افغانستان میں دو پاکستانی سفارتی اہلکار لاپتہ

افغانستان میں صرف پاکستانی سفارتی اہلکار ہی اغوا ہوتے ہیں

افغانستان میں صرف پاکستانی سفارتی اہلکار ہی اغوا ہوتے ہیں . فوٹو : فائل

HYDERABAD:
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق افغانستان کے شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے دو اہلکار جان خان اور اعجاز خان بذریعہ سڑک پشاور آتے ہوئے 16جون سے لاپتہ ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی اہلکاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے افغان حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ افغان حکام نے پاکستانی دفتر خارجہ کو بتایا ہے کہ واقعہ کی جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں اور لاپتہ ہونے والے پاکستانی سفارتی عملہ کے دو اہلکاروں کی باحفاظت بازیابی کے لیے تین مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ افغانستان میں پاکستان کے سفارتی عملے کا اغوا یا لاپتہ ہونا ایک تشویشناک امر ہے۔

ان اہلکاروں کو کس نے اغوا کیا ابھی تک اس بارے میں معلوم نہیں ہو سکا' افغانستان میں اگرچہ بہت سے حکومت مخالف گروپ کام کر رہے ہیں لیکن شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان پاکستانی اہلکاروں کو افغان خفیہ ایجنسی نے اغوا کیا ہے' گزشتہ ماہ بھی کابل میں این ڈی ایس نے پاکستانی سفارتخانے کے دو اہلکاروں ویزا اسسٹنٹ حسن خانزادہ اور ڈرائیور منیر شاہ کو اغوا کر کے تین گھنٹے تک حراست میں رکھا اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ تب بھی پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا اور اہلکاروں کی حراست کو سفارتی آداب اور ویانا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔


آخر کیا وجہ ہے کہ افغانستان میں صرف پاکستانی سفارتی اہلکار ہی اغوا ہوتے ہیں وہاں اور دیگر ممالک کے سفارتی اہلکار بھی موجود ہیں لیکن کوئی انھیں اغوا نہیں کرتا۔ اس سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں کہ افغان حکومت اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے خلاف مہم چلا رہی ہیں اور پاکستانی سفارتی عملے کا اغوا بھی اسی کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔گزشتہ ماہ چمن کے سرحدی علاقے میں مردم شماری کے عملے کی حفاظت پر مامور پاکستانی اہلکاروں پر افغان بارڈر فورس کی فائرنگ سے 9پاکستانی شہری شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ افغان حکومت نے چمن سرحد کے ساتھ پاکستانی حدود میں واقع دو گاؤں کلی لقمان اور کلی جہانگیر کی ملکیت کا مسئلہ اٹھا دیا تھا۔ پاکستان کی مشرقی سرحد پر ایک جانب بھارتی فوج بلاجواز فائرنگ اور گولہ باری سے سرحدی صورت حال کشیدہ کیے ہوئے ہے تو دوسری جانب افغان فورسز اور ایجنسیاں پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔

افغان حکومت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس کے اس قسم کے شرانگیز اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہو گا جس کا فائدہ دہشت گرد قوتوں کو پہنچے گا جو پہلے ہی خطے کی سلامتی اور امن و امان کے لیے مسلسل درد سر بنے ہوئے ہیں۔ افغان حکومت اپنے علاقے میں پاکستانی سفارتی عملے کی حفاظت یقینی بنائے اور جو اہلکار اغوا ہوئے ہیں ان کی بازیابی کے لیے بھرپور اقدامات کرے اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی کو بھی پاکستان کے خلاف کارروائیوں سے باز رکھے۔
Load Next Story