزیر داخلہ کے بیان پر ایم کیوایم نے قومی اسمبلی سے واک آئوٹ کیا۔ ایوان بالا میںایم کیوایم کے سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ کراچی میں لوگ مارے جارہے ہیں، علماء کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے،(ن)لیگ کے جعفر اقبال نے کہاکہ سندھ حکومت کراچی کے شہریوں کو تحفظ فراہم نہ کرسکی،ایم کیوایم مخلص ہے تو حکومت سے استعفیٰ دے،اس پر طاہر مشہدی نے کہاکہ داخلہ کی وزارت ایم کیوایم کے پاس نہیں۔ (

ن) لیگ کے رکن رفیق جوانہ نے انھیں جواباً بتایا کہ اگرکراچی کے حالات ایم کیوایم کو وزارت داخلہ دینے سے ٹھیک ہوسکتے ہیں تو ہم ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم کو سندھ میں وزارت داخلہ دی جائے ۔ قائد ایوان جہانگیر بدر نے ایوان کو یقین دلایا کہ وزیر داخلہ آئندہ بدھ کو کراچی کی صورتحال پر ایوان کو ان کیمرہ بریفنگ دینگے۔ (ن)لیگ کے کامران مائیکل نے کہا کہ رحمن ملک نے بیان دیاکہ طالبان غیر مسلم ہیں ، انکے اس بیان سے پاکستان میںغیرمسلم اقلیتوں کی دل آزاری ہوئی،وزیر داخلہ اپنے بیان پر معافی مانگیں ، اس کے بعد انھوں نے ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔ پیپلزپارٹی کے اسلام الدین شیخ کامران مائیکل کو مناکر واپس لے آئے اور یقین دلایا کہ وہ وزیر داخلہ سے بات کرینگے۔




قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے رکن سید آصف حسنین نے کہا کہ فروری میں کراچی میں خوفناک دہشت گردی سے متعلق رحمن ملک کے بیان کے بعد لوگوں نے راشن ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے اور بچوں کو سکول نہیں بھیجا جارہا ، وزیر داخلہ کو اب خیال آیا کہ کراچی ہاتھ سے نکل رہا ہے اور ایم کیوایم چار سالوں سے ہرفورم پر یہ بات کہتی آرہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دہشتگردی روکنے کیلیے موبائل سروس بند کرنا کافی نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے، وزیر داخلہ کو ایوان میں طلب کرکے ان سے کراچی کے متعلق بیان پر وضاحت طلب کی جائے ، اس کے بعد ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔ اے این پی کی بشریٰ گوہر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیر داخلہ دہشت گردوں کیخلاف موثر کارروائی کریں ۔ دریں اثناء جے یوآئی اور بی این پی کے ارکان نے بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کیخلاف دونوں ایوانوں میں اپنا احتجاج رکھا اور واک آئوٹ کیا۔

Recommended Stories

Load Next Story